بولنے کی بیماری

بولنے کی بیماری

ہمارے ذہن میں نت نئے خیالات نے ایسے دھما چوکڑی مچا رکھی ہے کہ خدا کی پناہ! سب سے پہلے ہمارا ذہن ان دانشوروں کی طرف گیا جو کسی ٹی وی چینل پر بیٹھے حکمت و دانش کے موتی بکھیر تے چلے جاتے ہیں اور انہیں گفتگو سے روکنا یا ان کی بات کاٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے اور وہ منظر تو یقینا قابل دید ہوتا ہے جب پروگرام کا میزبان دو دانش وروں کو آپس میں الجھا کر نا ظرین کے لیے تفریح کا سامان مہیا کرتا ہے لوگ جب اپنے پسندیدہ رہنمائوں کو غصے کی حالت میں دیکھتے ہیں ان کی باتیں سنتے ہیں ان کے اقوال زریں سے آگاہی حا صل کرتے ہیں اور پھر جذبات کے جوار بھاٹے میں ان سے جو غلطیاں سر زد ہوتی ہیں تو دیکھنے والے حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتے ہیں۔ہمارے ایک مہربان جو باتوں کے بڑے شوقین ہیں جب بولنے پر آتے ہیں تو پھر کسی کی نہیں سنتے ایک دن ٹی وی پر اسی قسم کا ایک مباحثہ دیکھ کر کہنے لگے یار یہ کیسی گفتگو کر رہے ہیں ان سے اچھی باتیں تو میں کرسکتا ہوں ہم نے کہا بھائی یہ بھی ہماری طرح کے عام سے لوگ ہیں اگر ہوا کے دوش پر تیرتا ہوا تنکا پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جائے تو اس میں تنکے کا کیا کمال ہے یہ تو حالات کی آندھیا ں ہیں جو کسی کو عروج عطا کر تی ہیں اور کسی کو زوال ۔وہ سر جھٹک کر کہنے لگے ایسے تو کئی لوگوں کو میں جانتا ہوں جو دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں میں کھیلنے لگے بڑے بڑے اثاثوں کے مالک ہو گئے۔ٹی وی پر ایک دوسرے سے الجھنے والے خواتین و حضرات کے ذہن میں ایک خیال یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ جتنی تیزی اور بلند آواز سے مسلسل بولتے چلے جائیں گے تو اس کے دو فائدے ہوں گے ایک تو ان کے حریف کو بولنے کا موقع ہی نہیں ملے گا اور دوسرا پروگرام کا وقت بھی ختم ہو جائے گا لیکن یہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بول کیا رہے ہیں؟اب کتنا اچھا ہو کہ اس قسم کا پروگرام شروع کرنے سے پہلے میزبان مہمانوںسے کہے کہ آپ نے مجھے مخاطب کرکے بات کرنی ہوگی اور جہاں میں روکوں آپ نے رک جانا ہے۔ ایک دوسرے سے براہ راست گفتگو نہیں کرنی مجھے مخاطب کرکے ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حا صل ہے سب اپنے اپنے خیالات پیش کرسکتے ہیں ۔اب ذرا لائبریری کی طرف چلتے ہیں کتب خانے کا ما حول کتنا خوشگوار ہوتا ہے الماریوں میں سجی کتابیں کتنی اچھی لگتی ہیں مطالعے کے شوقین خواتین و حضرات خاموشی سے مطالعے میں مصروف ہوتے ہیںکہ اچانک آپ کے کانوں میں چند فلک شگاف قسم کے قہقہوں کی آواز آتی آپ کتاب سے سر اٹھا کر آواز کی سمت دیکھتے ہیں تو چند بے فکروں پر آپ کی نظر پڑتی ہے اب آپ ہزار کوشش کریں کہ اپنے خیالات کو ایک نکتے پر مرکوز کر کے دوبارہ مطالعہ شروع کریں لیکن اب یہ آپ کے لیے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ لائبریری کے آداب سے نا آشنا نوجوان مسلسل بول رہے ہوتے ہیں۔ایک نظر اپنے دفاتر پر بھی ڈال لیتے ہیں ہمارے دفاتر میں ایک سپرنٹنڈ اور چند بابو ایک بڑے کمرے میں اپنی اپنی میز کرسی سجائے مزے سے براجمان ہوتے ہیں۔ چائے اور قہوے کی پیالیوں کی سنگت میں خوب مزے سے گپ شپ لگ رہی ہوتی ہے۔ لوگ دور دراز سے اپنے اپنے کام نپٹانے آئے ہوتے ہیں لیکن ان صاحبان کوتو ان کی طرف دیکھنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی جب باتوں سے تھوڑی سی فراغت ملتی ہے تو بڑے اکتائے ہوئے لہجے میں کہتے ہیں جی آپ کا کیا کام ہے جناب۔ سائل ڈرتا کانپتا اپنا مدعا بیان کرتا ہے تو پہلے سے بھی زیادہ اکتاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔آپ اس طرح کریں کہ دو دنوں بعد تشریف لائیں آپ کی فائل ابھی صاحب کے دفتر سے واپس نہیں آئی ۔ یہ کہتے ہی وہ جہاں سے گفتگو کا سلسلہ ٹوٹا ہوتا ہے اسے پھر وہیں سے جوڑ کر باتوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت آپ کا دل بے اختیار چاہتا ہے کہ کاش میرے پاس اتنا اختیا ر ہوتا کہ میں انہیں اپنی بات سننے پر مجبور کر سکتا لیکن آپ کو بے نیل و مرام واپس لوٹنا پڑتا ہے اگر آپ احتجاج یا غصے کا اظہار کریں تو پھر آپ کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے آپ کی فائل بہت سی فائلوں کے ڈھیر میں کھو بھی سکتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ حضرت انسان کو بولنے میں بڑا لطف آتا ہے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ بولتے جائیں اور لوگ ان کے اقوال زریں غور سے سنتے رہیں آپ ہزار سمجھائیے بزرگوں کے اقوال سے اپنی بات ثابت کرنے کی کوشش کیجیے لیکن یہ بلا ضرورت بولنا ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج آج تک دریافت نہیں ہواخواتین کی مثال ہم سب کے سامنے ہے اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک خاتون اپنی پڑوسن سے جب گفتگو کا سلسلہ شروع کرتی ہیں تو پھر وہ دنیا و ما فیہا سے بے نیا ز ہو جاتی ہیں ۔ بڑی بڑی تقریبات میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ مقررین کو بار بار یاد دھانی کروائی جاتی ہے کہ جناب آپ نے صرف دس منٹ بولنا ہے لیکن جب وہ تقریر شروع کرتے ہیں تو پھر انہیں کسی بات کا ہوش نہیں رہتا وہ اپنی تقریر سے خود ہی لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں کچھ مقرر تو تقریری مقابلوں میں فصاحت و بلاغت کے جوہر دکھانے کے باوجودمقابلہ صرف اس لیے ہار جاتے ہیں کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر تقریر ختم نہیں کرتے! مقامات آہ و فغاں تو اور بھی بہت سے ہیں لیکن یہ چھوٹا سا ننھا منا کالم اس سے زیادہ تفصیل کا متحمل بھی تونہیں ہوسکتا بس یہی دعا ہے کہ ہمارے رہنما اور ہم سب زبانی کلامی باتوں سے پرہیز کرتے ہوئے عمل کی راہ اپنائیں ۔

متعلقہ خبریں