ترکی کے صدارتی نظام سے یورپ خائف کیوں؟

ترکی کے صدارتی نظام سے یورپ خائف کیوں؟

ترک صدر رجب طیب اردوان عوامی ریفرنڈم اسی وقت جیت گئے تھے جب جولائی 2016ء میں طیب اردوان نے منتخب حکومت کو بچانے کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے ترکی کے عوام سے مدد طلب کی اور ترکی کے عوام نے طیب اردوان کی آواز پرلبیک کہا تھا۔ ترک عوام نے نہ صرف یہ کہ فوجی بغاوت کو ناکام بنایا بلکہ اردوان کو یہ پیغام بھی دیا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں وہ اپنے لیڈرکے ساتھ کھڑے ہیں۔ روایتی ریفرنڈم میں بھی ترکی کے عوام نے طیب اردوان کی آواز پرلبیک کہا اور 52فیصد عوام نے نئے صدارتی نظام کی حمایت میں اپنے ہر دلعزیز لیڈر کو سپورٹ کرکے یہ ثابت کیا کہ ترکی کے عوام طیب اردوان کو ہر مقام پر سپورٹ کریں گے۔ آج اگر ترکی کے عوام اپنے لیڈرکے لئے ہر طرح کا خطرہ لینے سے گریز نہیں کرتے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طیب اردوان نے اپنے عوام کے مسائل کو حل کرنے میں ہر طرح کی قربانی دی ہے ،ملکی معیشت کی بحالی میں اردوان کا کردار ایسا ہے کہ سابقہ تمام قرضے اتارکر ملک کے خزانے کو اس قابل بنایا کہ ترکی کل جن ممالک سے قرض حاصل کرتا تھا آج اس پوزیشن میں ہے کہ ان ممالک کو قرض دے سکے۔گزشتہ چند سالوں سے ترکی میں صدارتی نظام کی حمایت میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔ ترک پارلیمان میں بھی 550کے ایوان میں 345ارکان نے صدارتی نظام کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ جس کے بعد صدر طیب اردوان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ''آخری فیصلہ ترک عوام ہی کا ہو گا۔ ترک تاریخ میں ایک نیا دروازہ کھلا ہے۔ ہمارے لوگ ''ہاں'' کا ووٹ ڈالیں گے تو یہ دروازہ مکمل طور پر کھل جائے گا۔'' یاد رہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے صدارتی نظام پر ریفرنڈم کے لیے ممبران پارلیمنٹ کے 330ووٹوں کی ضرورت تھی۔ اگر ترک پارلیمان میں صدارتی نظام کے حق میں 367ووٹ آ جاتے تو قانونی طور پر صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم کی ضرورت بھی ختم ہوجاتی۔ لیکن ترک صدر طیب اردوان نے پارلیمان میں ترمیمی بل پیش ہونے سے پہلے کہہ دیا تھا کہ بل کی حمایت میں 367ووٹ بھی آجائیں تب بھی وہ عوامی رائے لینے کے لیے ریفرنڈم ضرور کرائیں گے۔ ترکی کے نئے صدارتی نظام کے تحت قانون سازی کے ارکان کی تعداد 550سے 600ہو جائے گی ' رکن پارلیمان بننے کی عمر 25سال سے 18سال ہو جائے گی ' صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہر 5سال بعد ہوں گے۔ پارلیمان کی قانون سازی ' آئین میں ترمیم کرنے اور کسی دفعہ کو آئین سے نکالنے کے اختیارات برقرار رہیں گے۔ پارلیمان کے پاس کسی بھی مسئلے پربحث کرنے ' پارلیمانی قراردادیں پاس کرنے اور تحریک التواء کا اختیار برقرار رہے گا۔ فوجی کمیشن اور فوجی عدالتوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا' سپریم بورڈ آف ججز اینڈ پراسیکیوٹر کے چار ارکان کا تقرر صدر مملکت جب کہ 7ارکان کی تقرری پارلیمان کرے گی۔ محکمہ قانون کے انڈر سیکرٹری کے مستقل ممبر ہوں گے۔ جب کہ آئینی عدالت کے ارکان کی تعداد 17سے کم کرکے 15کردی جائے گی۔ صدر ریاست کا آئینی سربراہ ہو گا اور اس کے مطابق انتظامی اختیارات استعمال کر سکے گا۔ صدر اپنی جماعت سے تعلق نہیں توڑے گا ۔ پارلیمان کا ایسا رکن جس کی جماعت یا گروپ نے 5فیصد ووٹ لیے ہوں یا انتخابات میں ایک لاکھ ووٹ حاصل کیے ہوں ' وہ صدارتی انتخابات میں حصہ مملکت ' نائب صدور اور وزراء کو تقرر کر سکے گا۔ ایگزیکٹو اختیار ات سے متعلق معاملات پر صدر کو احکامات جاری کرنے کا اختیار ہو گا۔ کوئی شخص دو بار سے زیادہ صدر منتخب نہیںہو سکے گا۔ صدر مملکت کو اختیار ہو گا کہ وہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر سکیں۔ اس کی منظوری پارلیمان سے لینا ہوگی۔ اعلیٰ سرکاری عہدیدار صدر کی منظوری سے مقرر کیے جائیں گے' کسی اختلافی معاملہ میں پارلیمانی واضح اکثریت کے ساتھ صدر کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار رکھے گی۔ ترکی کے نئے صدارتی نظام سے متعلق مذکورہ بالا تمام باتیں ایسی ہیں جو ہر اس ملک کے نظام میں پائی جاتی ہیں جہاں پر صدارتی نظام موجودہے لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ جس مغربی دنیا کے اکثر ممالک میں صدارتی نظام رائج ہیں وہاں سے ترک صدر کی مخالفت ہو رہی ہے۔ مسلم دنیا میں بھی ایسے لوگ مخالف ہیں جو سیکولرز اور لبرلز ہیں۔ انہیں ترکی میں صدارتی نظام صرف اس لیے قابل قبول نہیں کہ اس کے ذریعے ایک اسلام پسند رہنما ملک کی باگ ڈور سنبھال لے گا ۔ اگر رجب طیب اردوان اسلام بیزار ہوتے تو ہمارے یہی سیکولرز اور لبرل دوست ان کی مخالفت کی بجائے حمایت میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے۔ دنیا کے قریباً 50ممالک میں ایسا صدارتی نظام رائج ہے کہ وہاں وزیر اعظم کا عہدہ بھی نہیںہوتا۔ان ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔جب کہ ڈیڑھ درجن ممالک ایسے ہیں جہاں وزیر اعظم کا عہدہ نمائشی ہوتا ہے۔ جمہوریت کے نتیجے میں سیکولرازم برسراقتدار آئیں تو درست' اسلام پسندوں کو اقتدار مل جائے تو ایسی جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دی جاتی ہے ۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ نئے صدارتی نظام کے تحت طیب اردوان 2029تک ترکی کے صدررہیں گے ۔ جو لوگ گزشتہ 16سال سے طیب اردوان کی شکست کے خواب دیکھ رہے ہیں اب انہیں اگلے 12برس تک طیب اردوان کو دیکھنا پڑے گا۔ یہ شکست اہل مغرب کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیںہے۔

متعلقہ خبریں