سپریم کورٹ میں پاناما کیس سے متعلق اہم سماعت

سپریم کورٹ میں پاناما کیس سے متعلق اہم سماعت

 ڈیسک:سپریم کورٹ میں پاناما کیس سے متعلق درخواستوں پر سماعت  جاری ہے ۔ وزیراعظم نوازشریف کے وکیل مخدوم علی خان کیس سے متعلق دلائل دے رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری، شیخ رشید اور جماعت اسلامی کے وکیل کیس سے متعلق اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ  کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کی جانب سے وزیر اعظم کی نا اہلی کیلئے دائر درخواست بھی سماعت کیلئے منظور کرلی ہے۔ 

وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان کا دلائل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ وزیر اعظم پر ٹیکس چوری کا الزام غلط ہے اور مریم نواز اپنے والد کے زیر کفالت نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نے مریم نواز کو تحائف بینکوں کے ذریعے دیئے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم دیکھنا چاہیں گے کہ1.9 ملین ڈالر بینکس کے ذریعے آئے۔ اس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ تحائف کی وصولی تسلیم کرتا ہوں، تاہم اس کے لئے دستاویز کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام بنکوں سے سرٹیفیکیٹ لینا مشکل عمل تھا، جبکہ بینک ریکارڈ خفیہ رکھنا ہر شخص کا بنیادی قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں عدالت سے کچھ چھپانا چاہتے ہیں۔ اس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ تصدیق کے بغیر دستاویزات قبول کر لیں گے تو دوسرے فریق کی دستاویزات بھی ماننا پڑیں گی۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ حسین نواز کی جانب سے یہ تحائف 2010 میں دئیے گئے، جبکہ جدہ اسٹیل مل 2005 میں فروخت ہوئی کیا اسٹیل مل کے علاوہ حسین نواز کے اور بھی کاروبار تھے،۔ جس پر نوازشریف کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ حسین نواز کے سعودی عرب میں اور بھی کاروبار ہیں، حسین نواز کے وکیل یہاں موجود ہیں وہ وضاحت دیں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیس کا ایک حصہ منی لانڈرنگ سے متعلق ہے، الزام ہے رقوم غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجی گئیں، جبکہ رقوم کی منتقلی کے حوالے سے آپ کو تفصیلات دینا ہوں گی۔

متعلقہ خبریں