سانحہ ولی خان یونیورسٹی اور جامعات کے معاملات

سانحہ ولی خان یونیورسٹی اور جامعات کے معاملات

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے افسوسناک واقعے میں ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے مشال خان مرکزی ملزم کے بیان کے بعد توہین کے الزام سے پوری طرح بری ہوگئے جس سے ان کے غمزدہ خاندان دوستوں اور احباب کو ایک گونہ اطمینان ہونا فطری امر ہے ۔مرکزی ملزم کے بیان کے بعد اس واقعہ کے پس پردہ کرداروں اور ان کے مقاصد کو بھی سمجھنا مشکل نہیں ۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ظلم و نا انصافی اور بد عنوانی کے خلاف معمول سے بڑھ کر رد عمل دکھانے اور انتظامیہ کو لتاڑنے والے نوجوان کو قتل کرنے کا منصوبہ شاید نہ ہوگا۔ منصوبہ سازوں کا منصوبہ ان کو ڈرا دھمکا کر اور الزام لگا کر یونیورسٹی سے معطل کر کے ان کو خاموش کرنے کا تھا مگر ہجوم بے قابو ہوگیا اس واقعے کے پس پردہ بد عنوانی اور بد عنوانی پر پردہ ڈالنا نظر آتا ہے جس کی بناء پر مقتول اور الزام لگانے والوں کے ایک ہی سیاسی جماعت سے تعلق ہونے کے باوجود نقطہ نظر کے اختلاف کے باعث ٹھن گئی تھی ۔ یہ واقعہ بد عنوان عناصر کے ایک ایسے گھنا ئو نے کردار کو طشت ازبام کرنے کا سبب ثابت ہوا جس کا محور بد عنوانی تھی ۔ عبدالولی خان یونیورسٹی میں بھرتیوں سے لیکر آلات کی خریداری میں کروڑوں روپے کی کرپشن اور اس پر نیب کی کارروائی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اس واقعے کے بعد جہاں مقتول کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا نے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے وہاں ان کے خون بہا کے طور پر ولی خان یونیورسٹی کے حسابات اور تقرریوں و بھر تیوں کی خصوصی چھان بین کر کے قصور وار عناصر کو کیفر کردار تک پہنچا نے کی ضرورت ہے ۔ کرپشن مافیا کا اب ڈرگ مافیا کی طرز پر جان لینے پر اتر آنا ایک نئے اور خطرناک رجحان کا آغاز ہے اگر اس واقعے کو سطحی لیا گیا اور اصل محرکات کو نظر انداز کرنے یا مصلحت کا شکار ہونے کی غلطی کی گئی تو حق کی آواز بلند کرنے والاکوئی نہیں رہے گا ۔ صرف یہی نہیں بعض یونیورسٹیوں میں اساتذہ کرام کا نظریاتی طور پر انتہا پر چلے جانے اور بعض یونیورسٹیو ں میں طالب علموں کی معمولی غلطیوں پر ان کو سمسٹر سے آئوٹ کرنے اور پرچہ دینے کی اجازت نہ دینے کے بعد آئندہ سمسٹر میںان کو قانون کے مطابق موقع نہ دینے کی بھی شکایات ہیں ۔اس طرح کے معاملات پر نوجوانوں میں اشتعال اور ناخوشگوار واقعات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جن کا متعلقہ حکام کو بروقت نوٹس لینے اور ان کی روک تھام کی ضرورت ہے ۔ گو رنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑاکو یونیورسٹیوں کے معاملات سے خود کو آگاہ رکھنے اور اس طرح کی شکایات وواقعات کا بروقت نوٹس لینا چاہیئے۔ تمام یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلر ز خالصتاً میرٹ پر مقرر کرنے میں اب مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیئے ۔
سکولوں میں جسمانی سزائیں بند نہ کی جا سکیں
گورنمنٹ پرائمری سکول قاضی خیل کے چوتھی جماعت کے طالب علم پر تشدد پر سکول ٹیچر کے خلاف تھانہ چارسدہ سٹی میں مقدمے کا اندراج اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ز کی طر ف سے سکول پرنسپل اور متعلقہ ٹیچر کو معطل کرکے تحقیقاتی ٹیم کی تقرری سنجید ہ کارروائی کے زمرے میں آتے ہیں جنکی مخالفت نہیں کی جا سکتی ۔مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری سکولوں ہی میں نہیں بعض نجی سکولوں میں بھی طلبہ پر تشدد ہوتا ہے اور بعض اوقات تشدت سے طالب علموں کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ اگر چہ کسی قسم کا بھی تشدد روا نہیں لیکن اس کے باوجود والدین اور معاشرہ اصلاح کیلئے سزاء کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ اس کو مستحسن جانا جاتا ہے ۔ بچوں کی اصلاح کیلئے سزا والدین بھی دیتے ہیں لیکن اس قسم کے تشدد کی کسی کو اجازت نہیں جس کی شکایات آتی ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہر سکول اور تعلیمی ادارے کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کو بہیمانہ سزادینے اور تشدد سے عملی طور پر روکے اور ان پر نظر رکھے سزا کا ایک طریقہ کار مقرر کیا جائے جس کے تحت بطور سزا طالب علم کو بر آمد ے میں کھڑا کرد ینا کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ دینا وقفے میں ان کا کھیل کود میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرنا یاپھر زیادہ سنجیدہ صورت میں ان کے والدین کو سکول بلا کر ان کو صورتحال سے آگاہ کرنا جیسے اقدامات شامل ہیں ۔ سکولوں میں تشددکے باعث طالب علموں کا سکول جانا چھوڑ دینا بھی اپنی جگہ مشکل صورتحال ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ سرکاری سکولوں میں خاص طور پر اساتذہ کو طالب علموں سے نرمی سے پیش آنے اور طلبہ کو راغب کر کے تعلیم پر مائل کرنے پر توجہ دی جائے گی اور سزا سے پیدا ہونے والے معاملات اور مسائل کی نوبت نہیں آنے دی جائے گی ۔

متعلقہ خبریں