سی پیک،آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

سی پیک،آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

پاک چین اقتصادی راہداری پرجماعت اسلامی کی آل پارٹیز کانفرنس میں صوبے کی تمام 16بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان نے کی ۔ مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں خیبر پختونخوا کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی جماعتیں ایک صف میں ہیں مسلم لیگ ن کو بھی ساتھ ملائیں گے اور قانون و آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے متحدہ جدجہد جاری رکھیں گے۔ہماری کسی کے ساتھ کوئی جنگ نہیں۔ ہم صرف وزیر اعظم کے28مئی2015ء کو اے پی سی میں کی گئی تقریر پر اصل روح کے مطابق عمل درآمد چاہتے ہیں۔ہم وہ نقشے اور منصوبے چاہتے ہیں جن کے اعلانات اوریقین دہانی وزیر اعظم پوری قوم کے سامنے کر چکے ہیں ۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر سیاسی جماعت جب چاہے اسی طرح کی اے پی سی طلب کرے ہم سب اس میں شرکت کریں گے اور صوبائی حقوق کے لیے ایک ساتھ جد و جہد کریں گے۔حکومت نے سیاسی جماعتوں کے مطالبہ پر مشترکہ اجلاسوں میں جو موقف اپنایا تھا،بدقسمتی سے کسی بھی وعدہ اور یقین دہانی کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔لیکن عملی طور پر کوئی بھی نقشہ اور خاکہ موجود نہیں۔اس حوالے سے کئی آل پارٹیز کانفرنسزہو چکی ہیں۔پاکستان کی ترقی کے اس عظیم منصوبہ کو تاریخی خوش قسمتی سمجھتے ہوئے اس سے استفادہ کیا جائے ۔ تمام چھوٹے صوبوں کو اس کا حق دیا جائے اور اگر مرکزی حکومت اس میں خیبر پختونخوا کو جائز حصہ نہیں دیتی تو متفقہ طور پر تمام آئینی ، سیاسی ،قانونی اور اخلاقی راستے اختیار کریں گے اور اس سنہری موقع کو کسی طور نہ ضائع کریں گے نہ سیاست کی بھینٹ چڑھنے دیںگے۔اب تک مرکزی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے ابہام مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ پہلے سے موجود شبہات ختم ہونے کے بجائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں جن میں اسمبلی کے اندراور باہر پارٹیاں شامل ہیں،نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ چائنا پاکستان اکنامک کارویڈورCPECمیں خیبر پختونخوا کے حسب ذیل منصوبے شامل کیے جائیں ۔اور ان منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کرنے اور آغاز کے لیے ٹائم لائن دی جائے۔اس اے پی سی میں حکومت سے موا صلات اور توانائی کی مد میں مندرجہ ذیل مطالبات کئے گئے۔ 1)28مئی2016کو وزیر اعظم نواز شریف نے پہلی اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتوں اور قومی قیادت کے سامنے اعلان کیا تھا کہ سب سے پہلے CPECکے مغربی روٹ پر تمام لازمی اقدامات(Allied-Facilities) کے ساتھ کام شروع کیا جائے گا،وزیر اعظم کے اسی اعلان پر مِن و عن عمل درآمد کیا جائے۔2)ڈیرہ اسماعیل خان تا پشاور انڈس ہائی وے کو بطور مغربی روٹ اختیار کرکے فوری طور پرچھ رویہ کیا جائے۔3) سی پیک میں شامل تمام منصوبوں ریلوے لائنز،تیل و گیس ،فائبر آپٹک کیبل کے آغاز کے لیے ٹائم لائن دیا جائے مزید برآں خیبر پختونخوا میں CPECسے متعلقہ ٹریڈ زون،اکنامک زونز اور انڈسٹریل زونز کے قیام کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کی مشاورت سے منصوبے شروع کیے جائے ۔

4 )WesternRouteپرریلوے لائن بچھانے اور اس کے ساتھ ہائی پاور ٹرانسمیشن لائن بچھائیں اور موجودہ ڈسٹری بیوشن لائن کو فور ی طور اپ گریڈ کیا جائے اور اس کے لیے ٹائم لائن دی جائے۔ 5)چکدرہ، کالام اور خوازہ خیلہ بشام ایکسپریس وے کی تعمیر اور تکمیل کو پہلی ترجیح میں رکھا جائے۔6)پاکستان کو وسط ایشیا سے منسلک کرنے کے لیے چکدرہ ،چترال،شندور اور گلگت ایکسپریس وے آسان ترین ذریعہ ہے یہ پاک بھارت علاقائی سٹریٹجک صورت حال کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورت حال میںمتبادلCPECثابت ہو گا۔بنا بریں اس کو سی پیک کے Multiple Passages کا حصہ بنایا جائے ۔
7)پشاور/ ڈی آئی خان مجوزہ چھ رویہ (Six-Lane) موٹر وے کو تین مقامات پر فاٹا سے رابطہ سڑکوں کے ذریعے منسلک کیا جائے اور باجوڑ تا جنڈولہ تک موٹرووے جو پورے فاٹا کو لنک کریںاور خیبرپختونخوا سے بھی فاٹا کو ملائے ۔8) پشاور کو اورنج لائن کی طرز پر سی پیک مغربی روٹ سے منسلک کیا جائے۔9)ریلوے لائن بشمول پشاور طور خم ریلوے لائین کو CPECکے معیار کی ریلوے لائن بنایا جائے۔
10)خیبر پختونخوا پن بجلی کے حوالے سے ہر طرح کے وسائل سے مالا مال ہے۔کوئلہ اور دیگر ذرائع کے بجائے تمام تر توجہ اسی پر مرکوز کی جائے۔11)خیبر پختونخوا میں CPEC میں 10,000میگاواٹ بجلی بنانے کی غرض سے پن بجلی کے منصوبوں کے لیے پانچ ارب ڈالر مختص کیے جائیں۔12)خیبر پختونخوا میں پن بجلی کے تمام زیر تعمیر منصوبوں کوCPECکا حصہ قرار دے کر ان کی تکمیل کو پہلی ترجیح میں رکھا جائے۔ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی پا رٹیوں کے قائدین اور با لخصوص جماعت اسلامی کی صوبائی قیادت نے خیبر پختونخوا کے لوگوں کے جائز حقوق کے لئے اتحاد اور اتفا ق سے قدم اُٹھایا۔

متعلقہ خبریں