قول وفعل کا تضاد

قول وفعل کا تضاد

احتساب اور بد عنوان عناصر کو بے نقاب کرنے کا عزم بار بار کرنے والی جماعت سے الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی فنڈز کی تفصیلات اکیس بار مانگنے اور مذکورہ جماعت کے وکیل کی جانب سے چار بار تحریری یقین دہانی کے باوجود تفصیلات کی عدم فراہمی قول وفعل میں تضا د ہی کا باعث امر نہیں بلکہ اس سے اس امر کا گمان گزرتا ہے کہ مذکورہ جماعت کے پاس الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرنے کیلئے کوئی ایسی دستاویز ات موجود نہیں جو غیر ملکی فنڈلینے کے الزام کو رد کر نے کیلئے کافی ثبوت ہوں۔ بجائے اس کے کہ کمیشن سے تعاون کیا جائے تحریک انصاف کاالٹا الیکشن کمیشن پر تعصب کا الزام لگا دینا نا مناسب رویہ ہے ۔ تحریک انصاف کی جانب سے معاملے کو اعلیٰ عدالت لیجانے کا حق ضرور حاصل ہے لیکن تاخیری حربے کے طور پر ایسا کرنا از خود اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے کے مترادف ہے بہر حال جو معاملہ اس وقت ا لیکشن کمیشن میں زیر بحث ہے اس میں اپنی جماعت کو کلیئر کرانے کے لئے طلب کردہ ضروری دستاویزات جمع نہ کرانے کا کوئی جواز نہیںمستزاد ادارے کو مطعون کرنا تو کسی طور مناسب نہیں ۔ جن امور پر دوسری جماعتوں پر تنقید کی جاتی ہے اگر وقت آنے پر وہی رویہ تنقید کرنے والے خود اختیار کریں تو عوام میں اس کا کیا تاثر ہوگا ۔ ہمارے تئیں جتنے بھی سیاسی نوعیت کے مقد مات اور وہ مقدمات جن میں سیاستدان ملوث ہوں متعلقہ اداروں اور عدالتوں کو ترجیحی بنیادوں پر چلاکر فیصلہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں سیاسی اداروں پر عوام کا اعتماد بحا ل ہو ۔ علاوہ ازیں ایسا کرنے سے جملہ سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنمائوں کا کردار عمل عوام کے سامنے آئے گا اور عوام کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی ۔
حیات آباد میں نکاسی آب اور صفائی کے مسائل
حیات آباد میں صفائی ونکاسی آب کا نظام ڈبلیو ایس ایس پی سے لیکرپی ڈی اے کو تفویض کرنے سے وہاں کے مکینوں کی جانب سے بجاطور پر صفائی و نکاسی آب کے نظام میں بہتری کی توقعات کا اظہار تھا لیکن گزشتہ روز کی اشاعت میں حیات آباد فیز6 ایف 9 میں نکاسی آب کے نظام کی ابتری کی جو تصویر سامنے آئی ہے وہ اہالیان حیات آباد کے توقعات کے سر اسر بر عکس او رپی ڈی اے کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ اکثر و بیشتر گھروں سے پانی بہنے کے باعث سڑکوں پر پانی جمع ہونے ، خالی پلاٹوں میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ، سڑکوںپر پلاسٹک بیگز اور ریپر ز کے ڈھیر لگنے کی شکایات بھی اپنی جگہ ، لیکن نکاسی آب کا سڑکوں پر بہنا اور سڑکوں پر پانی کا جمع ہونا ڈینگی کی و باء کے تناظرمیںخاص طور پر فوری توجہ حا مل معاملہ ہے صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی صفائی و بہتری پر اس لئے بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ابھی قربانی کے جانوروں کی خریداری اور جانوروں کو لانے اور رکھنے کا عمل شروع ہونے والا ہے اگر ابھی سے اس طرح کی صورتحال ہے تو آگے چل کر کیا ہوگا ۔ اس ضمن میں شہریوں کی غفلت اور عدم تعاون سے بھی صرف نظر ممکن نہیں مگر چند ایک افراد کے رویے کو عمومی رویہ گردانا نہیں جا سکتا بلکہ جہا ں پی ڈی اے کے عملے کواپنی ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود شہریوں کی طرف سے عدم تعاون کے باعث مشکلات درپیش ہوں وہاں متعلقہ قوانین کے تحت شہریوں کا چالان اور جرمانہ ہونا چاہیئے ۔ حیات آباد میں خالی پڑے پلاٹ گندگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں خالی پلاٹوں کی صفائی پر توجہ کے ساتھ ساتھ اس کے مالکان پر بھی اضافی چاجز لگائے جائیں اور وصول شدہ فنڈ کو صفائی کے نظام کو بہتر بنانے پر خرچ کیا جائے ۔

متعلقہ خبریں