اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے ۔۔

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے ۔۔

شب و روز کی گہماگہمی ہی زندگی ہے ۔رات ہوتی ہے اور پھر نیا سورج ایک نیا دن لیے اُگ آتا ہے ۔زندگی کا ایک زاویہ تو یہ ہے کہ کبھی تو وقت یو ں کچھوے کی رفتارسے آگے بڑھتا ہے کہ اکتاہٹ سی ہونے لگتی ہے اور کبھی یوں گزر جاتا ہے کہ جیسے بجلی آسمان پر گرجتی ہے۔ چمکتی ہے اور پھر غائب ہوجاتی ہے ۔انسان نے بہرحال دونوں صورتوں میں جینا تو ہوتا ہے ۔میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جب جینا ہی ہے تو کیوں نہ ہنس کے جیا جائے ۔انسان اپنے دکھوں سے دور تو بھاگ نہیں سکتا اور سکھ کسی ایسی چڑیا کا نام ہے کہ جسے شکار کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتا ۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب سکھ آسان نہیں تو پھر کیسے خوش رہا جاسکتا ہے ۔ جواب یہ ہے کہ خوشی یا غم دونوں انسان کے اندر ہی سے کہیں پھوٹتے ہیں ۔ اکثر یہ جواز ناپائیدار اور خودساختہ ہوتے ہیں۔ خوشی میں یہ صورتحال بہرحال سود مند ہی ہوتی ہے لیکن دکھ میں یہ سودا مہنگا ہی ہے ۔ ایسا ہوتا بھی اس وقت ہے جب انسان'' مثبت ''کے بجائے '' منفی '' کی عینک لگا کر چیزوں کو دیکھنا شروع کردے ۔ حسد ، نفرت ،جھوٹ ، فریب انسانی عینک کے وہ منفی عدسے ہیں کہ جن سے انسان سکون کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔گویا ان منفی عدسوں میں خوشی کے حوالوں کو دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ۔ ماہرین نفسیات بھی تو یہی کہتے ہیں کہ بی پازیٹیویا تھنک پازیٹیو۔کیونکہ یہ پازیٹیوٹی انسان کو اندر سے مضبوط کردیتی ہے۔ انسان اندر سے مضبوط ہوجائے تو پھر کوئی منفی بیماری انسان کو لاحق نہیں ہوتی کیونکہ انسان اپنی ذات میں سکون کو تلاش کرلیتا ہے ۔یہ اندرکا سکون میسر نہ ہوتو انسان جانے کیا کیا کچھ کربیٹھتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ سکون کے لیے ہی کررہاہے جبکہ صورتحال اکثرالٹ ہی ہوتی ہے ۔شاید ہماری یہی بے سکونیاں اجتماعی صورت میں ہمارے ہاں کسی سسٹم کو پنپنے نہیں دیتیں ورنہ کیا نہیں ہے ہمارے پاس کہ ایک اچھا سماج نہ بناسکیں ۔ بہت سے لوگ انفرادی طور پر اپنا اپنا کام کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی تعداد ہمارے یہاں کچھ کم ہی ہے۔ دفاتر کو ہی دیکھ لیجئے کہ جہاں لوگ تنخواہوں کے لیے کام کرتے ہیں جبکہ کام ایک فریضہ بھی تو ہو سکتا ہے ۔ہم مثبت مثالوں کو کم ہی دیکھتے ہیں جبکہ منفی مثالیں چار سو پھیلی رہتی ہیں ۔میں جہاں کہیں کسی کے اچھے کام کو دیکھتا ہوں تو اس کی مفت میں تشہیر کرتا رہتا ہوں کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انسان جب کسی واقعی اچھی چیز ،بات یا صلاحیت کی تعریف کرتا ہے تو سننے والے اس سے ضرور انسپائر ہوتے ہیں اور یہی انسپائریشن ہی کسی کو بہتر انسان بننے کی جانب غیر محسوس انداز میں گامزن کردیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بورڈ آف انٹر میڈیٹ مردان جانے کا اتفاق ہوا ۔ جہاںسے واپسی پر ایک خوشگوار احساس ساتھ لے کر آیا ہوں۔بورڈ کی عمارت بہت دلکش نہیں لیکن اپنی سادگی اور صفائی کے حوالے سے آنکھوں کو بھلی لگی ۔ عمارت کے اندر جگہ جگہ پینا فلیکس آویزاں تھے کہ جن پر ویزیٹرزکے لیے مختلف ہدایات درج تھیں۔اور ایک ہدایت بلکہ نصیحت یہ بھی درج تھی کہ طلباء کسی بھی مشکل کی صورت میں یا کسی کارندے کی جانب سے رشوت کے مطالبے پر سیکریٹری بورڈ سے ملاقات کرے۔یقینا یہ بات میرے لیے بڑی خوشگوار تھی کہ بورڈ انتظامیہ کرپشن ختم کرنا چاہتی ہے ۔ ایک بورڈ لیگل سیکشن لگا ہوادکھائی دیا کہ جس میں طلباء کے مسائل سنے جاتے ہیں اور ان کی مدد کی جاتی ہے۔ یہاں مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ بورڈ کے لیے خدما ت انجام دینے والوں کو آن لائن پیمنٹ کردی جاتی ہے ۔ماضی میں لوگوں کو اپنے بلوں کے حصول کے لیے خاک چھاننی پڑتی تھی اب ان کے بل خود کار سسٹم کے تحت ان کے اکاؤنٹس میں چلے جاتے ہیں ۔ٹیکنالوجی اور جدید بنکنگ کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے والے ادارے یقیناخود ادارے اور اس کے صارفین کے لیے آسانیاں پیدا کردیتے ہیں۔بورڈ کی عمارت میں آدھ گھنٹے کے اندرہی مجھے احساس ہوگیا تھا کہ یہاں کچھ نیانیا ہے ۔لوگوں کے کام بھی ہورہے ہیں اور تسلی بخش ہورہے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ قانون کے مطابق ہورہے ہیں ۔سسٹم اچھا ہو تو سب کو ہی فائدہ ہوتا ہے لیکن سسٹم کو چلانے والا ہوناچاہیئے ۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس بورڈ میں یہ مثبت تبدیلیاں یہاں کے سیکریٹری پروفیسر طارق جان کے دم سے ہیں ۔جی خوش ہوا کہ چلو ان گئے گزرے حالات میں کوئی ہے جو اپنے حصے کی شمع جلارہا ہے اورظلمت شب کا گلہ نہیں کررہا ۔اصل میں ہمارے ہاں زیادہ تر لوگ تنخواہ کے لیے نوکری کرتے ہیں جبکہ تنخواہ ہمیں کسی کام کے عوض ہی ملتی ہے ۔ ڈیوٹی تو کرنی ہوتی ہے لیکن اگر ڈیوٹی کو فرض سمجھ لیا جائے تو انسانوں کو فیض پہنچنا شروع ہوجاتا ہے ۔ انسان ہی انسان کو فیض پہنچا سکتا ہے اور یہی انسان کا اس دنیا میں کام ہے ۔میں اکثر دفتروں میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اپنے کام کاج چھوڑ کردوردراز سے آئے ہوتے ہیں لیکن وہاں پہنچ کر ان کے کام نہیں ہوتے ۔حالانکہ ان دفاتر میں بیٹھے لوگ انہی کے کاموں کے لیے وہاں بیٹھے ہوتے ہیں ۔ایک بات جو میں اکثر دوستوں ،شاگردوں سے کرتا ہوں کہ جہاں جاؤایک بات یاد رکھوکہ ہر چھوٹے بڑے ادارے کی ایک تاریخ مرتب ہورہی ہوتی ہے۔ ان اداروں میں کام کرنے والے اس تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں ۔ ادارے باقی رہ جاتے ہیں عہدوں پرفائز انسان تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ جو اچھا کام کرکے جاتا ہے لوگ اسے اچھے ہی ناموں سے یاد کرتے ہیں اور جو برے کام کرکے جاتے ہیں انہیں تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی اور انسان تو ہے ہی فانی ۔فنا سے کس کوانکار ہوسکتا ہے ۔ جب فنا ہی مقدر ہے تو انسان کم از کم اپنے نام کو تو امر کرسکتا ہے اور نیکی ایک ایسی چیز ہے کہ جو کبھی فنا نہیں ہوسکتی ۔

متعلقہ خبریں