قانون سے کھلواڑ

قانون سے کھلواڑ

اگرچہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا اسلام آباد سے لاہور جی ٹی روڈ ریلی کے دوران پروٹوکول میں شامل ایک گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے بچے حامد چغتائی کے گھرتعزیت کیلئے جانے کے موقع پر اہل خانہ کی طرف سے کسی رد عمل کا کوئی امکان نہیں متاثرہ خاندان کا وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے بیس لاکھ کا چیک قبول کرنے کے بعد اس حادثے کا معاملہ تقریباً حل ہو چکا ہے لیکن آسودہ صورتحال کے باوجود مقامی انتظامیہ اور پولیس کا اس دورے کو اس وقت تک ملتوی کرنے کا مشورہ کہ جب تک مسلم لیگ (ن)کی قیادت کو شرمندگی سے دوچار کرنے والے اس واقعے میں ملوث ڈرائیور گرفتار نہ ہوجائے درست اور قانون کی حکمرانی کیلئے ضروری ہے ۔ یہ امر سمجھ سے بالا تر ہے کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس، نواز شریف کے اسٹاف سے متعدد مرتبہ کیس کی تحقیقات کی غرض سے ڈرائیور اور گاڑی (SS 875) کی کسٹڈی کی درخواست کرچکی ہے۔لیکن سابق وزیر اعظم کا اسٹاف، پولیس کے مطالبے پر پنجاب حکومت کی مداخلت کے باوجود، مذکورہ ڈرائیور اور گاڑی تک رسائی دینے سے گریز کر رہا ہے۔یہاں تک کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے سابق وزیراعظم کے اسٹاف کو پیغام دیا تھا کہ وہ ڈرائیور اور گاڑی کو پولیس کے حوالے کردیں لیکن اب تک کچھ نہیں ہوسکا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات اور ہدایات کورد کرنے کی ہمت سابق وزیراعظم کے سٹاف کو کیسے ہوئی اور اگر ان کی جانب سے ہچکچاہٹ اور عدم تعاون کا مظاہرہ کیا جارہا ہے تو سابق وزیر اعظم مداخلت کیوں نہیں کرتے ، کیا نواز شریف بھی نہیں چاہتے کہ قانون کے تقاضے پورے کئے جا سکیں یا کوئی اور طاقتور عنصر ہے جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھتا ہے ۔ دیکھا جائے تو قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کوئی امر مانع نہیں قانونی راستے سے بھی اور متاثرہ خاندان کی طرف سے بھی اس ضمن میں کوئی سختی کا امکان نہیں یہ اس طرح کے مظاہر ہی ہیں جو نفاذ قانون اور احترام قانون کی راہ میں رکاوٹیں بنتے ہیں اور ملک میں قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کیلئے قانون کے یکساں ہونے کا تاثر قائم نہیں ہو پاتا ۔ کیا کوئی اعلیٰ عدالت اس کا از خود نوٹس لینا ضروری سمجھے گی اورایک عام آدمی کے بچے کو کچلنے والوں کوخود کو قانون سے بالا تر ثابت کرنے کی کوشش کو ناکام کر کے قانون کی حکمرانی اور مساوی ہونے کو عملاً یقینی بنایا جائے گا ؟ ۔
نوجوانوں کی سمت درست رکھنے کے عوامل
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان داعش کا ہدف ہیں ۔انہوں نے نوجوانوں کو محتاط رہنے اور سوشل میڈیا پر غیر ملکی بیانیہ سے آگاہ رہنے کا بھی مشورہ دیا ۔ نوجوانوں کیلئے داعش میں ایسی کیا کشش ہے یا پھر داعش ایسا کیا جال پھیلا تی ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اونچے گھرانوں کے نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے یورپ جیسے معاشرے میں بھی داعش کو حمایت ملنا حیران کن امر ہے ۔معاشرے میں اگر اوسط اور پست آمدنی کے حامل افراد کے کسی تنظیم کی جانب کشش اور شمولیت کا عنصر اکثر تلاش روزگار اور پیسہ ہوتا ہے جیسا کہ ایک عرصے تک طالبان کو قبائلی علاقوں میں بالخصوص اور ملک سے بالعموم حمایتی ملے۔ مذہب اور دین کے نام کا استعمال داعش اور طالبان کا مشترکہ طریقہ کار رہا ہے لیکن اب دونوں تنظیموں کی بلی تھلے سے باہر آچکی ہے اور اصل چہرہ سامنے آچکا ہے جس سے ثابت ہے کہ اسلام کا نام لینے والوں نے اس کے دوسرے پیروکار وں کیلئے بھی من حیث المجموع شدت پسند اور دہشت گرد تاثر پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بہر حال قطع نظر ان معاملات کے نوجوانوں کو اس طرح یا اس نوعیت کی دیگر تنظیموں کے علاوہ کسی اور لبادے میں مصروف کار غیر ملکی ایجنڈے کے حامل اداروں سبھی سے دور رکھنے اوران کی درست رہنمائی گھر سے لیکر سکول کالج اور یونیورسٹی تک ہر جگہ سمجھانا اور نظر رکھنے کی ذمہ داری پوری طرح سے نبھانے کی ضرورت تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ جب تک اس امر کو یقینی نہیں بنایا جائے گا کہ معاشرے سے نوجوانوں کو انصاف ملے اور ان کے ساتھ کسی طور معاشرتی اور معاشی نا انصافی نہ ہونے پائے ان کو روز گار کے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں ۔ نوجوانوں کو مایوسی اور نا امیدی کا شکار بنانے والے تمام عوامل کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ جب ان کو بہتر رہنمائی ملے گی اور ان پر نظر رکھی جائے گی تبھی ان کو نا پسند یدہ عناصر سے دور رکھنے میں کامیابی مل سکتی ہے ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگر نوجوان دھوکے سے یا انتقاماً اس قسم کے عناصر سے متاثر نہ بھی ہو ں تو بھی ان کے اندر ایک قسم کا انتقام کا بھر جانا ان کو نالاں کرنے اور از خود بغاوت پر آمادہ کرنے کیلئے کافی ہوگا ۔ ان سارے عوامل کا جائزہ لینے کے بعد حقیقت پسندانہ اور انصاف پر مبنی ماحول اور حالات کوموافق رکھنے کی تندہی سے سعی ہی وہ مئوثر طریقہ ہو سکتا ہے جس سے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو درست سمت دی جا سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں