زائد العمری' تعلیم کے حصول میں رکاوٹ

زائد العمری' تعلیم کے حصول میں رکاوٹ

شنید ہے کہ شیخ سعدی نے باقاعدہ علم کے حصول کا آغاز 60سال کی عمر کے بعد کیا تھا۔ یہ بات کہاں تک درست ہے ہمیں اس کا کوئی علم نہیں۔ بالیقین انہوں نے اپنے زمانے کے کسی تعلیمی ادارے میں داخلے کے بغیر اپنے طور پر علم کا سلسلہ جاری رکھا ہوگا۔ اگر کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کی کوشش کرتے تو انہیں زائد العمر قرار دے کر ان پر علم کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کردئیے جاتے اور یہ مہذب دنیا کا ایک بہت بڑا المیہ ثابت ہوتا۔ آج ہم ایک عظیم مفکر' دانشور' مصلح اور شاعر سے محروم ہوتے۔ یہ تمہید ہم نے اپنے تعلیمی اداروں میں زائدالعمری کی شرط کے نتیجے میں علم کے حصول کے بے شمار خواہشمندوں کی محرومی کی وجہ سے باندھی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں عمر کے کسی مرحلے میں بوجوہ تعلیمی سند کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن وہ ناکام رہتے ہیں اس پر بھی بات ہوگی پہلے بتاتے چلیں کہ اللہ کا ہم پر یہ بڑا کرم رہا کہ اس نے ہمیں کسی کالج میں داخلہ لینے کا موقع ہی نہیں دیا۔خپلہ خاورہ خپل اختیار کی طرح گھر بیٹھے ڈگریاں سمیٹتے رہے۔ اگر ہم اس خرخشے میں پڑتے تو انٹر سے آگے نہ بڑھ پاتے۔گھر بیٹھے طب کا ڈاکٹر بننے کی بھی آفر ہوئی' قبول نہ کی کہ ایسے ڈاکٹروں کی نہ اس وقت کمی تھی نہ آج ہے۔ ہمیں تو خیر کبھی زائد العمر ہونے کا مسئلہ پیش نہیں آیا لیکن وہ جو کالج یونیورسٹی میں داخلے کے لئے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس سے محفوظ رہے۔ ہمیں علم کے حصول کے لئے چین تک جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج کے طالب علم کو داخلوں کے لئے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کے مقابلے میں اس زمانے کے چین تک کا سفر زیادہ آسان ہوتا ہوگا۔ چلئے ہم مان لیتے ہیں کہ کسی تعلیمی ادارے میں داخلے کے نظام کو مربوط اور باقاعدہ بنانے کے لئے ان مراحل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لب بام تک پہنچنے کے لئے دو چار ہاتھ رہنے پر آپ کو بتایا جاتا ہے کہ حضور! آپ تو علم کے حصول کے لئے مقررہ حد کو ہی پار کر چکے ہیں۔ تمہیں اب مزید علم کی ضرورت نہیں رہی۔ جو کچھ پڑھ چکے ہو' اس پر ہی گزارہ کرو' ہم اس راز کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک شخص پر کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کی اہلیت کی دیگر تمام شرائط پر پوری اترنے کے باوجود زائد العمری کی پابندی کا کیا جواز بنتا ہے۔ قانون کی پاسداری اور قواعد و ضوابط کی پابندی سے کسے انکار ہوسکتا ہے لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ قوانین کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ ان کے لئے دشواریاں اور مشکلات پیدا کرنے کے لئے تشکیل نہیں دئیے جاتے۔ تعلیم کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ کوئی شخص اگر بوجوہ عمر کے کسی بھی مرحلے میں کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتا ہو تو اسے صرف زائد العمر قرار دے کر اس حق سے محروم کردینا کسی طور بھی مناسب نہیں۔ بعض سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتوں میں سالانہ انکریمنٹس اور ترقی کے لئے کسی تعلیمی ڈگری کی شرط لازمی قرار دی جاتی ہے۔ کوئی ملازم اگر ملازمت میں مالی فوائد اور منصب میں ترقی کے لئے یہ شرط پوری کرنے کی خاطر ملازمت سے چھٹی اور محکمے سے باقاعدہ اجازت حاصل کرکے کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ لینا چاہے تو اس کی راہ میں زائد العمری حائل ہوجاتی ہے اور وہ بقیہ ملازمتی زندگی میں نہ صرف ترقی سے محروم رہتا ہے بلکہ اسے مالی فوائد بھی نہیں دئیے جاتے۔ اس ضمن میں گزشتہ دنوں دو مثالیں ہمارے سامنے آئیں۔ ہمارے ایک دیرینہ شاگرد کی کالج سے ایف اے کرنے کے بعد ٹیلی فون کے محکمے میں کسی عمومی اسامی پر تقرری ہوئی۔ گزشتہ 25 سال کے طویل عرصے میں اپنی محنت اور اچھی کارکردگی کی بنیاد پر درجہ بہ درجہ ترقی کرتے ہوئے وہ اس وقت سب ڈویژنل آفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس دوران وہ پرائیویٹ طور پر بی اے کی ڈگری بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اب اپنے محکمے میں مزید ترقی کے لئے انہیں ایک ایسے مضمون میں ماسٹر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے جو وہ پرائیویٹ طور پر نہیں کرسکتے۔ اس کے لئے کسی یونیورسٹی میں داخلہ ضروری ہے۔ چونکہ اب وہ یونیورسٹی میں داخلے کے لئے عمر کی حد پار کر چکے ہیں چنانچہ اپنے محکمے میں دیگر تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود صرف ایک ڈگری کی کمی کی وجہ سے مزید ترقی نہیں کرسکتے۔ وہ بقیہ ملازمتی عرصے میں اسی منصب پر کام کرتے رہیں گے۔ اسی طرح محکمہ پولیس میں ملازم ہمارے ایک دوست نے ایل ایل ایم کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ ڈگری اپنے محکمے میں ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنا سکتی تھی۔ لیکن وہ بھی زائد العمر ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی میں داخلے سے محروم رہ گئے۔ کیا یہ ایک شہری کے لئے تعلیم کے حصول کے بنیادی حقوق سے محرومی کی مثالیں نہیں اور کیا کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری محکمے میں ملازم شخص کو صرف زائد العمری کی اس پابندی کے نتیجے میں تعلیم کے حصول کے بنیادی حق سے محروم رکھا جاسکتا ہے؟ سرکار کو اس نکتے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں