کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فاٹا سیکرٹریٹ میں جعلی بھرتیوں' طالبان مخالف لشکروں کے فنڈز میں گھپلے' شہداء کے بچوں کے لئے فنڈز کے اجراء میں لیت و لعل کے مظاہرے سمیت جو دیگر امور و معاملات سامنے آ ئے ہیں یہ کسی انکشاف کے زمرے میں اس لئے نہیں آتے کہ فاٹا کے معاملے میں سرکاری فنڈز اور عمال سرکا رکا کم و بیش یہی حال رہنا کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ ہر کسی کو معلوم ہے ۔ فاٹا کے عوام کی پسماندگی لاچارگی اور نارسائی کے باعث سرکاری محکموں میں ان کے حقوق کی تلفی اور ان کا حق غصب کیا جانا معمول کی بات ہے۔ فاٹا سیکرٹریٹ گھپلے اور جعلسازی ہی کا دوسرا نام بن کر رہ گیا ہے مگر اس کے باوجود نہ تو گورنر خیبر پختونخوا اور نہ ہی سیفران اس کا نوٹس لیتے ہیں۔ جب تک قبائلی عوام کو ان کا حق ان کی دہلیز پر لے جا کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک یہ لوگ اپنے حقوق اور وسائل سے محروم رہیں گے اور جب تک یہ کیفیت رہتی ہے اس وقت تک قبائلی علاقوں میں ترقی تو در کنار پسماندگی دور ہونے کی راہ ہی ہموار ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں جن امور کی نشاندہی ہوچکی ہے کم از کم اس سے احتساب کا عمل شروع کیا جائے اور اس امر کی تحقیقات کی جائیں کہ فاٹا سیکرٹریٹ میں جعلی بھرتیوں میں کون کون ملوث تھے' کن کن کی ملی بھگت تھی اور طالبان مخالف امن لشکروں کے نام پر کن عناصر نے رقم بٹوری۔
ضلعی انتظامیہ تجاہل عارفانہ سے کام نہ لے
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نرخنامہ کی خلاف ورزی کرنے والوںکی نشاندہی کرنے کی اپیل تجاہل عارفانہ کے ضمن میں آتا ہے وگرنہ نوشتہ دیوار یہ ہے کہ صوبہ بھر میں کہیں بھی سرکاری نرخ پر گوشت فروخت نہیں ہوتا۔خود ہمارے نمائندے کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق شہر بھر میں سر کاری نرخ پر گوشت اور قیمہ کا حصول نا ممکن ہوگیا ہے ۔ تمام تر سرکاری وسائل کے استعمال کے باوجود ضلعی انتظامیہ قصابوں کو سرکاری نرخ کا پابند نہ بنا سکی۔ ضلعی انتظامیہ کو قصابوں کی نشاندہی کی اپیل کی بجائے بلا امتیاز تمام قصابوں کے خلاف سرکاری نرخنامہ کی خلاف ورزی پر کارروائی کرلینی چاہئے پھر بھی اگر انتظامیہ اتمام حجت کی خواہاں ہے تو فرضی گاہک بن کر نرخ معلوم کرنے کا مروجہ طریقہ کار موجودہے۔ ہمارے تئیں معاملہ نشاندہی کا نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ کی عدم سنجیدگی یا پھر بے بسی کاہے جس کی وجہ سے شہریوںکو سرکاری نرخ پر گوشت نہیں ملتا۔ صرف گوشت کے نرخ ہی دو گنے نہیں وصول کئے جاتے بلکہ تمام اشیائے صرف کی قیمتیں سرکاری نرخنامے سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو گرانفروشوں اور نا جائز منافع خوروں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ تسلسل کے ساتھ گرانفروشوں کو گرفتاری اور جرمانوں کی سزا ملتی رہے تو شاید صورتحال میں تھوڑی سی بہتری آئے اور عوام کو حکومت کی عملداری کی موجودگی محسوس ہونے لگے۔
جرائم پر قابو پانے میں ناکامی کیوں؟
تھانہ یکہ توت' حیات آباد اور پہاڑی پورہ میں جرائم کی شرح میں اضافے کی وجوہات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ نئے سال کے ابتدائی پندرہ دنوں میں جرائم میں اضافے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ ان تھانوں کے منتظمین اور اہلکاروں کی جانب سے فرائض کی ادائیگی مستعدی سے انجام نہ دی گئی ہو۔ ان تھانوں کی حدود میں کوئی ایسی غیر معمولی صورتحال بھی نہ تھی جس کی وجہ سے پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی مہلت نہ مل سکی ہو۔ محولہ تینوں تھانے اکثر و بیشتر جرائم کی شرح میں اضافے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں جس کا متعلقہ حکام کی جانب سے نوٹس نہیں لیا جاتا جس کی وجہ سے ان تھانوں کی کارکردگی میں بہتری نہیں آتی۔ اگر ایک دو مرتبہ اس کا نوٹس لے کر ذمہ دار عناصر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاتی اور فعال و مستعد عملہ مقرر کیا جاتا تو صورتحال میں بہتری نا ممکن نہ تھی۔ حیات آباد میں سیف حیات آباد کے نام سے سیکورٹی کا دوہرا انتظام ہونے کے باوجود جرائم کی شرح میں اضافہ اور اس کی روک تھام میں ناکامی کا خاص طور پر نوٹس لیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں