سیاسی جماعتوں کی قیادت کا آمرانہ طرز پر انتخاب

سیاسی جماعتوں کی قیادت کا آمرانہ طرز پر انتخاب

سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے صدر نواز شریف کو عدالت سے نا اہل قرار دیئے جانے کے بعد حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے قانونی ضرورت پوری کرنے کیلئے اپنی جماعت کے سینئر نائب صدر سردار یعقوب ناصر کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کیا ہے۔سردار یعقوب خان ناصر اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے جب تک پارٹی انتخابات نہیں ہو جاتے۔حکمران جماعت کی صدارت کی نشست سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پانامالیکس میں نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی اور پولیٹیکل آرڈر2002ء کے تحت کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کی سربراہی نہیں کرسکتا۔نواز شریف نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر درخواست دائر کر رکھی ہے اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس درخواست پر سپریم کورٹ نواز شریف کی نااہلی ختم کردیتی ہے تو پھر سابق وزیر اعظم اپنی جماعت کے سربراہ بن سکتے ہیں۔حکمران جماعت کے مطابق ایسا نہ ہونے کی صورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر ہوں گے۔ میاں شہباز شریف اس وقت حکمران جماعت کے صوبہ پنجاب کے صدر ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے حکمران جماعت سے نیا صدر منتخب کرنے کے لیے خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ نیا صدر منتخب کرنے کے بعد الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا جائے۔ دریں اثنا سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے پارٹی کی قیادت کو ایک ایسے فیصلے کی حمایت کے لیے طلب کیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جس پر لاہور میں پہلے ہی فیصلہ کیا جاچکا تھا۔واضح رہے کہ قبل ازیں ہی مسلم لیگ (ن)کے ترجمان ڈاکٹر آصف کرمانی نے اعلان کیا تھا کہ سینیٹر یعقوب خان کو پارٹی کا قام مقام صدر مقرر کردیا گیا ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے پہلے پہل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو پنتالیس دن کیلئے عبوری وزیرا عظم بنانے اور شہباز شریف کو باقی مدت اقتدار کیلئے وزیر اعظم مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر بعد میں فیصلہ تبدیل کیا گیا اس مرتبہ بھی اسی طرح کی صورتحال کا اعادہ کیا جاتا ہے یا نہیں البتہ اس مختصر مدت کیلئے ایک ایسے شخص کو پارٹی صدارت کا منصب سونپنے کے پس پردہ حکمت یہ دکھائی دیتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو شاید یہ امید ہے کہ عدالت عظمیٰ سے نظر ثانی کی اپیل پر نواز شریف حکومت کی بحالی کا فیصلہ تو مشکل ہوگا البتہ عدالت سے ان کی نا اہلی ختم کرنے کے فیصلے کی گنجائش نکل سکتی ہے جس کے بعد نواز شریف پارٹی صدارت کر سکیں گے۔ بہر حال امکانات جو بھی ہوں اور جوبھی صورتحال سامنے آئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا فیصلے کو جماعتی مشاورت اور جمہوری طریقے سے نہیں کیا گیا بلکہ فردو احد یا ان کے چند مشیروں اور حواریوں کی جانب سے یہ ایک نامزد کر دہ اور مسلط کر دہ فیصلہ ہے جس پر سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وفاقی وزراء سعد رفیق اور مشاہدا للہ نے تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اس طرح کی آوازیں صدا بصحرا ہی رہتی ہیں یا پھر تکلفات کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں اگر دیکھا جائے تو ملکی سیاسی جماعتیں دعویٰ جمہوریت جمہوری اقدار اور استحکام جمہوریت کا کرتی ہیں مگر جب عملی طور پر قیادت کا فیصلہ کرنے کی باری آتی ہے یا کوئی اور فیصلہ کرنا ہو تا ہے تو مشاورت کی بجائے قائد کے اشارہ ابرو پر فیصلے ہوتے ہیں ۔ ایسا صرف مسلم لیگ میں نہیں پیپلز پارٹی میں بھی یہی کلچر رائج ہے پاکستان تحریک انصاف میں بھی انصاف نہیں ،جمعیت علمائے اسلام (ف) میں بھی مشاورت اور اتفاق رائے کی زحمت نہیں کی جاتی، اے این پی بھی طرزکہن پہ اڑی ہوتی ہے۔ صرف جماعت اسلامی اس لحاظ سے صحیح معنوں میں جمہوری جماعت کی تعریف پر پورا اترتی ہے جس کی قیادت کبھی نو شہرہ میں ہوتی ہے تو کبھی کراچی والوں کو قیادت ملتی ہے اور کبھی دیر کو قیادت سونپ دی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس ضمن میں الیکشن کمیشن کے قوانین کی پابندی نہیں کی جا تی البتہ قوانین کو چکر ضرور دیا جاتا ہے اور ایک نمائشی اقدام کر کے بظاہر کی قانونی ضرورت پوری کر لی جاتی ہے ۔ ہمارے تئیں اب وقت آگیا ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کیلئے ایک ٹھوس ضابطہ اخلاق اور لائحہ عمل تیا رکر ے جو اس امر کویقینی بنانے کیلئے کافی ہو کہ ہر سیاسی جماعت میں جمہوری طریقے سے حقیقی معنوں میں قیادت کا انتخاب ہو۔ سیاسی جماعتوں میں خودساختہ امید وار کھڑے کرنے اور یکطرفہ رائے ہی کے ذریعے پارٹی قائد کو خواہی نخواہی مسند پر بر قرار نہ رکھا جائے بلکہ حقیقی معنوں میں انتخابات ہوں جیسا کہ جماعت اسلامی میں ہوتا ہے الیکشن کمیشن اگر جماعت اسلامی کے امراء اور دیگر قائد ین اور جماعتی عہدوں کیلئے عہدیداروں کے انتخاب کے طرز کا کوئی طریقہ کار وضع کرے تبھی پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت آنے کی امید کی جاسکتی ہے۔ اس طرح سے سیاسی جماعتوں کی جہال فعال اور قابل بھروسہ قیادت ابھر آئے گی وہاں ملک میں جمہوری کلچر کو فروغ حاصل ہوگا اور موروثی و شخصی سیاست کا خاتمہ ممکن ہوگا ۔

متعلقہ خبریں