پاناما کیس، سپریم کورٹ نے رقوم منتقلی کی تفصیلات طلب کر لیں، سماعت کل تک ملتوی۔۔۔

پاناما کیس، سپریم کورٹ نے رقوم منتقلی کی تفصیلات طلب کر لیں، سماعت کل تک ملتوی۔۔۔

ڈیسک: سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناماکیس کی سماعت کل تک کے لیےملتوی ہوگئی،وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کل بھی اپنےدلائل جاری رکھیں گے۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ میں پاناماکیس کی سماعت عدالت کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہ میں کی۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کی جانب سے وزیر اعظم کی نا اہلی کیلئے دائر درخواست بھی سماعت کیلئے منظور کرلی ہے، جبکہ عدالت نے وزیر اعظم سمیت تمام فریقین کو نوٹس بھی جاری کردیئے ہیں۔

وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان کا دلائل دیتے ہوئے کہناتھا  کہ وزیر اعظم پر ٹیکس چوری کا الزام غلط ہے اور مریم نواز اپنے والد کے زیر کفالت نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نے مریم نواز کو تحائف بینکوں کے ذریعے دیئے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم دیکھنا چاہیں گے کہ1.9 ملین ڈالر بینکس کے ذریعے آئے۔ اس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ تحائف کی وصولی تسلیم کرتا ہوں، تاہم اس کے لئے دستاویز کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام بینکوں سے سرٹیفیکیٹ لینا مشکل عمل تھا، جبکہ بینک ریکارڈ خفیہ رکھنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔

اس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ تصدیق کے بغیر دستاویزات قبول کر لیں گے تو دوسرے فریق کی دستاویزات بھی ماننا پڑیں گی۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ حسین نواز کی جانب سے یہ تحائف 2010 میں دئیے گئے، جبکہ جدہ اسٹیل مل 2005 میں فروخت ہوئی کیا اسٹیل مل کے علاوہ حسین نواز کے اور بھی کاروبار تھے،۔ جس پر نوازشریف کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ حسین نواز کے سعودی عرب میں اور بھی کاروبار ہیں، حسین نواز کے وکیل یہاں موجود ہیں وہ وضاحت دیں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیس کا ایک حصہ منی لانڈرنگ سے متعلق ہے، الزام ہے رقوم غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجی گئیں، جبکہ رقوم کی منتقلی کے حوالے سے آپ کو تفصیلات دینا ہوں گی۔

جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ ریکاڈ پر رقم کی منتقلی کی کوئی دستاویز نہیں، جبکہ زمین کی خریداری اور بیٹےکےتحائف کی تاریخیں عام ہیں۔ عدالت کو تمام تحائف سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔

وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ حسین نواز کےبھیجے گئےتمام تحائف کا ذکرگوشواروں میں موجود ہے۔

سپریم کورٹ میں وزیراعظم نوازشریف کے وکیل مخدوم علی خان نے کیس سے متعلق آج بھی دلائل دیئے، جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری، شیخ رشید دلائل مکمل کرچکے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے وکیل کیس سے متعلق اپنے دلائل وزیراعظم کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جاری رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں