سوئی نادرن کے مشوروں کا جواب مشورہ

سوئی نادرن کے مشوروں کا جواب مشورہ

آ پ کسی محفل میں بیٹھے ہوں اور یونہی کہہ دیں کہ مجھے خدانخواستہ کوئی بیماری ہے ۔یا آپ کا کوئی دوسرا مسئلہ ہے تو حاضرین مجلس آپ کو اپنے ذاتی یا اپنے کسی عزیز رشتہ دار کے تجربوں کے حوالے سے فوراً مشوروں سے نوازنا شروع کردیں گے ۔جن میں طب یونانی ، ہومیوپیتھی ، ایلوپیتھی اور روحانی وغیرہ کے تما م طرز کے نسخے شامل ہوں گے ۔ مزے کی بات یہ بھی ہوگی کہ ان میں سے اکثر صاحبان اس بیماری سے خود شفا یا ب نہیں ہوئے ہوںگے لیکن چونکہ مشورہ مفت ہے اس لیے وافر ہے اور میسر ہے ۔ماضی کے دنوں میں جب سوات والی صاحب کی ریاست تھی تو وہاں ایک خوبصورت نظام موجود تھا۔جہاںبہت سی سماجی برائیوں کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے قوانین بنائے جاتے ۔گالی جس سے بہت سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں ۔ والی سوات صاحب نے گالی دینے پر پانچ روپے جرمانہ لگا دیا تھا یوں وہاں گالی کم ہوگئی۔چونکہ اس زمانے میں پانچ روپے ایک خطیر رقم تھی اس لیے لوگ اس جرمانے کے خوف سے گالی دینے سے گریز کرتے تھے البتہ لوگ دل کی بھڑاس یوں نکال لیتے کہ ''ہو تو وہی لیکن کہہ نہیں سکتا کہ جرمانے کے پانچ روپے نہیں ہیں ''کاش کہ کوئی مشورہ نوازیوں پر بھی پابندی یا جرمانہ لگادیتا تو بہت سوں کی خیر ہوتی ،اور مشورہ نواز یوں اپنے مشوروں کو اپنے دلوں میں ہی رکھتے جو زبان پر نہ آتے ۔ ہمارے ہاں مشورہ نوازیاں جہاں انفرادی طور پر کی جاتی ہیں وہیں ''ادارہ جاتی ''مشورہ نوازی کی بھی شاندار مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں ۔گرمیوں میں شدید لوڈشیڈنگ میں عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی غرض سے واپڈا والے مختلف اشہارات چلاتے ہیں کہ جن سے عوام کو بجلی کی بچت کے قیمتی نسخے دیے جاتے ہیں ۔ ویسے ہی آج کل شدید سردیوں میں سوئی گیس والوں کے بل کی پشت پرگیزرکا خرچہ کم کرنے کے لیے ''گیزر ٹائمر ڈیوائس''لگانے کا مشورہ ،یا شمسی توانائی سے چلنے والے گیزرلگانے کا مشورہ یاگیزر میں پانی کو زیادہ دیر گرم رکھنے کے لیے ایک ڈیوائس''کونیکل بیضل''لگانے کا مشورہ اور گھروں میں گیس کے ہیٹر لگانے کی بجائے گرم کپڑے پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔کمال کی بات یہ ہے کہ محکمہ کے ان مشوروں کی قدرقیمت اسی وقت قائم رہ سکتی ہے کہ جب ان کے محکمہ کہ آباؤاجداد کے بچھائے ہوئے زنگ آلود پائپوں میں ''چلوبھر''گیس میسر بھی ہو ۔کیونکہ گیزر سے متعلقہ تمام مشوروں میں گیس کا ہونا لازمی ہے ۔سو محکمہ گیس کے تمام مشورے بے سود ، بے محل اور کسی حد تک بیوقوفانہ ہیں کہ یہاںحال یہ ہے کہ چولہوں میںموم بتی جتنی روشنی بھی نہیں ہے ۔گیزر کی عیاشی کم از کم اس شدید سردی میں پشاور کے باسی تصور بھی نہیں کرسکتے ۔سو آج کل شہریوں کا گزران ایل پی جی کی نعمت پر چل رہاہے ۔گیس کا محکمہ چونکہ وفاقی ہے اس لیے اس کے نوکر بھی وفاق کے نمک خوار ہیں ۔اب چونکہ وفاق کی صوبائی حکومت سے نہیں بنتی کہ صوبائی حکومتی پارٹی وفاق والوں کی کرپشن کے پیچھے ہاتھ دھو کرپڑچکی ہے سو وفاق اس صوبے کے عوام کو سبق سکھانے کے چکر میں ہے کہ بھئی ہماری دشمن پارٹی کو ووٹ کیوں دیا اور اسی کنکشن میں سوئی گیس کا محکمہ اپنے ''مالکوں ''کی وفاداری میں صوبے کے عوام کو سبق سکھانے کی ترکیب پر عمل پیرا ہے ۔ ہمارے صوبے میں گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور اس وقت بھی ہمارا صوبہ 500ایم ایم سی ایف قوم کو دے رہا ہے جبکہ ہمارے صوبے کی گیس کی ضرورت 240ایم ایم سی ایف ہے ۔گویا ہمیں ہماری پیداوار کا نصف بھی نہیں دیا جارہا ہے جبکہ پشاورہائی کورٹ نے اس ضمن میں فیصلہ بھی دے رکھا ہے کہ پیداوار دینے والے صوبے کا حق زیادہ ہے ۔گویا کہ محکمہ توہین عدالت کا مرتکب ہورہاہے ۔ کمال کی بات یہ ہے کہ سی این جی سٹیشنوں پر گیس وافر ہے اورگاڑیوں میں گیس زور وشور سے بھروائی جاسکتی ہے اس کے برعکس گھروں میں اتنی گیس نہیں کہ انڈا ہی ابالاجاسکے ۔بہرحال یہ بھی قومی خدمت کے زمرے میں آتا ہے ۔گیس کی چوری خوب زوروں پر ہے اور محکمہ اس چوری کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے ۔اس محکمہ نے اپنے ہاتھ چوری کے سامنے کھڑے کررکھے ہیں ۔ گیس کی اس ہوش ربا چوری کو چھپانے کا محکمہ گیس کے پاس آسان سا نسخہ ہے ۔ اس نے گیس دینا ہی بندکردیا ہے ۔ اب اس چوری شدہ گیس کا اس محکمہ کے ''فرض شناس''افسروں کو جواب دینا ہوگا کہ اضافی گیس کی وصولی کہاں ہے ؟اس سوال سے لاجواب ہونے سے قبل ہی محکمہ نے نہ رہے بانس نہ رہے بانسری کا طریقہ نکال لیا ہے ۔عوام روئیں دھوئیں انہیں اس سے کیا ۔ عوام کا پوچھنے والا کون ہے ۔ ورنہ اس ''مجرمانہ کارکردگی ''پر انکوائری کی ضرورت تھی ۔انکوائری ہوجائے تو عوام کو بھی پتہ چل جائے کہ گیس کی چوری کون کررہا ہے ؟ کون کروا رہاہے ؟لیکن ایسا کرے گا کون کہ گیس کے اس محکمہ میں بڑے بڑوں کے چہیتے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں اور ہمارے ہاں بڑے اور ان کے چہیتے کبھی بھی جواب دہ نہیں رہے ۔''چھوٹے موٹے''البتہ دار پر بھی چڑھادیے جاتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک اس معاملے میں اپنا کردار البتہ ضرور ادا کرسکتے ہیں ۔اللہ کرے کہ کوئی صاحب گیس کی ناروا اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر ایک انکوائری ڈال دے تو بہت سے مکروہ چہرے سامنے آجائیں گے جنہوں نے سکول جاتے بچوں کے ناشتے ان کے منہ سے چھین لیے ہیں ۔کاش کہ یہ نیک کام چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ خود ہی کروالیں ۔

متعلقہ خبریں