پشاور کے گمبھیر مسائل

پشاور کے گمبھیر مسائل

پچھلے چند برسوں میں پشاور کی آبادی بے تحاشا بڑھی ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے۔ اس جنگ زدہ صوبے کے حالات ہی کچھ ایسے ہیں کہ لوگ پشاور میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کی معاشی مشکلات بھی انہیں پشاور کو اپنی مستقل قیام گاہ بنانے پر مجبور کردیتی ہیں۔ اس وقت پشاور کی ایک بہت بڑی ضرورت لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سائز کے ایک ہسپتال کی تعمیر ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا ہر ڈاکٹر کمپائونڈر نرسنگ سٹاف اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والا عملہ جس محنت اور جانفشانی سے مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں مصروف ہے وہ قابل ستائش ہے ۔یہ اس سٹاف ہی کا حوصلہ ہے کہ وہ مریضوں کی بہت بڑی تعداد کی خدمت کر رہا ہے۔پشاور کا دوسرا سب سے بڑا مسئلہ پشاور کی فراخ سڑکوں کا سکڑ جانا ہے اور یہ بڑھتی ہوئی آبادی کا شاخسانہ ہے گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافے اور تجاوزات نے سڑکوں کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پشاور میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کے باوجود بھی صورتحال جوں کی توں ہے کوہاٹی چوک شعبہ بازار اور چوک یادگار اورکئی دوسرے بازاروں میں سے گزرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پارکنگ کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کا سڑکوں کے کنارے بڑی تعداد میں اجتماع لوگوں کا بے تحاشا ہجوم اور دکانداروں کا اپنی حدود سے تجاوز کرنا !یہ ہیں وہ اسباب جن کی وجہ سے سڑکوں کی کشادگی روز بروز سکڑتی چلی جارہی ہے ۔یہ آئے دن پیش آنے والے حادثات کی بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ کوہاٹی چوک سے جہانگیر پورہ کی طرف آئیں تو آپ کو قیدی پرندوں کے پنجرے بھی کثیر تعداد میں نظر آئیںگے جو دکانوں سے کئی فٹ باہر لٹک رہے ہیں۔ یہاں ٹریفک جام ہوجانا ایک عام سی بات ہے یہاں کے مکین گھر وں سے ایک گھنٹہ پہلے ہی نکلتے ہیں اور یہ گھنٹہ وہ ٹریفک جام کے نام کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر اپنی منزل پر بروقت پہنچنا ہے تو ٹریفک جام میں ضائع ہونے والے وقت کو بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ پشاور میں صاف پانی کا مسئلہ بھی روز بروز گمبھیر ہوتا چلا جارہا ہے زنگ آلودپائپوں میں سے گزر کر آنے والا پانی بہت سی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ اگرچہ بہت سے علاقوں میں پانی کے پائپ تبدیل کیے جاچکے ہیں لیکن ابھی بھی پانی کے پرانے پائپ بہت سے علاقوں میں موجود ہیں اس مسئلے کو بھی ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔باغات کی صورتحال مخدوش ہے تفریحی پارک نہ ہونے کے برابر ہیں۔کرنل شیر خان سٹیڈیم(آرمی سٹیڈیم ) ختم کردیا گیا ہے چاچا یونس پارک کا حجم بہت چھوٹا ہے اور یہ تفریحی پارک سے زیادہ اپنی انتظامیہ کے لیے مال بنانے کا ایک عمدہ ذریعہ بن چکا ہے۔ عید ہو یا کوئی دوسرا تہوار اس کی انتظامیہ مال بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی! کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ یہ تو عوام کے لیے ہے۔ مہنگائی کے مارے ہوئے عوام یہاں تھوڑی دیر کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ اپنے غم غلط کرنے آتے ہیں لیکن تم لوگ اپنے ہاتھوں میں تیز چھریاں لیے ان کی کھال اتارنے میں مصروف ہو!پشاور کی آبادی کو دیکھتے ہوئے اسے وسعت دینے کی ضرورت ہے اسے پھیلانا ہے نئے نئے تعمیری منصوبے شروع کرنے ہیں۔ اس سے ترقیاتی فنڈز کا بھی مناسب استعمال ہوگا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ لوگوں کا سیاستدانوں پر سے کھویا ہوا اعتماد بھی بحال ہوگا پشاور میں سڑکوں کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔اندرون شہر بھاری گاڑیوں پر پابندی لگا دی جائے اور ان کی جگہ چھوٹی گاڑی سوزوکی متعارف کروادی جائے کیونکہ شہر کی سڑکیں باڑہ کی بیڈفورڈ بسوں کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔پشاور کا ایک بہت ہی سنگین مسئلہ رکشوںاور موٹر سائیکلوں کی بہتا ت ہے۔ آپ پشاور کی ہر سڑک پر رکشوں کو شتر بے مہار کی طرح گھومتا دیکھ سکتے ہیں ہر چوک میں رکشے قطار اندر قطار کھڑے کرکے غیر قانونی رکشہ سٹینڈ بنا دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں زبردست خلل پڑتا ہے ۔اس کے علاوہ ایسے رکشے بھی کافی تعداد میں موجود ہیں جن کے سائلنسر اڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے پشاور کی فضائوں میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے رکشے بھگا رہے ہیں ان بچوں کو رکشہ چلاتے دیکھ کر ذہن میں پہلا خیال یہی آتا ہے کہ ہماری ٹریفک پولیس کہاں ہے ؟ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ بچے جن کی ابھی ڈرائیونگ لائسنس بنانے کی عمر ہی نہیں ہے ان سے پوچھا جاتا کہ آپ کو لائسنس کہاں سے ملا؟لیکن سالہا سال سے یہ مناظر شہر کی سڑکوں پر سب دیکھ رہے ہیں دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں لیکن عملی کام کہیں نظر نہیں آتا ۔ ٹریفک پولیس کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ باقاعدہ رکشہ شماری کریں پشاور کی سڑکوں کو دیکھتے ہوئے رکشوں کی ایک معقول تعداد کو سڑکوں پر آنے کی اجازت دی جائے۔ ایک بھی فالتو رکشے کو پرمٹ نہ دیا جائے ۔ٹریفک پولیس کی اتنی بڑی تعداد آخر کس دن کام آئے گی؟ اس ساری کہانی کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ رکشوں کی ایک بڑی تعداد بغیر پرمٹ کے پشاور کی سڑکوں پر بھاگ رہی ہے۔ اب یہ بھی ٹریفک پولیس والے ہی بتائیں گے کہ وہ کون سی وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ بغیر پرمٹ شہر کی سڑکوں پر بھاگتے ہوئے رکشوں کو روک نہیں سکتے ؟۔

متعلقہ خبریں