خود کو بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں یار لوگ

خود کو بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں یار لوگ

پرانے زمانے کی کہاوتیں کبھی کبھی یاد آجاتی ہیں ۔ مثلاً ایک عرصہ سے سنتے آئے ہیں کہ ہر شیر فروش یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے ہاں سے خریدا جانے والا دودھ نہایت خالص ہوتا ہے ، اس دعوے کی ضرورت شاید اس دور میں صرف اس لئے پیش آئی ہوگی جب کہیں کہیں کئی نہ کوئی گوالا دودھ میں پانی ملا تا ہوگا ۔ اور یقینا خدا کا خوف رکھنے والے گوالوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہوتی ہوگی ۔ اس لئے بعض بے ایمانوں کی وجہ سے خالص دودھ کے دعویداروں کا وجود بھی ضروری بن گیا تھا ۔ بہرحال یہ تو گئے زمانوں کی بات ہے ، بلکہ وہ جو کہتے ہیں کہ ضرورت ایجا د کی ماں ہے تو اب گوالوں نے سائنٹفک طریقہ ایجاد کر لیا ہے اور سیدھے سیدھے کیمیکل ملا کر دودھ بنالیتے ہیں ۔ اتنا تکلف بہر حال وہ کر لیتے ہیں ، باقی کام وہ واشنگ پائوڈر ، فارملین (جو مردوں کے پوسٹ مارٹم میں استعمال ہوتا ہے ) اور غالباً کچھ خوردنی تیل وغیرہ ملا کر اتنا گاڑھا دودھ بنالیتے ہیں کہ عام لوگ اسے پہچان ہی نہیں سکتے ، اور خدا لگتی کہے تویہ جو ہم لوگوں نے تھوڑے ہی عرصے میںاللہ کی مخلوق میں جس رفتار سے اضافہ کر دیا ہے اور حالیہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق اب ملکی آبادی لگ بھگ 22کروڑ کے ہندسے کو چھونے لگی ہے تو ان کی دودھ ، دہی وغیرہ کی ضروریات کیسے پوری ہوںگی ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جس مصنوعی دودھ کی نہریں ہمارے ہاں بہنے لگی ہیں ، ان کی ضرورت بھی تو تھی ، خیر جانے دیجئے ، اور بات کو اصل موضوع کی جانب واپس لے جانے کی اجازت دیجئے یعنی پرانے زمانے میں جس طرح گوالے خالص دودھ کی فروخت کے دعوے کرتے تھے اسی طرح خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ایک با ر پھر دعویٰ کر دیا ہے (یہ دعوے وہ اکثر کرتے رہتے ہیں ) کہ صوبے میں ان کی حکومت نے دنیا کا مثالی بلدیاتی نظام نافذ کر دیا ہے اور یہ کہ دوسرے صوبوں نے اس ضمن میں مذاق کیا ہے اس پر مجھے روحی کنجا ہی کا شعر یاد آگیا ہے کہ 

خود کو بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں یا ر لوگ
حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی
ابھی چند روز پہلے ہی ایک خبر آئی تھی کہ بلدیاتی اداروں کو فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے جبکہ خود تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی بر ملا ایک ٹی وی انٹر ویو میں اس بات کو تسلیم کیا کہ بلدیاتی نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ممبران صوبائی اسمبلی ہیں۔ یہ تو خیر ان مشکلات کی بات ہے جو صوبے کی حکمران جماعت کے سربراہ خود تسلیم کرتے ہیں ، تاہم جہاں تک اس دعوے کا تعلق ہے کہ صوبے کا بلدیاتی نظام دنیا کے مثالی بلدیاتی نظاموں میں اعلیٰ ترین ہے تو اس پر نرم سے نرم الفاظ میں بھی اگر کوئی تبصرہ کیا جائے تو وہ ایک فلک شگاف قہقہہ ہی ہو سکتا ہے ۔ دراصل اس میں دعویٰ کرنے والوں کا بھی کوئی قصور نہیں ، ہمارے ہاں یہ رویہ عام ہے کہ اگر ہم کوئی منصوبہ بناتے ہیں ( چاہے پرائیویٹ سیکٹر ہی میں کیوں نہ ہو ) تو اسے اگر دنیا کا نہیں تو کم از کم ایشیاء کی سطح تک بزعم خود سب سے اعلیٰ قرار دینے کے دعوے ضرور کرتے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان بھر میں جو تعمیراتی منصوبے چل رہے ہیں ان میں سے لگ بھگ ہر دوسرے تیسرے منصوبے کے بارے میں اشتہارات کے ذریعے ایشیاء میں اپنی نوعیت کے واحد اور سب سے بڑے منصوبے ہونے کے دعوے عام ہیں۔ اس لئے اگر صوبے کے بلدیاتی نظام کو دنیا کے اعلیٰ ترین نظام سے تعبیر کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں تو چلئے تھوڑی دیر کیلئے اس دعوے کو تسلیم کرنے میں حرج ہی کیا ہے ، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسے جنرل مشرف کے دور کے بلدیاتی نظام کی نہایت بھونڈی شکل قرار دیا جائے تو شاید غلط نہ ہو ، اور جس طرح اس دور کے بلدیاتی نظام نے کرپشن کی جڑیں نہایت گہرائی میں پہنچا دی تھیں اسی طرح اب بھی کم وبیش وہی صورتحال ہے۔ اس کا واضح ثبوت شہر میں چلنے والے منصوبوں کی ناکامی ہے۔ شہر میں صفائی ستھرائی کا جس طرح بیڑہ غرق ہو رہا ہے اور معمولی بارش کے بعد جس طرح شہر میں سیلاب کی سی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے اس نظام کی رطب اللسانی کے دعوے اس سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ کئی سال سے شہر میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے مختلف دعوے کئے جاتے رہے ہیں اور چند سال پہلے ترکی کی ایک کمپنی کے ساتھ اس کوڑہ کرکٹ کو ری سائیکل کرکے اس سے بجلی پیدا کرنے کے بلند بانگ دعوے عام تھے' وہ نہ جانے کس کونے کھدرے میں پڑے ہیں اور اب ڈبلیو ایس ایس پی نام کے ایک ادارے کے ساتھ ایک جانب شہر کی صفائی کا معاہدہ کیاگیا تو دوسری جانب اسی ادارے کو پانی کی فراہمی کا ٹھیکہ دیاگیا جس نے نہ صرف پانی بلوں میں بے حد اضافہ کرکے شہریوں کو کربلا کی یاد دلا دی ہے تو ساتھ ہی شہر کی گندگی ٹھکانے لگانے کی قیمت بھی پانی کے بلوں کے ساتھ شہریوں سے وصول کرنا شروع کردی ہے جو عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ یہ تو صورتحال کی ایک معمولی جھلک ہے جبکہ نظام پر اعترضات اس قدر زیادہ ہیں کہ کئی کالموں کی ضرورت پڑے گی۔ مگر کالم کی تنگی آڑے آرہی ہے اس لئے باقی باتیں پھر کبھی۔ اس لئے حافظ شیرازی کے اس شعر پر ہی اکتفا کرتے ہیں کہ
شب تاریک وبیم موج و گردابے چنیں حائل
کجا دانند حال ماسبکساران ساحل ہا

متعلقہ خبریں