امن عمل کی حمایت کا اعادہ

امن عمل کی حمایت کا اعادہ

قومی سلامتی کمیٹی نے افغان امن عمل کی مکمل حمایت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغان عوام کی مرضی اور افغانستان کے تحت امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ارکان نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ افغان عوام کی مرضی اور افغانستان کے تحت امن عمل کی مکمل حمایت جاری رکھی جائے گی۔اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کی پالیسی پر گامزن رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان آمد اور سرحد پار فائرنگ بند ہونی چاہیے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت اکثر و بیشتر حوصلہ افزاء نہیں رہتی اس وقت دو سال بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات کے احیاء کی بات چیت جاری ہے ۔ افغانستان کے داخلی اور اندرونی معاملات کا حل وہاں کی حکومت او ر عوام ہی کی ذمہ داری ہے ان معاملات کے حوالے سے جس قدر احتراز کی پالیسی اختیار کی جائے اتناہی بہتر ہوگا لیکن مثبت اور اعانت پر مبنی مساعی میں حرج نہیں بلکہ نیک نیتی کے ساتھ اعانت پر مبنی معاملات دونوں ممالک کیلئے احسن اور ایک دوسرے کے قریب آنے کا سبب ہو سکتے ہیں علاوہ ازیں چونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور لاکھوں افغان مہاجرین برسوںسے آج بھی پاکستان میں مقیم ہیں دونوں ممالک کے حالات کا بھی ایک دوسرے پر اثرات مرتب ہونا فطری امرہے۔ افغان امن عمل کی پاکستان کی جانب سے ہروقت مکمل حمایت اور اعانت ہوتی رہی ہے اس مرتبہ بھی اس عمل کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے اس ضمن میں اعانت اور مشاورت اسی صورت ہی میں ممکن ہے جب افغان حکومت کی جانب سے اس کی خواہش کا اظہار کیا جائے افغان حکومت کی جانب سے امن عمل میں پاکستان سے رہنمائی مشاورت اور اعانت پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے بلکہ مشکل امر یہ ہے کہ افغان حکمرانوں کو بسا اوقات پاکستان کی نیت پر شک گزرنے لگتا ہے اور بعض اوقات تو وہ الزام تراشی پر بھی اترآتے ہیں اور اپنے داخلی حالات کی سنگین صورتحال کا ذمہ دار پڑوسی ممالک کو گردانتے ہیں یہ وہ مشکل صورتحال ہے جس کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی وہ فضا پیدا نہیں ہو پاتی جو دونوں ممالک کیلئے ضروری ہیں افغان حکام کو اس کے باوجود شکایات رہتی ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے بعض اندرونی حالات میں حیرت انگیز مماثلت رہتی ہے ۔ اگر حال ہی پر نظر دوڑائیں تو پاکستان کو راجگال کے دشوار سرحدی علاقوں میں داعش اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مشکل آپریشن کرنا پڑا یہی عناصر سرحد پار افغانستان میں بھی موجودہیں اوران کی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی ہیں یوں مشترکہ دشمن اور مماثل مشکل سے نبر د آزمائی ہے جس میں دونوں ممالک کو باہم تعاون اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی کی ضرورت تھی مگر پاکستان کی جانب سے مئوثر کارروائیوں کے باوجود افغانستان کی طرف سے اپنے سرحدی مقامات پر ان عناصر کا صفایا کرنے کی کوئی سعی ریکارڈ پر نہیں۔ انہی دنوں داعش کی افغانستان کے بعض اضلاع میںکارروائیاں بھی سامنے آئیں ہمارے تئیں جن معاملات پر پاکستان اور افغانستان کے حکام متفق نہیں ان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے معاملات اور حالات میں جو مشترکہ ہوں کی حد تک تو کم از کم تعاون کی فضا ہونی چاہیئے۔ دونوں ممالک کے درمیان بعد ہی کا سبب ہے جس کی بناء پر دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں میں اس قسم کے عناصر کی مراجعت سامنے آئی ہے اور بعض اوقات ان عناصر کی سر گرمیوں اور کارروائیوں کی بناء پر دونوں ممالک غلط فہمیوں کا بھی شکار ہوتے ہیں بہرحال اس خصوصی صورتحال کے بر عکس عمومی طور پر بھی دونوں ممالک کے درمیان جس تعاون اور اعتماد پر مبنی تعلقات کی ضرورت ہے اس کا کم ہی احساس پایا جاتا ہے اس ضمن میں چونکہ شکایات دوطرفہ ہیں اس لئے دونوں ممالک کے حق میں بہتر یہی ہوگا کہ وہ اپنی اپنی ترجیحات کا تعین اس طور کر لیں کہ تحفظات و تضادات کی نوبت نہ آئے ۔ دونوں ملکوں کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیئے کہ پڑوسیوں کے درمیان تعلقات صرف حکومتی سطح پر نہیں ہوتے بلکہ عوامی سطح پر بھی اس کے اثرات سامنے آتے ہیں اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ دونوں ممالک کے عوام کی اکثریت اخوت و برادری پر مبنی تعلقات کے قیام کی متمنی ہے لیکن ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو نفرت و عناد کے یبج بوتے ہیں ایسے میں اگر حکمرانوں کی جانب سے بھی تحفظات پر مبنی پالیسیاں اختیار کی جائیں تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اعتماد کبھی پیدا نہیں ہوگا نتیجتاًکم و بیش جاری صورتحال اور کشیدگی پر مبنی حالات ہی خطے کے عوام کا مقدر بنا رہتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی صورتحال کا جب تک رہتی ہے تب تک حالات میں بہتری ممکن نہیں ۔ پاکستان کو جو سب سے بڑی شکایت افغانستان سے ہے وہ یہ کہ افغانستان میں را کو پاکستان کے خلاف کھیل کھیلنے کا دل کھول کر موقع دیا جاتا ہے اگر افغانستان کی حکومت اس ایک معاملے کا سنجیدگی سے تدارک کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ اعتماد کی فضا پیدا نہ ہو ۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی بحالی میں دوسال کا وقفہ از خود اس امر کیلئے کافی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو باہم تعلقات بہتر بنانے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان میں افغان عوام کی مرضی کی حکومت کا نہ ہونا وہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کے باعث گزشتہ تیس سالوں سے زائد عرصہ سے نہ صرف افغانستان از خود داخلی عدم استحکام کا شکار ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی اس کے اثرات پڑرہے ہیں افغانستان میں حالات کی بہتری کیلئے امریکہ اور پاکستان کی طرف دیکھنے کی بجائے افغان حکمرانوں کو از خود اپنے داخلی قوتوں سے معاملت کی ضرورت ہے ۔ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا تب تک دیگر ممالک چاہیں بھی تو افغانستان میں قیام امن اور داخلی استحکام نہیں آسکتا ۔

متعلقہ خبریں