خاندانی سیا ست کے اثرات

خاندانی سیا ست کے اثرات

پاکستان ہی کیا اگر جنو بی ایشیا کے خطے میں پنپنے والی سیاست کاجا ئزہ لیا جا ئے تو کوئی ایک دہا ئی سے یہاں پا رٹیو ں میں خاندانی سیا ست کے ہی اثرات ہیں جس کی بنیا دی وجہ لیڈر شپ میں شخصیت پر ستی کا عنصر نمایاں رہا ہے ، سری لنکاہو ، بنگلہ دیش ہو یا بھارت سب میں خاندانی سیا ست ہی کا شہر ہ ہے ۔سیا سی جماعتو ں کا وجود اس کے اساس پر محض ہی ہے ۔ بہرحال جہا ں حالا ت اس امر کے غما زی ہو ں کہ سیاست ایک تحریک کی بنیا د ہو تو ایسے جگہوں پر سیا ست شخصیت پر ستی کی اسیر ہو کر رہ جا تی ہے ، قیا م پا کستان کی تحریک نے مسلم لیگ کو سیا سی جما عت نہ بننے دیا پاکستان کے قیا م کے بعد اس کا کردار حکومت سازی میں بھی ایک تحریک کی طر ح ہو کر رہ گیا جس نے بہت سے بحرانو ں کو جنم دیا یہی صورت کچھ اے این پی کی سی بھی ہے۔اے این پی جو پاکستان کے قیا م کے بعد سے مختلف نا مو ں سے دوچار ہوتی رہی مگر اس میں شامل سبھی ایک ہی سیا سی مکتبہ فکر کے افراد ہیں اور اسی مکتبہ فکر کی بنیا د پر اس جما عت میں یکسوئی پائی جاتی ہے گو اس کے اکا برین کا ادعا ہے کہ یہ ملک کی واحد منظم جما عت جمہو ری اور تر قی پسند جما عت ہے جمہوری جما عت کے دعویٰ کو ایک حد تک تسلیم کیاجا سکتا ہے مگر ترقی پسند ی کا دھبہ مشکوک ہے کیو ں کہ یہ جماعت شروع سے ادعا تو کسان اور غریب و مزدور کے حقوق کے تحفظ کا کرتی رہی لیکن وہ عمل پیر ا قدیم پختون ثقافت پر رہی ہے اور پختو ن معاشرہ مختلف طبقوں پر مشتمل ہے اسی وجہ سے اے این پی کی سیاست باچا خان کے خاندان کی قیادت سے باہر نہ آسکی سیا ست اور حکمر انی ہمیشہ باچا خان کے خاند ان کی باندی ہی رہی ماسوائے ایک مرتبہ جب اجمل خٹک کو قیا دت سونپی گئی تاہم ان کے ہا تھ اس قیادتی دور میں جس طرح بندھے رہے اسی کا رد عمل تھا کہ اجمل خٹک نے دور آغاز میں علم بغاوت بلند کیا ، لیکن شخصیت پر ستی کے اثرات کی بناء پر اجمل خٹک کی بغاوت کا م نہ آسکی۔اور وہ بغاوت کے پچھتا وے کا بوجھ لے کر پلٹ آئے۔ایک با ت اے این پی کی خوب صورتی میں چار چاند لگا ئے ہوئے ہے کہ مرکزی قیادت سے ہٹ کر باقی ساتھ پر جمہو ری اقدار موجو د ہیں اور عہدے منتخب ہو تے ہیں گو اس میں بھی باچا خان کے خاندان کا اثر رسوخ کا ر گر ہوتا ہے ، اے این پی میں سیاست یا پار ٹی کے مقاصد کے لیے قربانی دینے والو ں کی کمی نہیں ہے ماضی میں تو یہ صورت حال رہی ہے کہ اگر پارٹی کا کوئی کا رکن جیل کی ہوا کھا کر نہیں آیا تو وہ پارٹی میں بھی سر خ رو نہیں ہو سکا ، یہا ں وہی اتنا بڑا سرخ رو ہوتا جتنا بڑا عرصہ پا رٹی کی تحریک میں جیل کاٹتا، قدر منزلت اسی میں تھی ، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ جماعت قربانیاں دینے والو ں سے بھری پڑ ی ہیں اس میں کمی نہیں ہے ۔قربانیا ں دینے میں ایک دوسرے سے آگے ہی رہتے تھے اس میں چھو ٹے بڑے سبھی رہنما شامل تھے ۔ اے این پی کے ہمد رد و ں کے لیے خوشخبری ہے کہ پارٹی کے دوبڑے خاندانی لیڈروں میں صلح کی نو ید ملی ہے اور کہا جارہا ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں اے این پی بیگم نسیم ولی اور اے این پی اسفند یا ر ولی گر وپ ایک دوسرے میں ضم ہو نے کا باقاعدہ اعلا ن کردیں گے اس طرح تفرقہ ختم ہو جا ئے گا کوئی پانچ سال پہلے بیگم ولی خان جو سیا ست سے ریٹائرڈ زندگی گزاررہی تھیں انہو ں نے گزشتہ انتخابات میں اے این پی کی نا کامی پر اسفند یار کو مو رد الزام ٹھہر اتے ہو ئے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کااعلا ن کیا تھا مگر اے این پی میں دوسری اور تیسری سطح پر جمہو ری اقدا ر کی پا سداری رہی ہے اس وجہ سے بیگم ولی خان کے ساتھ پا رٹی کی کوئی اہم شخصیت کھڑی نہیں ہوئی ماسوائے فرید طوفان کے جن کی پارٹی رکنیت دس سال کے لیے منسوخ کردی گئی ہے ، فرید طوفان کی پا رٹی کے لیے خدمات نا قابل فرامو ش ہیں مگر ان پر پابندی سیا سی وجو ہ کی بنا پر لگا ئی گئی تھی کیو ں کہ پا رٹی کے ایک مرکزی رہنما افراسیا ب خٹک کے امریکائی دوروں کے دوران ان کی سوچ وفکر میں یہ بھٹا دیا گیا تھا کہ امر یکا دنیا میں سب سے بڑا سیکولر اور جمہو ری ملک ہے وہ دنیا میں اسی فکر کا نفاذ بھی چاہتا ہے اور اسی فلسفہ کے حامیوںکا تعاون گر بھی ہے چنا نچہ اس فکر سے ہم آہنگی کی رکا وٹیں دور کرنے کی غرض سے بیگم نسیم ولی خان اور فرید طوفان کا پتا کا ٹ گیا تھا ۔ سیا ست میں یہ ہی ظاہر کیا جا تا رہا کہ اسفند یا ر ولی اور بیگم نسیم ولی کے درمیان کچھ خاندانی اختلا فات ہیں جس کی وجہ سے بیگم نسیم ولی خان نے پا رٹی کی تشکیل نو کی ہے ، آپ اے این پی کی نظریا تی اور فکر سیا ست سے کتنا ہی اختلا ف کریں تاہم یہ بات یقین سے کی جاتی ہے کہ خاندانی جھگڑوں کو پا رٹی سیاست میں نہیں استعمال کیا جاتا اور نہ پا رٹی کو اس میںگھسیٹا جا تا ہے چنا نچہ یہ کہنا کہ بیگم نسیم ولی خان نے خاندانی تنا زعہ کی بنا ء پر پارٹی میں گروپ بندی کی بہت گھٹیا سوچ اورالزام ہے ۔ بیگم ولی خان نے پارٹی کی تشکیل نو کے وقت ان عوامل کا ذکر کردیا تھا جس کی بنا ء پر انہو ں نے پا ر ٹی کی تشکیل نو کی تھی ۔ پاکستان میں لا تعدا د قوم پر ست جما عتیں ہیں ان میں سب سے زیا دہ صوبہ سند ھ میں ہیں لیکن کہیں بھی ان جما عتو ں کو ایسی عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہے کہ انتخابات میں قابل ذکر کا میا بی حاصل کر سکیں پورے پا کستان میں اے این پی اس اعزا ز کی حامل ہے اور اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ صوبہ کے پی کے میں یہ واحد قوم پر ست جماعت رہی ہے او راس کی سیا ست کا محور علاقائی رہا ہے ویسے پاکستان میں خود کو قوم پر ست کہلو انے والی جما عت کا کر دار قوم پر ستی نہیں بلکہ علاقائی پر ستی رہا ہے ، اس وقت صوبہ کے پی کے میں قومی وطن پارٹی بھی کا میا بی سے کا م کر رہی ہے مگر اس کا کردار علا قائی پرستی نہیں ہے بلکہ ملک گیر قومی ہے گویا اس مر تبہ اے این پی کو آئند ہ انتخابات میں قومی وطن پارٹی سے سخت مقابلہ کا سامنا ہو گا ، ان کے لیے وقت کا تقاضا یہ ہی تھاکہ وہ اپنی دھڑلے بندی ختم کر دیں اب قیا م پا کستان سے پہلے کی دھڑے بازی کی سیا ست کا دور بھی نہ رہا کہ جب اپنے حریفو ں کے ساتھ دھڑے بازی کیا کر تی تھیں ۔

متعلقہ خبریں