مشرقیات

مشرقیات

شیخ بہائو الدین زکریا ملتانی کے مریدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا مگر حضرت شیخ حسن افغان آپ کے ارادت مندوںمیں ایک خاص مقام رکھتے تھے ۔ '' فوائد الفواد '' میں حضرت نظام الدین اولیا کی روایت ہے کہ حضرت شیخ بہائو الدین زکریا نے اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں سے بار بار فرمایا ''اگر حشر کے دن حق تعالیٰ مجھ سے پوچھیں گے ، بہائو الدین ! تو دنیا سے ہمارے لئے کیا تحفہ لایا تو میں بارگاہ ذوالجلال میں عرض کروں گا کہ حسن افغان کو لا یا ہوں ۔ ''
حضرت شیخ حسن افغان ظاہری اعتبار سے ایک عام انسان تھے ۔ا تنے '' ان پڑھُ''تھے کہ حرف آشنا تک نہیں تھے ۔ مگر رب تعالیٰ نے انہیں اس قدر ''علم لدنی '' عطا فرمایا تھا کہ بڑے بڑے صاحبان کمال حیرت زدہ رہ جاتے تھے ۔ (علم لدنی تصوف کی اصلاح میں اس علم کو کہا جاتا ہے جو خدا بطور خاص اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے ۔ اس علم کے حصول میں انسانی کوششوں کو کسی قسم کا دخل نہیں ہوتا ۔ )
لوگوں نے کئی بار حضرت شیخ حسن افغان کا امتحان اس طرح لیا کہ ایک کاغذ پر آیت قرآنی تحریر کی۔ دوسرے کاغذ پر حدیث رسول ۖ ۔ اور تیسر ے پر کسی مشہور بزرگ کا قول لکھ دیا ۔ پھر ان تینوں کاغذوں کو خلط ملط کر کے حضرت شیخ حسن افغان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا''شیخ ! بتایئے کہ ان تحریروں میں آیت قرآن کون سی ہے ؟ ''
حضرت شیخ حسن افغان نے کسی جھجک اور تامل کے بغیر آیت قرآن کو علیحدہ کرتے ہوئے فرمایا '' یہ میرے رب کا کلام مقدس ہے۔ ''پھر آپ نے دوسرا کاغذ اٹھا تے ہوئے فرمایا '' یہ میرے آقا حضور اکرم ۖ کی حدیث پاک ہے ۔ پھر تیسرے کاغذ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ''یہ فلاں بزرگ کا قول مبارک ہے ۔ ''دہلی اور ملتان کے علماء نے سینکڑوں بار حضرت شیخ حسن افغان کا امتحان لیا، مگر آپ نے ہرمرتبہ آیت قرآنی ، حدیث رسولۖ اور بزرگان دین کے اقوال کو الگ الگ کر دیا ۔ پھر جب حضرت شیخ حسن افغان نے امتحان لینے والے لوگوں کو حیرت زدہ پایا تو ان سے پوچھا '' آخر آپ حضرات میری آزمائش کیوں کرتے ہیں ؟ ''لوگوں نے بصد احترام عرض کیا ! ہم صرف یہ راز جاننا چاہتے ہیں کہ ان پڑھ ہوتے ہوئے بھی آُپ ان تحریروں میں فرق کس طرح کرتے ہیں ؟ َ''حضرت شیخ حسن افغان نے مسکرا تے ہوئے فرمایا'' جب حق تعالیٰ اپنے بندے پر کرم فرماتے ہیں تو پھر اسے کوئی مشکل پیش نہیں آتی ۔ '' یہ کہہ کر آپ نے آیت قرآنی پر اپنی انگشت شہادت رکھ دی '' یہ مالک کائنات کاکلام ہے جس کا نور عرش الٰہی تک ہے ، جسے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔ '' پھر حضور اکرم ۖ کی حدیث مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ رسالت ماب کا فرمان مقدس ہے جس کا نور ساتویں آسمان تک دیکھ رہا ہوں پھر مشائخ کرام کے اقوال مبارکہ کے بارے میں فرمایا '' ان کا نور پہلے آسمان تک ہے ۔''

متعلقہ خبریں