افغان حکمرانوں کا ''پاکستانوفوبیا''

افغان حکمرانوں کا ''پاکستانوفوبیا''

کابل حکومت تو بھارت کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور اس حکومت کی آواز پر'' ہز ماسٹرز وائس ''کا تبصرہ ہی جچتا ہے مگر امریکہ کااینٹی پاکستان مہم میں ان دونوں کے شامل باجا ہوجانا ناقابل فہم ہے ۔افغانستان میں ہونے والے حملوں کے بعد امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کا بیان دوسرے لفظوں میں پاکستان کی چارج شیٹ ہے ۔جس میں افغانستان میں امریکہ کی تمام ناکامیوں ،بھارت کی ریشہ دوانیوں ،افغان حکمرانوں کی بے بصیرتی ،طالبان کی زور پکڑتی ہوئی قوت اور اس کے اصل محرکات پربات کرنے کی بجائے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔امریکہ ،بھارت اور کابل حکومت نے جو اینٹی پاکستان فضا ء بنا رکھی ہے اس کا اثر تھا کہ کابل میں افغان خفیہ ایجنسی کے ایک سابق افسر کی قیادت میں پاکستان مخالف احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا اور ہجوم نے پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔یہ تو خیریت گزری کہ افغان پولیس نے مظاہرین کو کنٹرول کر لیا وگرنہ کوئی خونین حادثہ رونما ہو کر پاکستان اور افغانستان کے پہلے ہی مخدوش تعلقات کو مزید خراب کر نے کا باعث بن جاتایہاں تک افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کو فون کرکے افغان صدر اشرف غنی سے تعزیت کے بعد کہنا پڑا کہ پاکستان میں طالبان کے محفوظ ٹھکانے نہیں۔جس کے بعد پاکستان کی طرف سے زور دے کر کہا گیا کہ افغان حکومت کو طالبان سے مذاکرات کرنا ہوں گے ۔یہ بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار ہے ۔اب افغانستان کے بارے میں آخری سچ وہی نہیں جو امریکہ اور کابل حکومت ڈیڑ ھ عشرے سے سنا رہی ہے بلکہ اس تصویر کا ایک رخ وہ بھی ہے جو اتنی ہی مدت سے پاکستان دنیا کو دکھا رہا ہے ۔جس کامرکزی خیال یہ تھا کہ طالبان افغانستان کی ایک زمینی حقیقت ہیں افغان حکومت اور امریکہ میں دم ہے تو طالبان کو کچل ڈالیں بصورت دیگر ان کو مذاکرات کی میز پر لے آئیں ۔طالبان کو کچلنے کے خواب آنکھوں میں سجائے دو امریکی صدر رخصت ہو چکے ہیں ۔کل تک پاکستان کو افغانستان کے تمام مسائل اور مصائب کا ذمہ دار قراردینے والوں کے اوسان ان رپورٹس کے بعد خطا ہوتے جا رہے ہیں کہ افغانستان میں مزاحمت کرنے والے طالبان کے درپردہ روس ،چین اور ایران کے ساتھ روابط قائم ہیں۔ اس حوالے سے دواہم رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں افغانستان میں روس چین اور پاکستان کے کردار کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا گیا ۔ان میں پہلی رپورٹ کابل سے بی بی سی کے تجزیہ نگار دائود اعظمی کی ہے جبکہ دوسری رپورٹ امریکہ کے معروف ٹی وی جرنلسٹ کرس اوسبرن کے ویب اخبار سکائوٹ وارئیرز میں عارف رفیق نامی تجزیہ نگار کی ہے جس کا عنوان ہے Russia returns back toAfghanistan . یہ دونوں رپورٹس افغانستان کے بارے میں پاکستان کے بیانیے کو تقویت پہنچا رہی ہیں ۔ بی بی سی کے دائود اعظمی کی رپورٹ میں جس میں کھلے لفظوں میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ماضی کے برطانوی اور سوویت مداخلت کی طرح ایک نئی گریٹ گیم کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔دائود اعظمی کی رپورٹ کا آغاز یوں ہوتا ہے '' امریکی فوج کی افغانستان پر چڑھائی کے پندرہ سال بعد بھی اس خطے میں اثر رسوخ کی جنگ جاری ہے جو ماضی کی روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والی سردجنگ اور روسی اور برطانوی سلطنت کی رسہ کشی کی یاد دلاتی ہے۔عمومی طور پر افغان طالبان کے سب سے بڑے حامی سمجھے جانے والے پاکستان پر دوغلے پن کا الزام لگتا ہے لیکن افغان اور مغربی ممالک کے اہلکاروں اور طالبان کے ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے کچھ عرصے سے خاموشی سے ایران سے بھی تعلقات بنا رکھے ہیںاور حال ہی میں روس اور طالبان کے تعلقات میں بھی گرم جوشی دیکھنے میں آئی ہے''۔دائود اعظمی لکھتے ہیں کہ امریکہ نے خود بھی طالبان سے روابط قائم کرنے کی کوشش کی مگر اسے کامیابی حاصل نہ ہو سکی ۔رپورٹ کے مطابق روسی سفیر نے دوسال قبل کہا تھا کہ دولت اسلامیہ سے لڑائی میں طالبان اور ہمارے مفادات ایک سمت میں ہیں۔سکائوٹ وارئیر میں شائع ہونے والا مضمون اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والاہے۔جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لڑائی کے اگلے موسم میں روس طالبان کو مشاورت اور معاونت دے سکتا ہے۔صرف عسکری مدد ہی نہیںروس طالبان کے زیر اثر علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا آغاز بھی کر سکتا ہے۔اس سے بھی خوفناک منظر نامہ یہ ہو سکتا ہے روس پاکستان اور چین کے ساتھ مل کر امریکی بلاک کے مدمقابل بلاک بنا کر سامنے آسکتا ہے۔چین افغانستان میں روس کے بالادست کردار کو تسلیم کر چکا ہے'' مضمون نگار یوں رقم طراز ہیں کہ'' افغانستان میں افیون کی بڑھتی ہوئی کاشت اور داعش کی موجودگی کے آثار روس کو خوف زدہ کئے ہوئے ہیں۔روس نے طالبان کے مقابلے میں امریکہ کا ساتھ دیا تھاجس کی بنا پر شمالی اتحاد کو اقتدار میں قابل ذکر حصہ ملا تھا ۔نائن الیون کی ہنگامہ آرائی نے روس کو چیچن تحریک کو کچلنے کا موقع فراہم کیا تھا ۔یہ وہ وقت تھا جب صوفی علیحدگی پسندوں کو پیچھے دھکیلے جانے کے بعد سلفی جہادی وہاں لڑائی جاری رکھے ہوئے تھے۔روس نے نیٹو کو رسد کے لئے راہداری فراہم کرکے اس کا پاکستان پر انحصار کم کرنے میں مدد دی تھی''۔ طالبان اگر آج سفارتی میدان میں کامیابی حاصل کررہے ہیں اور دنیا کا تیزی سے تشکیل پاتا ہوا بلاک انہیں ایک زمینی حقیقت قرار دے کر ان کی جانب دست تعاون دراز کر رہا ہے تو اس کا ذمہ دار امریکہ اور افغان حکمران ہیں جنہوں نے روس جیسے ہمدرد کو بھی مایوس کرکے ایک نئی راہ پر چلنے پر مجبور کیا ۔اب کچھ بھی ہو افغان حکمرانوں کی مہلت عمل کم ہو تی جا رہی ہے مگر وہ بدستور ''پاکستانو فوبیا ''کا شکا رہو کر مزید وقت گنوار رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں