معاہدہ کراچی کی مخالفت یابارُودی سرنگوں پرسفر؟

معاہدہ کراچی کی مخالفت یابارُودی سرنگوں پرسفر؟

یورپی ملکوں کے ایک کامیاب دورے سے واپسی کے بعد آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدرخان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔پریس کانفرنس کے دوران ان سے ایک سوال پوچھا گیا کہ کیا ان کی سفارتی مہم معاہدہ کراچی کی خلاف ورزی تو نہیں جس کے تحت خارجہ امور اسلام آباد کی ذمہ داری ہیں ۔راجہ فاروق حیدر خان کا دوٹوک جواب تھا کہ ''معاہدہ کراچی آسمانی صحیفہ نہیں میں اسے نہیں مانتا''۔یہ بات آزادکشمیر کا کوئی عام سیاست دان کہتا تو شاید اس کی گونج بھی فضاء میں سنائی نہ دیتی مگر یہ بات جب آزادکشمیر کا وزیر اعظم کہتا ہے تو پھر اسے بارودی سرنگوں پرشوق چہل قدمی ہی کہا جا سکتا ہے۔آزادکشمیر کا وزیر اعظم اگر اس رائے اور سوچ کو اپناتے ہوئے اسلام آباد کے ساتھ کشمکش کی عملی راہ اپناتاہے تو پھر طاقت کے مروجہ اور مسلمہ اصول کے تحت آزادکشمیر کے حکمران کو اپنے اقتدار کی اُلٹی گنتی گننا چاہئے ۔یہ سمجھ جانا چاہئے کہ وقت کی صراحی سے مۂ اقتدار قطرہ قطرہ ہو کر بہنے لگی ہے اور کسی روزصراحی خالی ہی ہو جائے گی۔ 28اپریل 1949ء کومسلم کانفرنس اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والامعاہدہ کراچی آزادکشمیر کی انقلابی حکومت اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کار اور ذمہ داریوں کے تعین پر مشتمل ہے ۔ جس کے تحت ریاست جموں وکشمیر کے علاقوں اور گلگت بلتستان کے تمام معاملات حکومت پاکستان کے مقرر کردہ پولیٹیکل ایجنٹ کی وساطت سے حکومت پاکستان کو منتقل کئے گئے ۔اسی معاہدے کے تحت حکومت پاکستان ،حکومت آزادکشمیر اور مسلم کانفرنس کے اختیارات کی درجہ بندی اور تقسیم کی گئی ۔یہی وہ معاہدہ ہے جس کے بعد سردار محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں قائم ہونے والی اپنی فوج اور اپنے وزیر دفاع کی حامل باغی اور انقلابی حکومت کے لوکل اتھارٹی میں بدلنے کا آغاز ہوا تھا ۔سردار ابراہیم خان کی سربراہی میں قائم یہی حکومت تھی جس نے کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں لڑا تھا۔گویا کہ اس وقت یہ حکومت خارجہ اور دفاعی امور پر بھی اپنا کنٹرول رکھتی تھی ۔معاہدہ کراچی کے بعد نہ صرف آزادکشمیر حکومت کی عملی ہیئت اور حیثیت تبدیل ہو گئی بلکہ گلگت بلتستان کا علاقہ براہ راست وفاق کے کنٹرول میں چلا گیا ۔یہ علاقہ آزادکشمیر کا تو نہیں مگر پوری ریاست کا حصہ تھا اور آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ایک وفاق قائم ہو نا عین ممکن تھا ۔اس معاہدے کے تحت آزادکشمیر کی خارجہ پالیسی ،پاکستان اور بیرونی ممالک میںتشہیر کے معاملات ،رائے شماری کے سلسلے میں معاملات ،کشمیر کے حوالے سے پاکستان میں مختلف اقدامات ،خوراک کی فراہمی،سول سپلائی ،ٹرانسپورٹ ،مہاجرین کے کیمپوں کا قیام اور طبی امداد وغیرہ پاکستان کے کنٹرول میں جبکہ آزادکشمیر کی انتظامیہ کے متعلق پالیسی سازی ،آزاد علاقے کی انتظامیہ کی نگرانی ،آزادکشمیر کے علاقے میں اقتصادی ترقی وغیرہ آزادکشمیر کی ذمہ داری قرار پائے ۔آزادکشمیر کے آئینی ارتقا کے سفر میں آزادکشمیر کے اختیارات بتدریج کم ہوتے چلے گئے اور آزادکشمیر کے آئین عبوری ایکٹ 1974نے آزادکشمیر کی بے اختیاری کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔آزادکشمیر کے لاغر اور مضمحل انتظامی وجود کو کشمیر کونسل کی چھچھوندر کچھ اس انداز سے چمٹ کر رہ گئی جو مسلسل اس کا خون چوس رہی ہے۔آزادکشمیر کے کسی حکمران کی طرف سے اسلام آباد اور پالیسی سازوں کی مرضی اور منشاء کے بغیر اس ''سٹیٹس کو''کو توڑنے کی کوشش آگ کا کھیل ہی ثابت ہو تی رہی ہے ۔راجہ فاروق حیدر خان ایک جرات مند کشمیری راہنما ہیں مگر ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اس وقت آزادکشمیر کے حکمران ہیں اور بطور وزیر اعظم انہیں معاہدہ کراچی کو نہ ماننے کا اعلان کرنا پڑرہا ہے اور عین اسی وقت ان کی ممدوح جماعت اسلام آباد کی حکمران بھی ہے۔فاروق حیدر خان کی اس بات پر اسلام آباد میں بہت سی سجدہ گزار پیشانیوں پر بل ضرور اُبھرے ہوں گے مگر یہ باتیں اس قدر تلخ بھی نہیں جس لب ولہجے کا اظہار سی پیک کے حوالے سے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کررہے ہیں اور جس لہجے کا اظہار اسی کی دہائی میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نوازشریف اس وقت کرتے رہے ہیں جب مرکز میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی۔ لہجوں کی نرمی اور سختی کا تعلق حالات اور مدمقابل کے رویوں سے ہوتا ہے ۔وقت اور حالات ہی لہجوں میں تلخی اور نرمی لاتے ہیں۔ امید تو یہی ہے کہ عوام کاحق حاکمیت مانگنے کی بنا پر روایتی فوٹو سٹیٹ مشین سے ان کے لئے ''سیکورٹی رسک '' کی کاپیاں نکلنا شروع نہیں ہو ں گی بلکہ اس لب ولہجے کو ماضی کی شکایتوں کے تناظر میں سننے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے گی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ راجہ فاروق حیدر خان معاہدہ کراچی کو نہ ماننے کے معاملے میں زبانی حد تک ہی رہتے ہیں یا اس سمت میں کوئی عملی پیش رفت کرتے ہیں؟ ۔ہر دو صورتوں میں یہ ان کی حکومت کا بارودی سرنگوں پر سفر ہی ہے ۔ہمارے ہاں ایک رواج ہے کہ جائز آئینی اور قانونی حقوق مانگنے پر غداری کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاملات سنورنے اور حل ہونے کی بجائے بگڑتے ہی جاتے ہیں۔اچھے بھلے محب وطن لوگ بغاوت کی راہوں پر چل پڑتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں