خیبرپختونخوا میں چینی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری میں دلچسپی

خیبرپختونخوا میں چینی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری میں دلچسپی

چینی سرمایہ کاروں کی خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری میں دلچسپی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ان کو ہر ممکن سہولتوں کی فراہمی کا وعدہ صوبے کی ترقی اور صوبے میں روز گار اور کاروبار کے مواقع میں اضافہ کا عندیہ ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں چینی سرمایہ کاروں کے لئے مختلف النوع قسم کے کاروباری مواقع موجود ہیں جن پر باہم مل بیٹھ کر مشاورت اور طریقہ کار طے کیاجائے تو جہاں صوبے میں چینی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی وہاں صوبے کوسی پیک کے ثمرات سے محرومی کی زیادہ شکایت نہیں رہے گی۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور بھتہ خوری کے باعث کارخانوں کی منتقلی کی بناء پر جو صنعتی خلاء پیدا ہو چکا ہے اسے پر کرنے کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کو دل کھول کر مراعات اور سرمایہ کاروں کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ چینی سرمایہ کاروں کے لئے این او سی کی شرط ختم کرکے ان کو سرمایہ کاری کی دعوت عام دی جائے ۔ صوبائی حکومت صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنے کے لئے مواقع پر مبنی سروے کرکے اس کے نتائج سے سرمایہ کاروں کو آگاہ کرے۔ اس ضمن میں پاک چین کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ اعتماد اور مشاورت کے ساتھ مواقع کی نشاندہی کی جائے۔ ملکی و بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے زیادہ رکاوٹ رشوت اور بدعنوانی ثابت ہوتی رہی ہے۔ صوبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے اس لعنت کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
سیاسی افراد کے ہاتھوں صحت کارڈ تقسیم نہ کئے جائیں
اگرچہ صوبائی وزیر صحت نے ہیلتھ انشورنس کارڈ شفاف طریقے سے مستحق افراد میں تقسیم کرنے کا عندیہ ضرور دیا ہے لیکن ممبران اسمبلی کے ہاتھوں اس کی تقسیم کے جس طریقہ کار کا اعلان کیاگیا ہے اس میں شفافیت اور مستحقین کو کارڈ ملنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ بد قسمتی سے سرکاری وسائل سے انجام پانے والے امور کو سیاست زدہ کرنے کاعمل کسی لعنت سے کم نہیں۔ یہ عمل اس قدر آلودگی کا شکار ہو چکاہے کہ اگر سیاسی عناصر کے ہاتھوں سو فیصد شفافیت کا مظاہرہ بھی کیا جائے تب بھی اس پر لوگوں کا یقین کرنا مشکل ہوگا۔ ممبران اسمبلی کے ذریعے صحت کارڈوں کی تقسیم کی حمایت نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ کے ہاتھوں یا بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے ان کی تقسیم کوئی قابل اعتماد امر ہوگا۔ اگر صوبائی حکومت ان کارڈوں کو واقعی اور حقیقی معنوں میں حقدار افراد کو دینے کی خواہاں ہے تو اس کے لئے گائوں گائوں کی سطح پر کمیٹیاں قائم کرکے ان کی سفارشات پر مستحق افراد کو کارڈز دئیے جائیں۔ گائوں کی سطح پر مقامی عمائدین کی سفارشات بھی سو فیصد معتبر نہیں ہوں گی لیکن مقامی عمائدین کے لئے بالکل ہی آنکھیں بند کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یوں مستحق افراد کارڈ حاصل کر پائیں گے۔ اس ضمن میں اس امر پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے کہ بعض خاندانوں میں بیماریوں کی شرح زیادہ ہوتی ہے اور اکثر گھروں میں مستقل بیمار افراد موجود ہوتے ہیں۔ صحت کارڈوں کی تقسیم میں اس قسم کے خاندانوں اور افراد کو خصوصی ترجیح دی جائے اس کے بعد جن خاندانوں میں کوئی بھی فرد سرکاری ملازمت پر نہ ہو ان گھرانوں کو فوقیت دی جائے۔ بیوائوں اور یتیموں کا خاص خیال رکھا جائے ۔ ایک میرٹ مرتب کرکے اگر اس کے مطابق صحت کارڈوں کی تقسیم ہو جائے تبھی اس سے عوام کی خدمت اور غریب افرادکے علاج کے مقاصد حاصل ہوں گے اور اگر روایتی انداز میں ان کی تقسیم ہوتی ہے تو سرکاری وسائل کا ضیاع اور نیکی برباد گناہ لازم ہی ٹھہرے گا جس سے اجتناب کیاجانا چاہئے۔
ہوائی فائرنگ پر قتل کا مقدمہ قابل عمل ہوگا؟
ہوائی فائرنگ میں کسی بے گناہ جان کے ضیاع پر قتل کے مقدمے کے اندراج کی مخالفت نہیں کی جاسکتی بلکہ ہوائی فائرنگ کی روک تھام کے سلسلے میں جس قدر سخت اقدامات کئے جائیں وہ مستحسن ہوں گے۔ ہوائی فائرنگ میں کسی کی جان جانے پر قتل کا مقدمہ صرف اس صورت ہی میں ممکن نظر آتاہے جب اس امر کی گواہی ملے اور شواہد سے ثابت کیاجاسکے۔ہوائی فائرنگ عموماً اس طرح اندھا دھند ہوتی ہے کہ کسی کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ گولی کس نے اور کہاں سے چلائی ۔ بعض تقریبات میں ہوائی فائرنگ سے جو جانی نقصانات ہوتے ہیں اس میں اکثر صلح صفائی ہی دیکھی جاتی ہے اورجو لوگ اندھی گولی کاشکار ہو کرجان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس میں فائرنگ کرنے والا نا معلوم ہوتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوائی فائرنگ ہی کو ناممکن بنا دیا جائے اور جو بھی ہوائی فائرنگ کرتا ہوا پایا جائے اسے اگر سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے میں سستی کا مظاہرہ نہ کیاجائے تو یہ ایک بہتر اور قابل عمل امر ہوگا۔

متعلقہ خبریں