آنکھوں دیکھا حال

آنکھوں دیکھا حال

صبح کی سیر کے راستے میں ایک بندہ خدا کے گھر کے سامنے لگے کولر سے زنجیر میں جکڑے پلاسٹک کے گلاس کو دیکھ کرہمیشہ حیرت ہوتی ہے ، ہمارا بجلی کا میٹر ایک ٹین کے ڈبے میں بند تھا کسی ضرورت مند کویہ ڈبہ پسند آگیا اُسے اُتار کر لے گیا ، گٹر کے ڈھکنے بھی اپنی جگہ پر پڑے لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکتے رہے ہیں ۔ اُٹھا کر لے جانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے ۔ ہماری بستی میں ہر گلی پر ایک بورڈ لگاتھا ، جس پر اُس گلی کے مکانات کے نمبر درج تھے تا کہ کسی کو مکان ڈھونڈنے میں دشواری نہ ہو ۔ یہ بورڈ چونکہ لوھے کی چادر کے تھے ان میں سے اب کوئی سلامت نہیں رہا لوگ اکھاڑ کر لے گئے ، مسجد وںمیں جوتے چرانے کے واقعات تو روز کا معمول بن چکے ہیں ہمارے دل چونکہ ایمان کی روشنی سے منور رہتے ہیں تو مسجدوں میں لگے بلب اچھے نہیں لگتے اتار کر لے جاتے ہیں پانی کی سبیل پر پیتل کی ٹونٹیوں پر ہاتھ صاف کرنا ہماری قومی شناخت ہے کہ ہم زندہ و پائندہ قوم ہیں اب ہم جو واقعات بیان کرنے لگے معلوم نہیں اُن کا ہماری تمہید سے کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں البتہ یہ کفر و ضلالت کے اندھیروں میں ڈوبے ایسے ملکوں کا آنکھوں دیکھا حال ہے ۔ جہاں بالیقین ایسا کوئی وقوعہ پیش نہیں آتا ہوگا۔کل سرراہ ڈاکٹر فرید اللہ سے ملاقات ہوئی جو ہماری بستی کے ایک پارک میںبارش کے پانی کے جوہڑ کو حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ اور پھر انہوں نے اپنے بیرون ملک سفر کے واقعات بیان کرنا شروع کر دیئے ۔کہنے لگے کہ گزشتہ سال امریکہ جانے کا اتفاق ہوا جان ایف کینڈی ایئر پورٹ پر سوٹ کیس گھسیٹتا ہوا ایک راہداری سے گزررہا تھا ، راہداری یکطرفہ تھی لوگ بڑے سکون آرام سے جارہے تھے ، کوئی دھکم پیل نہ تھی ہم پاکستانی چونکہ فطرتاً عجلت پسند واقع ہوئے ہیں چنانچہ تیزی سے جاتے ہوئے راہداری کے موڑ پر ہمارا سوٹ کیس دیوار سے ٹکرا گیا ، میں بیٹھ کر سوٹ کیس کا پہیہ دیکھنے لگا کہ کہیں وہ تو نہیں اُتر گیا ، میرے پیچھے ایک عمر رسید ہ شخص لاٹھی ٹیکتے آرہا تھا میرے سوٹ کیس کی رگڑ سے دیوار پر پڑی لکیر کو غور سے دیکھنے لگا ، جیب سے ٹشو پیپر نکالا اور دیوار پر پڑی لکیر پر پھیرنے لگا ۔ اور لکیر کے ختم ہونے تک اُسے رگڑ تا رہا ۔ میری طرف مسکرا کر کہنے لگا آپ کو کوئی مسئلہ تو نہیں۔ اب ہم انہیں کیا بتا تے جی ہاں مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم آپ سے کوئی سبق نہیں سیکھتے ۔ ڈاکٹر فریداللہ نے بتایا کہ ایک کانفرنس کا اختتامی سیشن تھا ، تقریب بڑے زور و شور سے جاری تھی ، پنڈال پر صرف ایک روسٹر م پڑا تھا ، جس کو دعوت دی جاتی وہ نیچے اپنی نشست پر سے اُٹھ کر روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنے تاثرات بیان کرتا اور پھر واپس آکر اپنی نشست پر بیٹھ جاتا ، سویٹزر لینڈ کے صدر تقریب کے مہمان خصوصی تھے ، ہم سمجھے اُن کی آمد میں تاخیر کی وجہ سے حاضرین کو مصروف رکھا جا رہا ہے ، جب وہ آئینگے تو باقاعدہ بگل بجا کر اُن کی آمد کا اعلان ہوگا ۔ قطار میں کھڑے لوگ اُنہیں ہار پہنا ئینگے اور پھر انہیں پنڈال پر نشست سنبھالنے کی درخواست کی جائے گی ، وہاں مگر ایسے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے چند ایک مختلف تقریروں کے بعد اعلان ہوا کہ اب صدر صاحب اسناد تقسیم کرینگے ہم دروازے کی طرف دیکھنے لگے اچانک ہماری ہی قطار میں تین نشستیں دور ایک شخص اُٹھا ہم چونکہ حسب عادت پائوں پھیلا کر تشریف فرما تھے انہوں نے ایکسکیوزمی کہہ کر شرمندہ کیا اور آگے جانے کی اجازت چاہی ۔ یہ سویٹزرلینڈ کے صدرتھے ، اُن کی بغل میں فائل تھی روسٹرم پر گئے فائل سامنے رکھی مختصر خطاب کیا اور پھر اسناد تقسیم کر کے رخصت ہوگئے، جاتے وقت بھی ہم نے ہٹو بچو کے نعرے نہیں سنے کوئی پروٹوکول نظر نہیں آیا ۔ اُن کی چھوٹی سی گاڑی کی اگلی نشست پر ایک محافظ بیٹھا تھا پچھلی نشست کا دروازہ انہوں نے خود کھولا ، بیٹھے اور روانہ ہوگئے ایک اور واقعہ اُنہوں نے فن لینڈ کا سنایا کہنے لگے کہ چند ساتھیوں کے ساتھ ایک پر سکون پارک کی طرف سیر کے لئے نکل گئے ۔ پارک کے گوشے میں ایک قبرستان تھا ایک بوڑھی خاتون وہاں سے درختوں کے پتے سمیٹ رہی تھی ، پارک کے قریب ہی ایک خوبصورت عمارت تھی دوستوں نے کہا آیئے دیکھتے ہیں یہاں کیا ہے اندر دو ایک کمروں میں کچھ لوگ بیٹھے خاموشی سے اپنے کام میں مصروف تھے ۔ایک وردی پوش محافظ بھاگ کر ہمارے پاس آیا ، اُس سے پوچھا یہ کون سی جگہ ہے ؟ مسکراکر کہنے لگا ہمارے صدر کا دفتر ہے ۔ اندر بیٹھے ہیں ملوگے ؟ ہم حیرت سے محافظ کا منہ تکنے لگے ۔ صدر سے ملاقات تو نہیں کی البتہ یہ ضرورسوچنے لگے کہ یہ کیسا صدر ہے ۔ اُن کا محافظ سر عام لوگوں کو اُن سے ملاقات کی دعوت دے رہا ہے اُنہیں اپنی حفاظت تک کا بھی خیال نہیں ہمارے یہاں تووزیر اعظم کے سیکرٹری سے وزراء کو ملاقات کے لئے ہفتوں انتظار کر نا پڑ تا ہے ۔ فرید اللہ بتاتے ہیں کہ ہم نے ان سب ملکوں میں کسی کو لر سے گلاس کو زنجیر سے بندھا نہیں دیکھا ۔کوئی کھلا گٹر بھی نظر نہیں آیا اور بجلی کے میٹر سے کسی کو 20روپے کا خول اتار نے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئی بس ذرا ان لوگوں کا دوزخ کی آگ جانے پر ضرور افسوس ہوتا ہے ہر وقت کفر و ذلالت کے اندھیروں میں ڈوبے رہتے ہیں کم بخت ۔ 

متعلقہ خبریں