اسلام آباد ٹو لاہور مارچ کے اثرات

اسلام آباد ٹو لاہور مارچ کے اثرات

جب سے دنیا میں جہاں کہیں ایسی حکومتیں وجود میں آئی ہیں جس میں انسانوں پر جبر و استبداد اور ظلم و ستم روا رکھ کر ان کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاارتکاب ہوتا ہے تو ان کے خلاف احتجاج کی مختلف صورتیں وجود میں آتی رہی ہیں۔دنیا میں جب فرعون' نمرود وغیرہ جیسی بادشاہتیں قائم ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے مظلوم بندوں کی نجات کے لئے اپنا کوئی محبوب بندہ بطور نجات دہندہ بھیج کر ان کے ظلم و ستم کا خاتمہ کردیا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے فلسطین کی طرف ایک قسم کا مارچ کیا۔ فرعون نے تعاقب کیا تو بحیرہ روم میں غرق ہوئے۔ اسی طرح انبیاء کی ہجرتیں بھی بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت اور انسانیت کو ظلم سے خلاصی دینے کے لئے ہوئی تھیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو پہلے بجانب حبشہ اور پھر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔یہ ہجرتیں لوگوں کو جابروں کے جبر سے نجات کے لئے تھیں۔ لیکن یہ اور اس قسم کی دیگر ہجرتیں اور مارچ وغیرہ اپنی نوعیت کی تھیں۔ ان کی بنیاد خلوص پر مبنی تھی اور عام طور پر ان میں کوئی بنیادی مفاد مد نظر نہیں تھا۔جب سے جمہوریت نے بادشاہتوں اور دیگر آمرانہ نظاموں کو مارچ اور احتجاجی جلوسوں کے ذریعے کمزور یا ختم کیا ہے اور جمہوری نظام قائم ہوا ہے تو سیاست اور جمہوریت کا ایک لازمی جز کے طور پر احتجاج مارچ اور لانگ مارچ وغیرہ وجود میں آئے ہیں۔جدید تاریخ میں جب جمہوری نظام کے قیام اور استعماری طاقتوں سے نجات کے لئے جدوجہد شروع ہوئی تو امریکہ اور فرانس میں بادشاہت کے خلاف شدید احتجاج' جلوس اور مارچ ہوئے اور ان کے نتیجے میں وہاں تاریخی انقلاب وقوع پذیر ہوئے۔ استعمار' استبداد اور کرپٹ بادشاہت کے خلاف سب سے موثر اور یاد گار مارچ چین کے انقلابی رہنما مائوزے تنگ کا تھا جس میں محاورتاً نہیں حقیقتاً ملین کے ملین لوگ شامل تھے اور اسی کے نتیجے میں چین کے گراں خواب چینی سنبھل گئے اور آج کا ترقی یافتہ سپر پاور چین وجود میں آیا جو پاکستان کا قابل اعتماد اور مخلص دوست اور پڑوسی ہے۔ قائد اعظم کی رحلت کے بعد وطن عزیز میں لولی لنگڑی جمہوریت اور مارشل لاء کی آمرانہ حکومتوں کے درمیان آنکھ مچولی ہوتی رہی ہے ۔ ایوبی مارشل لاء کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کے جلوس اور مارچ تاریخی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ لیکن سب سے کامیاب مارچ لاہور تا اسلام آباد ہوا تھا جس میں میاں نواز شریف کا بڑا کردار تھا اور یہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کیلئے تھا جس کو ایک آمر نے آئین و دستور کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ہٹایا تھا۔آج ایک عجیب ستم ہے کہ نواز شریف اسلام آباد سے لاہور تک اپنے گھر جانے کاکہہ کر مارچ پر نکل پڑے تو بلا مبالغہ اس گرم اور حبس زدہ موسم میں میاں صاحب کی زیارت اور حوصلہ افزائی کے لئے ہزاروں لوگ سڑکوں اور شاہراہوں پر موجودتھے اور پاکستان میں دانشور' سیاستدان اور صحافی حضرات تبصروں میں مشغول کہ آخر سپریم کورٹ سے نااہل قرار دئیے جانے کے بعد یوں مارچ کرنے کے پاکستانی معاشرے ' سیاست ' معیشت اور دیگر معاملات پرکیااثرات مرتب ہوں گے۔ اس میں شک نہیں کہ میاں محمد نواز شریف اور آپ کے عشاق اس وقت بہت زیادہ چاجڈ ہیں۔ سیاستدانوں کی یہ بڑی کمزوری ہوتی ہے کہ وہ جب بڑے ہجوم کو دیکھتے ہیں تو بعض اوقات جوش میں آکر ہوش و حواس کو پس پشت ڈال لیتے ہیں اور ان کے منہ سے ایسی باتیں نکل جاتی ہیں جو بہت دور رس سماجی و معاشرتی و سیاسی اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ میاں نواز شریف اس وقت عوام( اہل پنجاب) کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آپ کے ووٹ کی توہین ہوئی ہے۔ کروڑوں ووٹوں سے منتخب وزیر اعظم کو پانچ آدمیوں (ججوں) نے نا اہل قرار دے کر گھر بھیج دیا ہے۔ حالانکہ اس وزیر اعظم پر کوئی کرپشن وغیرہ ثابت نہیں ہوسکی ہے۔جمہوری نظام میں جلسہ جلوس اور مارچ ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن دانا لوگ اس حق کا استعمال تب کرتے ہیں جب ہر لحاظ سے حساب کتاب کرکے یہ یقین کرلیتے ہیں کہ اس میں قوم و ملک کی بھلائی ہی بھلائی ہے۔ بڑے لیڈر ہمیشہ قومی مفادات کو ذاتی' گروہی' جماعتی اور سیاسی مفادات پر اولیت اور ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن یہاں میاں صاحب نے ایک طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے جمہوری اصول و قواعد کے مطابق ن لیگ کا نیا وزیر اعظم منتخب کرایا اور دوسری طرف پاکستان کے دو اہم اداروں کو اسلام آباد تا لاہور مارچ میں ایک انقلابی کی حیثیت سے بار بار چیلنج کیا۔ جس سے قومی اتحاد و ا تفاق جو پہلے ہی کچھ زیادہ مضبوط نہیں تھا کو ضعف پہنچا۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان فاصلے اور بھی زیادہ ہوگئے۔ جو ملک و قوم کے لئے کسی طرح بھی مفید نہیں۔ اس گرم و شدید موسم میں عوام کو امتحان میں ڈال کر ہزاروں گاڑیوں اور دیگر اخراجات کے ذریعے لاکھوں کروڑوں خرچ ہوئے جو عوام کی تعمیری کاموں پر خرچ ہوسکتا تھا۔

اور آخر میں اگر ن لیگ کے ووٹر اگر اسی طرح چارجڈ رہے اور میاں صاحب اسی طرح انقلابی سلوگن دیتے رہے تو سپریم کورٹ ملک کی سلامتی اور آئین و دستور کے مطابق اپنے فیصلوں کے نفاذ کے لئے پاک افواج کی مدد بھی طلب کرسکتے ہیں اور اس کی ذمہ داری یقینا ن لیگ اور ان پر جوش جیالوں اور متوالوں کے اس انقلاب نما رہنما پر ہوگی۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔ آمین

متعلقہ خبریں