جارحیت نہیں صلح جوئی

جارحیت نہیں صلح جوئی

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فوجی مشقیں اس بات کا مظہر ہیں کہ مسلح افواج کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دشمن پاکستان میں ترقی کا عمل نہیں دیکھنا چاہتا اوردہشتگرد ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ امر قابل افسوس ہے کہ جنوبی ایشیاء تنازعات میں گھرا ہوا ہے ،انہوںنے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا سنجیدگی سے حل ضروری ہے،فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی تشویشناک ہے۔ہماری مسلح افواج اپنی استعداد کار کے باعث دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جہاں کنٹرول لائن پر بھارتی فوجوں کی مداخلت پر مسکت جواب دیا ہے وہاں انہوں نے پر حکمت پیغام بھی دیا ہے کہ جارحیت سے کچھ نہیں ملے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاک فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے حساب برابر کرنے اور آئندہ بھی حساب برابر رکھنے کا پیغام دینا ایک سپہ سالار کے لئے ضروری تھا۔ اسی طرح وزیر اعظم نواز شریف نے بھی پاک فوج کی استعداد کا ذکر کیا ہے۔پاک فوج اور پاک فضائیہ کی مشترکہ فوجی مشق رعدالبرق میں جن ہتھیاروں اور حربی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیاگیا وہ صرف ایک حربی نمائش اور مشقیں نہیں بلکہ دشمن پر عملی طور پر اس امر کااظہار بھی کرنا تھا۔ اس موقع پر وزیر اعظم اور آرمی چیف کا ایک جیپ پر مشقوں کا معائنہ اور شرکت سیاسی و عسکری قیادت کا ایک اجتماعی پیغام بھی تھا۔ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے مسلسل بلااشتعال فائرنگ کے واقعات کے تناظر میں اب پاکستان پالیسی تبدیل کرے۔ اس کا عملی مظاہرہ بھی لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزی کے دوران کیاگیا جس میں پاک فوج کی بہادر سپاہ نے سات فوجیوں کی شہادت کا جواب بھارت کے درجن بھر فوجیوں کو جہنم واصل کرکے دیا۔ اب یہ امر ضروری ہوگیا ہے کہ پاکستان لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر بھارت کو اس امر کا عملی احساس دلائے کہ بھارت کو اندازہ ہو کہ اس کھیل سے کس طرح کا جانی نقصان ہوتا ہے۔امر واقع یہ ہے کہ بھارت جب بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ اپنے عوام کو یہ تاثر پیش کرتا ہے کہ پاکستان نے شروعات کیں جس کا اس نے جواب دیا اور اس طرح سے ہمارے اوپر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے، لہٰذا اب پاکستان کو اصل میں خلاف ورزی کرنی چاہئے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو الزامات سے حل نہیں ہوسکتا اور اگر اقوامِ متحدہ مداخلت کرے بھی تو بھارت اس کو تفتیش کرنے کے لیے رسائی فراہم نہیں کرتا کیونکہ وہ حقیقت کو سامنے لانا ہی نہیں چاہتا۔بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ فطری امر ہے۔جموں و کشمیر کی جنگ بندی لائن اور پاکستان کے ساتھ ورکنگ بائونڈری پر بھارت نے جو اشتعال انگیز کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں ان میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چار ماہ سے جاری تحریک آزادی کے نئے اور پر جوش مرحلے پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف باقاعدہ محاذ کھولنے کے لئے سرگرم ہوگیا ہے۔ اگرچہ بھارت کی ہر گولہ باری کا پاکستانی افواج جو مسکت جواب دیتی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ امرنہیں تاہم پاکستان اور بھارت دونوں ہی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔پاک فوج کے سربراہ نے جارحیت کا مسکت جواب دینے کے ساتھ ساتھ جنگ پر تلی بھارتی قیادت کو اس امر کا احساس دلایاہے کہ جارحیت سے اس کو کچھ نہیں ملے گا۔ وہ جتنی بار جارحیت کا ارتکاب کریں گے ان کو اتنی بار ان سے کہیں زیادہ قوت اور نقصانات کی صورت میں جواب ملے گا۔ اس لئے بہتر امر یہی ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کی بجائے اچھے ہمسایہ کی طرح رہنے اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کا رویہ اپنائے۔ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی ممالک ہیں اور ایٹمی طاقت ہونے کی بناء پر دونوں ممالک ہم پلہ ہیں۔ ایسے میں یہ امر بے معنی ہو جاتا ہے کہ کونسا ملک کتنا بڑا اور کتنی فوج رکھتا ہے۔ بھارتی قیادت کا رویہ بھی پل میں تولہ پل میں ماشہ کا ہے۔جب بھی ارتکاب جارحیت پر اس کو مسکت جواب ملتا ہے بھارتی قیادت کی آگ اگلنے والی زبانیں صلح جوئی کی باتیں کرنے لگتی ہیں اور وہ کنٹرول لائن پر جنگ کی بجائے غربت کے خلاف جنگ کی باتیں کرنے لگتی ہیں۔بھارت کو اس رویہ پر نظر ثانی کرکے مستقلاً خطے میں قیام امن اور استحکام امن کے لئے جارحیت سے باز آنے کا فیصلہ کرلینا چاہئے۔ بھارت کو اس امر کو سمجھ لینا چاہئے کہ طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی خطے میں بالا دستی کا ان کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں