اسلامی اتحاد پر بے جا واویلا

اسلامی اتحاد پر بے جا واویلا

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات چودہ سو سال پرانے ہیں۔ تہذیبی، ثقافتی، مذہبی، سیاسی، معاشی اور دفاعی اعتبارسے دونوں ممالک کافی حد تک مماثلت رکھتے ہیں۔دونوں کے نظریات، مفادات اورترجیحات یکساں ہیں۔دنیا میں اسلام کی نمائندگی کے لیے آج جس ملک کا نام لیا جاتاہے تو وہ یہی دو ملک ہیں۔مذہبی اعتبار سے یہی دو ملک ہیں جہاں مسلمان اپنے عقائد اور نظریات پر سختی سے کاربند ہیں۔عالم اسلام جب کبھی مسلمانوں پر کڑا وقت آیا تو یہی دونوں ملک آگے بڑھ کر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔عالم اسلام میں سعودی عرب کو حرمین شریفین اور پاکستان کو ایٹمی قوت ہونے کے ناتے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ 

سعودی عرب میں حرمین شریفین کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان فطری طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہمیشہ سے اچھے تعلقات کا خواہاں رہاہے۔سعودی عرب بھی شروع سے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات نبھاتاآیاہے۔ دفاعی طور پرسعودی عرب پاکستان کا سب سے بڑا حلیف پارٹنر ہے۔نہ صرف اپنی فوج کی تربیت کے سلسلے میں سعودی عرب پاکستانی فوجی اکیڈمیوں پرانحصارکرتاہے،بلکہ دفاعی آلات خریدنے میں بھی سعودی عرب پاکستان سے معاہدے کرتاہے۔ چنانچہ2014ء میں سعودی عرب نے پاکستان سے میزائل اور جی ایف 17تھنڈرطیارے خریدے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاک فوج کی مشترکہ مشقیں، سعودی فوجیوں کی ٹریننگ اور سعودی عرب پر حملے کی صورت پاکستان کا سعودی عرب کا ساتھ دینے کا معاہدہ اور اس جیسی دیگر کئی چیزیں ہیں،جن سے مغربی طاقتیں بہت نالاں ہیں۔چنانچہ ماضی میں برطانیہ ،امریکا اور اسرائیل کئی بار پاکستان پر الزام لگا چکے ہیں کہ وہ سعودی عرب کی ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد کررہاہے۔
عالمی طاقتوں کی نظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات شروع دن سے کھٹکتے رہے ہیں۔ماضی میں کئی بار دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف ابھارا گیا۔حالیہ سعودی عرب اور یمن جنگ میں بھی دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کے لیے مبینہ طور پر عالمی طاقتوں نے خوب زورآزمائی کی ہے۔اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کی وہی سوچ کارفرما ہے جس کے مطابق وہ مسلمانوں کو متحدنہیںہونے دیتیں۔اس کے لیے کبھی وہ مسلمان ملکوں کو آپس میں فرقہ واریت اور سیاسی مفادات میں الجھا کر ایک دوسرے کا حریف بناتی ہیں،تو کبھی بردار اسلامی ملکوں میں براہ راست یا بالواسطہ دراندازی کرنے کی راہ سجھاتی ہیں۔دنیا میں جہاں کہیں مسلمان ملکوں پر ظلم ہورہاہے ۔اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کی یہی پالیسی کارفرمارہی ہے۔چنانچہ افغانستان پر حملہ کرتے وقت پاکستان کو مجبور کرکے امریکاکے خلاف جانے سے روکا گیا۔عراق میں ایک مفروضہ قائم کرکے خلیجی ممالک کو صدام حسین کی حمایت کرنے سے باز رکھاگیا۔لیبیا،شام اور یمن میں خانہ جنگی کی آگ بھڑکاکر دیگر اسلامی ملکوں کو اس سے دور رہنے کا مشورہ دیاگیا۔حالانکہ نظریاتی طور پر پوری دنیا کے مسلمان ایک قوم ہیں،رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایک مسلمان کی تکلیف دوسرے مسلمان کی تکلیف ہے۔دونوں آپس میں بھائی بھائی اور ایک جسم کی مانند ہیں۔بدقسمتی سے عالمی طاقتوں نے اس نظریے کونیشن سٹیٹ اور جمہوریت کے ذریعے مسلمانوں کے ذہنوں سے نکال کر وطنیت اور قومیت کا نعرہ تھمادیاہے۔یہی وجہ ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آج ہرمسلمان کی یہ سوچ بنادی گئی ہے کہ اگریمن،شام،عراق ،افغانستان اور کشمیر میں کوئی مظلوم مررہاہے تو اسے جانبدار رہ کر اپنی جان اور اپنے ملک کی فکر کرنی چاہئے۔یہی منطق 39 ملکوں کے اسلامی اتحاد اور جنرل راحیل شریف کی اسلامی اتحاد میں شمولیت پر دہرائی جارہی ہے۔جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقیمت پر مظلوم کی مدد کرنے کا حکم دیاتھا۔فرمایاکہ ''مظلوم کی اور ظالم کی مدد کرو''پوچھا گیا یارسول اللہ مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آتی ہے،ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟ارشاد فرمایا''ظالم کو ظلم سے روک کر اس کی مدد کی جائے''(بخاری)۔
15دسمبر2015ء کوسعودی عرب کی جانب سے58 سلامی ممالک میں سے 39 ملکوں کے قائم ہونے والے اسلامی فوجی اتحاد پر قومیت اوروطنیت کے علمبرداروں نے خوب شور شرابہ برپاکیا تھا۔حالیہ دنوں اس اسلامی فوجی اتحاد کی سرابراہی کے سلسلے میں جنرل راحیل شریف کی تقرری پر ایک مرتبہ پھر ہنگامہ برپا کیاجارہاہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک جنرل راحیل شریف کی اس اتحاد کی سربراہی کے سلسلے میں سعودی عرب سمیت دیگر عرب میڈیا پر کوئی مستند خبر نہیں آئی ۔لیکن یہ پاکستانی حکمران ہیں جوقوم کو خواہ مخواہ الجھائے رکھتے ہیں۔
جنرل راحیل شریف کے سربراہ بننے کی خبر پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف نے سب سے پہلے میڈیا کو یہ کہہ کردی کہ راحیل شریف کا اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بننا پاکستان کے لیے اعزاز ہے۔جب اس پرآوازیں اٹھنے لگیں تواگلے دن انکار کرتے ہوئے کہا کہ راحیل شریف نے اس سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا۔مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے اور مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنے میں پاکستان ،ترکی اور سعودی عرب اس اسلامی فوجی اتحاد کے ذریعے اہم کردار اداکرسکتے ہیں۔اس لیے پاکستان کو نہ صرف اس اتحاد میں ہر طرح کا کردار ادا کرنا چاہئے بلکہ اس کی قیادت بھی کرنی چاہئے۔کتنی عجیب بات ہے کہ عیسائی یہودیوں سے ہزاروں سالہ دشمنی ختم کرکے ان سے اتحاد کرلیتے ہیں اور ہم مسلمان باوجود بھائی چارے اور اخوت کے رشتے کے ایک دوسرے سے اتحاد نہیں کرسکتے؟
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

متعلقہ خبریں