بیک وقت دو اہم پیشرفت

بیک وقت دو اہم پیشرفت

امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل آرنلڈ ریمنڈ میک ماسٹر کے کابل کے غیر اعلانیہ دورے کے بعد اچانک اسلام آباد پہنچے اور طالبان کے تمام دھڑوں کے خلاف موثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی اثناء میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان اور جماعت الاحرار کے موجودہ لیڈر احسان اللہ احسان کی جانب سے خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا اعلان سامنے لایاگیا ہے جس سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان طالبان کے حوالے سے پہلی مرتبہ خیالات کے تضادات اور پالیسی میں تبدیلی کا واضح عندیہ ملتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ طالبان کے خلاف موثر کارروائی کا حامی ہے جس کا مطلب یہ لیا جاسکتاہے کہ امریکہ افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے حق میں نہیں یا پھر امریکہ افغانستان میں طالبان کو بزور قوت زیر کرنے کا اب بھی خواہشمند ہے۔ اس کے باوجود کہ روس کو افغانستان میں اس ضمن میں کامیابی نہ ہوسکی اور نہ ہی امریکہ اور نیٹو اتحاد کے ممالک کے کیل کانٹے سے لیس فوجوں کو اس مد میں کامیابی مل سکی۔سوال یہ ہے کہ امریکہ نیٹو اتحاد کے فوجوں کی موجودگی اور مشترکہ عالمی وسائل کے استعمال کے باوجود جب کامیابی نہ حاصل کرسکا تو اب طالبان کے خلاف موثر کامیابی حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار چہ معنی دارد۔ اس وقت پاکستان کی جانب سے امریکہ کو لا جسٹک سپورٹ اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی صورت میں عملی اور بھرپور تعاون بھی حاصل تھا مگر پہاڑوں' جنگلوں' بیابانوں اور آبادی میں بکھرے جنگجوئوں کو زیر نہیں کیا جاسکا تو اس وقت یہ کیونکر اور کیسے ممکن ہوگا جب پاکستان امریکہ اور روس کے اتحادی ممالک یہاں تک کہ افغانستان سے بھی مکمل طور پر مایوسی کے بعد طالبان سے مفاہمت اور مذاکرات کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس سعی میں روس اور چین بھی پاکستان کے ہمنوا ہیں۔ اس صورتحال میں امریکہ کا پاکستان پر پراکسی چھوڑ کر ڈپلومیسی اپنانے پر زور دینے کا عمل بھی قول و فعل کے تضاد کی زد میں ہے کیونکہ پاکستان اس امر کا عملی طور پر خواہاں دکھائی دیتا ہے اور سہ فریقی مذاکرات میں اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کئے جائیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت نہ تو طالبان سے جنگ کی سکت رکھتی ہے اور نہ ہی وہ خطے کے بڑے ممالک کے ساتھ مل کر معاملات کو مفاہمت سے طے کرنے کی حامی ہے۔ اس ساری صورتحال میں افغانستان کے امریکہ کے ہاتھوں یر غمال ہونے کا گمان گزرتا ہے جبکہ طالبان کی مذاکرات شروع کرنے کی بنیادی شرط امریکہ کی افغانستان سے واپسی ہے۔ اگر امریکہ افغانستان میں مفاہمت کے کسی فارمولے کا خواہاں ہے تو اس کو سب سے پہلے افغانستان میں اپنے فوجی اڈے ختم کرکے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور مفاہمت کی راہ ہموار کرنا ہوگی۔ پاک فوج کی جانب سے احسان اللہ احسان کے ہتھیار ڈال کر خود کو فوج کے حوالے کرنے اور مزید رہنمائوں کے ہتھیار ڈالنے کا عندیہ دینے کے عمل کو سامنے لانے سے اس امر کا واضح اظہار ہوتا ہے کہ پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے ساتھ ساتھ پس پردہ مذاکرات اور مفاہمت کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ سابق طالبان ترجمان کے فوج کے پاس ہونے اور مزید رہنمائوں کے ایسا کرسکنے کے امکانات کا اظہار اس امر کی جانب واضح اشارہ اور ثبوت ہے کہ روس ' چین اور پاکستان کے درمیان طالبان کو قومی دھارے میں لانے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کے حل کی جو پالیسی وضع کی گئی ہے اس پر آگے بڑھا جائے گا۔ بعض اخبارات میں آمدہ دنوں میں افغانستان میں ملا فضل اللہ کے خلاف مشترکہ کارروائی کا امکان ظاہر کیاگیا ہے اور اس ضمن میں افغان حکومت کے مثبت کردار کا بھی عندیہ دیاگیا ہے۔ اگر واقعی یہ عمل شروع ہو تا ہے تو پھر امریکی قومی سلامتی کے نمائندے کی پاکستان کو ڈپلومیسی اپنانے کے مشورے کی سنجیدگی اور اس عمل میں امریکہ اور افغانستان کی بھی شمولیت کاعندیہ ملتا ہے جس کا فی الوقت امکان کم ہے۔ ہمارے تئیں اس حوالے سے اب دو رائے نہیں کہ طالبان کو پاکستان میں تو کامیاب فوجی کارروائی کے ذریعے کچل دیاگیا اس کے باوجود مذاکرات و مفاہمت کے دروازے بند نہ ہونے کا اب بھی عندیہ ملتا ہے۔ اگر افغانستان میں بھی تمام قوتیں اس کی خواہاں ہوںگی تو خطے میں قیام امن کی راہ ہموار ہوگی۔ اس ضمن میں امریکی نمائندے کی جانب سے ماضی کی طرح کسی دھڑے کو نہ چھوڑنے اور تمام کے ساتھ یکساں معاملت اور پالیسی اختیار کرنے کا مشورہ قابل توجہ ہے۔ خود امریکہ کو بھی اس ضمن میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنا ہوگا اور اس امر کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ خواہ مخواہ پاکستان کو مطعون کرنے کی بجائے حقیقت پسندانہ طرز عمل اپنائے۔ ہمارے تئیں جب تک افغانستان کے حوالے سے دنیا کے بڑے اور متعلقہ ممالک مفاہمت اختیار کرنے کا راستہ خلوص سے نہیں اپناتے اور اس پر عمل پیرا نہیں ہو جاتے تب تک خطے میں صورتحال کی تبدیلی ممکن نہیں اور اگر امریکہ و افغانستان ' روس ' چین اور پاکستان کے مفاہمتی عمل میں شراکت کی بجائے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی مفادات کے تحفظ و موجودگی کی کوئی راہ تلاش کرتے ہیں تو خطے میں ایک نئی سرد جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں