ریڈیو کی کچھ مزید یادیں

ریڈیو کی کچھ مزید یادیں

پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ریڈیو کے سنہری دور کے ایک پیشکار تاج محمد خان ، دوسال پہلے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ وہ شعبہ موسیقی کے انچارج اور صرف اپنے کام سے کام رکھنے والے ایک خاموش کار کن تھے ۔ ان کی رحلت کا سن کربے حد دکھ ہوا ، اور یہ جان کر مزید افسوس ہوا کہ یہ خاموش اور شریف النفس انسان اتنی خاموشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوا کہ ان کے ریڈیو کے پرانے ساتھیوں کو بھی خبر نہ ہوئی۔ عبد اللہ جان مغموم مرحوم کو بھی یہ گلہ تھا کہ یار عجیب لو گ ہیں ، ریڈ یو میں 40سال کی ملازمت کے بعد رخصت ہونے لگے تو کسی نے ایک پیالی چائے تک کا بھی نہ پوچھا ۔ یہ تو خیر انسانی رویو ں کی باتیں ہیں کہنا یہ چاہتے تھے تاج محمد خان کی رحلت کی دکھ بھر ی خبر سے ایک بار پھر ہمارے ذہن میں ریڈ یو کی کچھ پرانی یادیں تازہ ہوگئیں ۔ خیال آیا کہ آج کے دور میں میڈیا کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوگئی ہے اسے اگر پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے ذریعہ قوم کی صحیح سمت میں راہنمائی اور حقائق سے آگاہی کا کام بھی لیا جا سکتا ہے ۔ ماضی میں ریڈ یو نے یہ کردار بڑے اچھے طریقے سے ادا کیا ۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ریڈ یوسے نشر ہونے والے ملی نغمے اور دیگر کئی پرو گرام قوم کا مورال بلند کرنے میںبڑے کا ر آمد ثابت ہوئے ۔ عبدا للہ جان مغموم اپنے مشہور زمانہ پروگرام خواگہ تراخہ میں اپنے مثالی قہقہے کے ساتھ بھارتی سینا کا مذاق اڑاتے ۔ گل محمد خان طوطا رام نہ منی ، کہتے ہوئے طنز و مزاح سے بھر پور جملے کستے ۔ اور احمد فراز اپنے ۔۔۔میںمہا شے جی سن لو کہتے تو یوںلگتا کہ آدھی جنگ تو ہم جیت چکے ہیں ۔ اسی طرح کسی زما نے میں د دوستانوخبر ے اترے او رقہو ہ خانہ کو بھی بڑی اہمیت حاصل تھی ۔ ان پروگراموں سے شعور کی بید اری اورسما جی برائیوں کی نشا ندہی کا کام لیا جاتا ۔ آج حالات یکسر بدل چکے ہیں ریڈ یوسے پروگرام نشر ہو رہے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی عوام میں بمشکل رجسٹرڈ ہوتا ہے اور نہ سامعین ، ان کا ذکر کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے ریڈیو پر جانکنی کی کیفیت طاری ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب گھروں میں ریڈیو بڑے ذوق و شوق سے سنا جاتا تھا موسیقی ، ڈرامے ، فیچر ز ، زرعی پروگرام سب کو بڑی اہمیت حاصل تھی ۔ فوجی بھائیوں کے لئے شام کے اوقات میں نشر ہونے والا پروگرام بھی ہماری یادوں میں محفوظ ہے ۔ پروگرام کے شیڈول تین ماہ کیلئے تیار کئے جاتے ۔ مائیکرو ن پر باقاعدہ منظور شد ہ مسو دے کے بغیر ایک لفظ تک کہنے کی ممانعت تھی ۔ چونکہ ہم ریڈیو کے لئے ڈرامے لکھا کرتے تھے اس لئے ہمیں معلوم تھاکہ اسکا مسودہ ایک ماہ پہلے ، پروڈیو سر کی میز پر موجود ہونا ضروری ہے ۔ کنٹریکٹ فارم پر پندرہ روز پہلے دستخط لئے جاتے ۔ باقاعدگی کا یہ عالم تھا کہ معاوضہ کا چیک کسی بھی نشر یئے کے دوروز بعد رائٹر تک پہنچ جاتا ۔ مشاعرے اور ریڈیو کی تقریر کا چیک سٹوڈیوسے باہر آنے پر ڈیوٹی آفیسر فی الفور آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ۔ شنید ہے کہ اب ریڈیو کے عملے کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتی ۔ہمارے دوست لعل محمد خان جو پروگرام سیکر ٹری تھے اور ایک عرصہ سے گھر میں بیمار پڑے ہیں اُن کے میڈیکل اخراجات کی رقم ادا نہیں کی گئی ، جو ازراہ قانون اُن کا حق بنتا ہے ۔ وجہ فنڈز نہ ہونے کی بتائی جاتی ہے ، پروڈیو سر بے چارہ ، اس صورت حال میں جس اذیت کے ساتھ قومی بیداری کا فریضہ انجام دیتا ہے یہ صرف اُسے ہی معلوم ہے۔ چند سال پہلے کی بات ہے ۔ ایک ریڈیو پروگرام'' زلندہ سہرے ''کے لئے ریڈیو کے ابتدائی سالوں کی ایک نہایت ہی اہم شخصیت اربا ب ہدایت اللہ خان کا انٹر ویو لینے کے لئے ریڈیو والوں کو ہماری ضرورت پڑی ۔ ہم اس شخصیت سے ملاقات اور اُن سے گفتگو کے یاد گار لمحے ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے حاضر ہو گئے ۔ خیال تھا کہ اس شخصیت سے اُن کے گھر پر انٹر ویو کے لئے کوئی جدید قسم کا ٹیپ ریکارڈ لایا جائے گا دیکھا تو انجینئر نے ایک پرانی سی ڈبہ نما چیز بغل میں داب رکھی تھی ۔ جسے وہ ٹیپ ریکارڈر کہتے تھے ۔ یوں لگتا تھا جسے مار کونی نے 1935میں پشاور ریڈیو کے لئے نشر یاتی ٹرانسمیشن میٹر کے تحفے کے ساتھ آثار قدیمہ کا یہ نایاب نمونہ بھی عنایت کیا تھا ۔ انجینئر صاحب جب اس عجیب وغریب مشین کو دو تین مکے رسید کرتے تو اُسکے بٹن یا تو زیادہ نکل پڑتے یا پھر مزید نیچے چلے جاتے ۔ آدھے گھنٹے کے پروگرام کی ریکارڈنگ خدا خدا کر کے تین چار گھنٹو ں میں مکمل ہوئی ۔ جب دوسرے روز یہ پروگرام نشر ہوا ۔ اور ہم سننے بیٹھے تو یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہم دونوں کے گلے پر کسی نے چھری رکھ لی ہو یا پھر ہم کسی سمندر کی تہہ میں غوطے کھاتے ہوئے باتیں کر رہے ہوں ۔ نہ ہم نے اپنی آواز پہچانی اور نہ ارباب صاحب اپنی باتوں کو سمجھ پائے ۔ پروگرام ختم ہونے پر ارباب کا فون آیا کہنے لگے یا ھلکہ ان لوگوں نے ہم سے یہ مذاق کیوں کیا ؟ ہم کیا جواب دیتے صرف یہی عرض کر سکتے اب زمانہ بد چکا ہے ، یہ آپ کے وقت کا ریڈ یو نہیں ، جب ریڈیو کے پاس فنڈ ز نہ ہوں اور ادارہ سرکار کے لئے بوجھ بن چکا ہو تو اُسکی کار کر دگی کا یہی معیار ہوگا ۔ غیر معیاری پروگراموں کے لئے ہم اُن کے کارندوں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے ۔ 

متعلقہ خبریں