بھارت اور اس کے حواری باز آجائیں

بھارت اور اس کے حواری باز آجائیں

امریکہ' افغانستان اور بھارت کے بالترتیب پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے سے متعلق بیانات کو اتفاقی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ ان ممالک کی ہمیشہ سے کوشش یہ چلی آرہی ہے کہ وہ پاکستان کو منفی پروپیگنڈے کے ذریعے دنیا میں مطعون کریں۔ بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ سرجیکل سٹرائیک کا بیان واپس لینے کے بعد ایک بار پھر اس کی دھمکی ڈرامہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ اس ضمن میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے سینٹ میں بڑا مسکت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب پاک فوج نے سٹرائیک کی حقیقی کوشش کی تو بھارت جھوٹا دعویٰ بھی بھول جائے گا۔ بھارت ایک تسلسل کے ساتھ پاکستان پر الزام تراشی کر رہاہے جس کا مقصد اپنے عوام کی اندرونی مسائل سے توجہ ہٹا کر ان کو پاکستان دشمنی کی طرف کرنا ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح سے مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم پر پردہ ڈال سکے اس مقصد کے لئے بھارت سیز فائر کی خلاف ورزی اور پاکستان کی سویلین آبادی کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچاتا۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری حریت پسندوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ بھارت پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے یہ تک سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو اقدامات کیے اور جو کامیابیاں حاصل کیں پوری دنیا اس کی معترف ہے۔ اگر بھارت افغانستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مساعی کا ساتھ دیتے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آج نہ صرف پاکستان سے بلکہ افغانستان سے بھی دہشت گردوں کا صفایا ہو چکا ہو تا یہ ایسا نہ کرنے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج افغانستان میں طالبان کے ساتھ داعش بھی زور پکڑ رہی ہے اور افغانستان میں جڑ پکڑنے کے بعد عرب ممالک سے داعش افغانستان منتقل ہونے کی تگ و دو میں دکھائی دیتی ہے۔ دنیا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران افغانستان سے القاعدہ کا کسی نہ کسی طور تو صفایا کیا مگر اب داعش کی صورت میں وہاں پر جو خطرہ سر پر منڈلانے لگا ہے بجائے اس کے کہ اس عفریت کا مل کر مقابلہ کیا جائے پاکستان کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ پاک فوج نے نہ صرف قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کا صفایا کیا بلکہ اب وہ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ داعش سمیت کسی بھی قسم کے شدت پسند عناصر کو ان علاقوں کا رخ کرنے نہ دے۔ ابتداء میں داعش نے پاکستان میں بھی قدم جمانے اور دہشت گردی کی چند ایک بڑی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی کوشش کی مگر جلد ہی اس کے نیٹ ورک کو پکڑا گیا اور آج پاکستان میں داعش کے نیٹ ورک کا کوئی وجود نہیں مگر اس کے باوجود خطے کے امن کو داعش کے خطرے سے اس لئے پاک نہیں کیا جاسکا ہے کہ داعش افغانستان میں قدم جمانے کی کامیاب سعی میں ہے۔ بنا بریں تقاضا اس کا ہے کہ افغانستان میں اس کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کی جائیں بصورت دیگر افغانستان ایک اور دہشت گرد گروہ کے اثر و نفوذ کا شکار بن سکتا ہے جس سے پورے خطے کا امن ایک مرتبہ پھر خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ امر سمجھ سے بالا تر ہے کہ بھارت امریکہ اور افغانستان بجائے اس کے کہ دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کرنے والے ملک سے تعاون کریں ان کو اسی ملک سے شکایات ہیں بلکہ الزام تراشی سے بھی باز نہیں آتے۔ جہاں تک بھارتی وزیر اعظم مودی اور بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیانات کا تعلق ہے ان کے بیانات سے کسی طور اس امر کا اندازہ نہیں ہوتا کہ دونوں پاکستان دشمنی میں اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ زمینی حقائق کے برعکس دعوے کو دہرائیں۔ اس طرح کا دعویٰ ان کی جانب سے پہلے بھی کیاگیا تھا شاید اس بوکھلاہٹ کی ایک بڑی وجہ بھارتی فوجیوں کی جانب سے بھارتی آرمی کے افسروں پر سرحدوں پر تعینات فوجیوں کی راشن کا پیسہ ہڑپ کرکے ان کو ہلدی والی پانی نما پتلی دال اور ایک جلی ہوئی چپاتی دے کر بھوکا رکھنے کے الزام کی وائرل ہونے والی ویڈیو ہے۔ اس طرح کی فضا میں بھارتی فوج جہاں ان کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہوں پاکستان جیسے ملک کے خلاف کس طرح سے سرجیکل سٹرائیکس کا سوچ بھی سکتے ہیں۔ بھارتی قیادت اس امر کو بالکل ہی نظر انداز کر رہی ہے کہ اگر اس کی طرف سے کوئی حرکت کی گئی تو اس کا انجام کیسا بھیانک ہوگا اور یہ اس کو کس قدر مہنگا پڑے گا۔ بھارت اور خطے کے مفاد میں ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ معاملات پر پاکستان سے بات چیت کا راستہ اختیار کرے اور پاکستان کو بلا وجہ دھمکانے اور دبائو میں لانے کی سعی لاحاصل اور اپنے عوام کو دھوکہ دینے کی بجائے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرے۔ بھارت کو جہاں دہشت گردی نظر آتی ہے اگر اس کی بجائے بھارت بلوچستان اور کراچی میں اپنے ہمدردوں اور جاسوسوں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ اور دھماکوں کی مذموم کوششوں سے باز آئے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ بلوچستان میں کلبھوشن نیٹ ورک کے خاتمے کے بعد گو کہ بلوچستان اور کراچی کے حالات میں بہتری آئی ہے لیکن اس کے باوجود اس امر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی سعی سے باز نہیں آئے گا۔ بھارت دہشت گردی اور تخریب کاری کی محدود وارداتیں تو کروا سکتا ہے لیکن سرجیکل سٹرائیک کی نہ تو ہمت کرے گا اور نہ ہی اس کو اس میں کامیابی ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ بھارت پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتائو سیکھے اور خود بھی جئے اور دوسروں کو بھی جینے دے۔

متعلقہ خبریں