مشرقیات

مشرقیات

سلطان حاجب منصور اندلس کا نامورحکمران گزرا ہے۔ منصور زندگی بھر یورپ کے عیسائیوں سے لڑتا رہا مگر ایک معرکے میں اسے شکست نہیں ہوئی۔ اس کا حسن تدبیر' شجاعت اور عدل و انصاف بھی بہت مشہور تھا۔ ایک مرتبہ یمن کے شہر عدن کا ایک جوہری اندلس پہنچا تو اس کے پاس سرخ رنگ کی تھیلی میں ہیرے جواہر تھے۔ جوہری ان ہیروں کو سلطان منصور کے ہاتھ بیچنے کے لئے سلطان کے پاس گیا اور انہیں ہیرے دکھائے۔
سلطان منصور ہیرے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ یہ نایاب ہیرے تھے' اس نے بہت سے ہیرے جوہری سے خرید لئے۔ جوہری کو بہت فائدہ ہوا' پھر ایک دن وہ اپنے وطن واپس جانے کے ارادے سے چلا۔ قرطبہ سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک دریا بہتا تھا۔ جوہری جب وہاں پہنچا تو اس کا دل دریا میں نہانے کو چاہا۔ اس نے کپڑے اتار کر ایک طرف رکھ دئیے۔ سرخ تھیلی بھی ان کے ساتھ ہی رکھ دی۔ اسے نہاتے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی کہ ایک چیل کہیں سے آئی اور سرخ تھیلی اٹھا کر اڑ گئی۔ یہ دیکھ کر جوہری کی تو جان ہی نکل گئی۔ وہ جلدی سے دریا سے باہر نکلا۔ کپڑے پہنے اور شور مچانے لگا۔ اس کا شور سن کر بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ جب انہیں صورتحال کا علم ہوا تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : '' یہ معاملہ سلطان منصور کے سامنے پیش کرو۔'' آخر جوہری روتا پیٹتا سلطان منصور کے دربار میں پہنچا۔ ساری بات سن کر سلطان نے اسے تسلی دی اور کہا: '' یہ بتائو چیل کس طرف گئی تھی؟''
جوہری نے وہ سمت بتا دی جس طرف چیل اڑ کر گئی تھی۔ سلطان منصور نے اس کی بات سن کر اپنے خاص کارندوں کو بلوایا اور ان سے پوچھا: '' تم کسی ایسے شخص کو جانتے ہو جس کی حالت تین چار دن ہی میں بدل گئی ہو' یعنی کہیں سے اس کے پاس اچانک پیسہ آگیا ہو۔''
ایک آدمی نے کہا: میں ایک ایسے مزدور آدمی کو جانتا ہوں''۔یہ سن کر سلطان منصور نے فوراً اس مزدور کو بلوایا۔ اس نے مان لیا کہ اسے چیل کے پنجوں سے گری ہوئی تھیلی ملی تھی اور اس میں سے دس دینار خرچ کیے۔ سلطان نے جوہری سے کہا '' اپنی تھیلی دیکھ لو اور بتائو کیا یہ مزدور ٹھیک کہہ رہا ہے؟''
سلطان منصور کے کہنے پر جوہری نے تھیلی دیکھی اور مزدور کی بات کی تصدیق کردی ، پھر اس نے کہا : '' حضور ! میں دس دینار معاف کرتا ہوں ''۔
''معاف کرنے کا حق تو ہمارا ہے ''۔
سلطان منصور نے کہا ۔ پھراس نے اپنے پاس سے دس دینار جوہری کو دئیے کہ اس کا نقصان پورا ہو جائے۔ جوہری کو اپنا پورا مال مل چکا تھا۔ وہ بہت خوش تھا' اس نے سلطان منصور کو بے شمار دعائیں دیں اور یہ کہتا ہوا چلا گیا:
'' میں اپنے وطن کے لوگوں سے کہوں گا: اندلس کے بادشاہ کا حکم انسانوں پر ہی نہیں بلکہ پرندوں پر بھی چلتا ہے۔ (المستطرف فی کل فن مستظرف)

متعلقہ خبریں