مسلمانوں کی نا اہل قیادت

مسلمانوں کی نا اہل قیادت

گزشتہ روز ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں بر می پولیس اور فوجی اہلکار روہنگیا کے مسلمان کو بر ہنہ کرکے لوگوں کے سامنے کو ڑے ما رہے تھے۔ وہ بیچارہ ہر کو ڑا پر اللہ اکبر کی صدا بلند کرتا۔کوڑے لگتے لگتے اُس کی کمر سے خون کے فوارے نکلناشروع ہوجاتے ہیں ۔ یہی صورتحال کشمیر، فلسطین، بھارت ، شام اور دنیا کے اکثر ممالک میں مسلمانوں کی ہے۔ عراق ، لیبیا ، افغانستان اور اب شام میں امریکہ اور اسکے اتحا دیوں کے پاس کوئی جواز نہیں تھا کہ اُن ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں اور اُن پر قبضہ کریں مگر ان مسلم ممالک کے خلاف جو کچھ ہوا وہ کسی سے پو شیدہ نہیں۔پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی بغیر کسی جُرم کے 14 سال سے امریکہ کی قید میں ہے۔ مگر پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کوامریکیوں نے کیسے چھڑا لیا اور اب کلبھوشن کی رہائی کے لئے بھارت کس طر ح سر گرم ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کے پاس دنیا کے 70 فی صد وسائل ہیں مگر نا اہل قیادت ،آپس میں نفاق اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی نہ ہونے کی وجہ سے ان وسائل سے صحیح طریقے سے استفادہ نہیں کر سکتی اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہیں انکے وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور وہ ذلت اور پستی کا شکار ہیں۔ مشہور زمانہ جرنل'' آئل اینڈ گیس ''کے مطابق مسلمانوں کے پا س اس وقت 70 فی صد تیل کے ذخائر ہیں جو 600 بلین بیرلز ہے۔ اسکے علاوہ مسلمانوں کے پا س 50 فی صد قد رتی گیس کے ذخائر ہیں جو 3000 ٹریلین مکعب فُٹ ہے۔دنیا کے دس ممالک جس میں عراق، ایران، سعودی عرب شامل ہیں میں ہزاروں بلین ڈالر کے قدرتی وسائل ہیں۔ عراق میں 16 ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل( دنیا کا 10 فی صد)، سعودی عرب میں 35 ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل( دنیا کا 20 فی صد) اور ایران میں 28 ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل ہیں جو دنیا کا17 فی صد ہے۔دنیا کے سلفر بر آمد کرنے والے 10ممالک میں تین مسلمان ممالک متحدہ عرب امارات ، قطر اور ایران ہیں۔ علاوہ ازیں "دی جرنل آف یو رینیم "کے مطابق مسلمانوں کے پا س پو ری دنیا کا 30 فی صد یعنی 6500 ٹن یور نیم ہے جس سے جو ہری اور ایٹمی میدان میں انقلاب بر پا کر کے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یورینیم پیدا کرنے والے ممالک میں نائیجر، نمیبیا اور قازقستان سر فہرست ہیں۔لوہے کے وسائل میں ترکی، ایران، مصر، تیونس ، الجیریا اور مراکش سر فہرست ہیں۔دنیا کے دس ممالک جہاں پر کوئلہ زیادہ پایا جاتا ہے اُن میں مسلمان ممالک میں قازقستان اور پاکستان شامل ہے۔ تانبے کے دس بڑے ممالک پیدا کرنے میں انڈو نیشیا شامل ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں لیتھیم اور سلی کان بکثرت پایا جاتا ہے جس سے شمسی توانائی اور موبائل بیٹری بنانے میں انقلاب بر پا کیا جا سکتا ہے۔دنیا کا کُل رقبہ 15 کروڑ مربع کلومیٹر ہے اورمسلمان تقریباً 3کروڑمربع کلومیٹر یعنی 19 فی صد رقبے پر رہتے ہیں جبکہ مسلمانوں کی آبادی 1.8ارب یعنی پو ری دنیا کا تیسرا حصہ ہے۔یہ تو چند قدرتی وسائل کا ذکر ہے اسکے علاوہ ایسے ہزاروں قدرتی وسائل ہیں جو مسلمان ممالک میں ہیں مگران وسائل سے مسلمان استفادہ نہیں کر سکتے ۔ اور اتنے سارے وسائل کے با وجود بھی یہود و ہنود کے ظلم و بر بر یت کا شکار ہیں۔ ٧٥ اسلامی ممالک کی اقتصا دیات 19ہزار ارب ڈالر ہے جبکہ صرف امریکہ کی اقتصادیات ١٩ ہزار ارب ڈالر ہے۔اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو ہانگ کانگ جس کا رقبہ 45 ہزار مربع کلو میٹر ہے مگر وہاں پر فی کس آمدنی 54 ہزار ڈالر ہے۔ لگزمبرگ کی آبادی تقریباً 3ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر اس ملک کی فی کس آمدنی 55 ہزار ڈالر فی کس ہے۔ جبکہ اسکے بر عکس پاکستان کا رقبہ تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر ہے مگر اسکی فی کس آمدنی 2 ہزار ڈالر ہے۔

یہود و ہنود کے چند لاکھ فو جیوں نے پوری اُمہ مسلمہ کو یر غمال بنا رکھا ہے۔نیٹو اور امریکہ کے چند ہزار فو جیوں نے اگر ایک طرف اپنے جدید اسلحے اور وسائل کے بل بوتے پر افغانستان ، عراق، لیبیا پرقبضہ کیا ہوا ہے تو دوسری طر ف ما ضی قریب میں ایران کو دھمکیاں دے رہا تھا کہ وہ اپنا ایٹمی پرو گرام بند کر دے مگر کسی اسلامی ملک میں یہ اخلاقی جُرأت نہیں کہ وہ امریکہ کو بتا سکے کہ اگر نیوکلیئر پروگرام انسانوں کی بہتری کے لئے نہیں تو سب سے پہلے وہ اپنا نیو کلیئر پروگرام کیوں بند نہیں کر تا۔مسلمان ذلیل اور رسوا اسلئے ہیں کہ انکی قیادت اس اہل نہیں جو اپنے مسائل کو بخوبی حل کر سکے۔علاوہ ازیں مسلمان ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیمی میدان میں بُہت پیچھے ہیں اور ما ضی میں تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی مسلمانوں کا اثا ثہ ہوتا تھا مگر اب مسلمان یہو د وہنود کے زیر اثر ہیں۔ پاکستان میں بے روز گاری مہنگائی، پسماندگی کی ذمہ دار نا اہل لیڈر شپ ہے۔ لیڈر شپ ملکوں اور ریاستوں کی قسمت کو بدل دیتی ہے اور ترقی یافتہ ممالک نے جتنی ترقی کی ہے وہ انکی اچھی لیڈر شپ اور قیادت کی وجہ سے ہے۔ہم کنٹینروں ، سمندروں کے راستے قانونی اور غیر قانونی طریقے سے یو رپ جاتے ہیں کیونکہ وہاں کی اچھی قیادت اور لیڈر شپ کی وجہ سے انہوں نے اپنے ملکوں کو جنت بنایا ہوا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ لوگ قانونی اور غیر قانونی طریقے سے وہاں سکونت اور شہریت لینے کے لئے سر گرداں ہوتے ہیں۔اگر مسلم ممالک کی قیادت اچھی ہو تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم یو رپ سے آگے نہ جاسکیں۔

متعلقہ خبریں