آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

سابق صدر آصف زرداری نے بالآخر خاموشی کی اوڑھی ہوئی بکل ہٹا کر کہہ دیا ہے کہ نواز شریف سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتے ، خطرہ جمہوریت نہیں نواز شریف کی سیاست کو ہے ، آرٹیکل 63,62، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ اور نیا عمرانی معاہدہ اقتدار میں کیوں یا د نہیں ، معیشت میں نواز شریف کی ترجیحات الگ اور اقتدار میں الگ ہو جاتی ہیں ۔ یہی خیالات کچھ اور الفاظ کے ساتھ پیپلز پارٹی والے ادا کرتے رہے ہیں جو کچھ یوں تھے کہ میاں صاحب اقتدار سے باہر ہوں تو پائوں پڑتے ہیں اور اقتدار مل جائے تو گلے پڑ جاتے ہیں گویا وہ جو سیا نے کہہ گئے ہیں کہ مطلب کے وقت بندہ ۔۔۔۔۔کو بھی باپ بنا دیتا ہے ، تو صورتحال ایک بار پھر اسی مقا م پر آکر ٹکتی نظر آتی ہے ، بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ اقتدار سے اتر کر اچانک یہ جو میاں صاحب انقلابی بننے کے دعوے کرتے نظر آرہے ہیں ان کی اس بات پر کون کون اعتماد کرنے کو تیار ہے اس کا پتہ تو آنے والے دنوں ، ہفتوں بلکہ مہینوں میں ہوگا ، جبکہ کچھ لوگ ان کی ذات میں اس کا یا کلپ کو شک کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں اور وہ جو بزرگوں کا قول ہے کہ آزمودہ را آز مودن جہل است ، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ جو ہمارے ہاں سیاست چل رہی ہے اس میں شامل تقریباً تمام لوگوں کے بارے میں فارسی کا یہی مقولہ استعمال کیا جا سکتا ہے اسی وجہ سے تو آغا شورش کا شمیری نے کہا تھا کہ 

مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماشبینوں میں
اب یہی دیکھ لیں کہ ایک جانب میثاق جمہوریت میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتوں یعنی لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے محولہ معاہدے کی اپنے اپنے طور پر دھجیا ں اڑائیں اور وقت پڑنے پر ایک دوسرے کے لئے ، مگر ضرورت پڑنے پر ایک با پھر میثاق جمہوریت پر عمل کرنے کے لئے میاں صاحب اقتدار سے محروم کئے جانے کے بعد تیار ہو گئے ہیں جبکہ آصف زرداری کا غصہ نصف النہار پر نظر آتا ہے ، تاہم دوسری جانب اے این پی کے دونوں دھڑوں کے بیچ ری یونین کی خبریں آرہی ہیں جو اگر دونوں دھڑوں میں شامل کئی لوگوں کیلئے خوشی کا پیغام ہے تو کئی ایک اس خاندانی ملاپ پر جز بز بھی ہو رہے ہوں گے۔ خبروں کے مطابق اے این پی (ولی ) کے ایک اہم رہنماء کے متحدہ اے این پی سے اخراج کی اطلاعات بھی آرہی ہیں ، اور حقیقت تویہی ہے کہ موصوف ہی دونوں جانب کی قیادت (ماں ، بیٹے ) کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع کرنے کے اصل ذمہ دار قرار دیئے جاتے ہیں ۔ بہر حال سوشل میڈیا پر لگنے والی پوسٹوں کے مطابق اس ری یونین پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے ، اور ایک شخص کو ان اختلافات کی خلیج پاٹ دینے کے بعد واقعی پارٹی سے اخراج کی '' سزا'' ملتی ہے تو جس شخص کو متحدہ اے این پی کی صفوں سے ایک بار پھر نکالنے کی سعی کی جارہی ہے ، اس کے ''شر'' سے بچنے کے لئے حضر ت علی کے قول صادق پرعمل کرنے کی سوچ اپنانی چاہیئے ، وگرنہ آگے چل کر یہ شخص بھی کسی اور جماعت میں شامل ہو کر متحدہ اے این پی کیلئے کچھ نہ کچھ مشکلات پیدا کر سکتا ہے ، بات ری یونین کی چلی ہے تو ادھر مٹی پائو فیم چوہدری شجاعت ایک بار پھر سر گرم ہوگئے ہیں اور اب کی بار وہ مختلف لیگی دھڑوں کو اکٹھا کرنے کی مشن پر نکل کر کراچی کا فدقصد کئے ہوئے ہیں اور ان سطور کے چھپنے تک پروگرام کے مطابق وہ کراچی میں پیر پگاڑا کے علاوہ ناراض لیگی رہنمائوں سے ملاقات کیلئے پہنچ چکے ہوں گے ، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ نون لیگ کے 70ایم این اے ان سے رابطے میں ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان کے دعوے کی تصدیق کیلئے کیا کیا جائے کیونکہ اس کی تردید بھی اتنی آسان اس لئے نہیں کہ مسلم لیگ کے جسد خاکی میں ہی اس قسم کی ''سرگرمیوں '' کا بیج بو یا جا چکا ہے۔ خاص طور پر بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائد اعظم اور قائد ملت لیاقت علی خان شہید کے گزر جانے کے بعد اس جماعت پر اسی قسم کے ابتلا کے کئی ادوار آئے اور گزر گئے ۔ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں جس سرعت کے ساتھ حکومتیں بدلتی رہیں ، اسی دور میں مسلم لیگ کے بطن سے ری پبلکن پارٹی نے جنم لیا ، بعد میں ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیا تو ان کے ایماء پر ایک دھڑا کنونشن مسلم لیگ کے نام سے علیحدہ ہو کر اقتدار کے مزے لوٹنے لگا ، جبکہ دوسرا دھڑا کونسل لیگ کہلا یا جس کی قیادت ممتاز دولتا نہ اور سر دار شوکت حیات کے ہاتھوں میں رہی ، اس دوران خان قیوم نے قیوم لیگ کے نام سے اپنا علیحدہ دھڑا منظم کیا ، یہ سیاسی کشمکش جنرل یحییٰ خان کے دور تک چلتی رہی اور ایوبی آمریت کے خاتمے کے ساتھ ہی کنونشن لیگ جس طرح بنی تو اسی طرح مفقود ہوگئی ، اسی کے لوگ کچھ خان قیوم کے ساتھ ، کچھ پیر پگاڑا کے ساتھ اور کچھ مراجعت کر کے کونسل لیگ میں شامل ہوگئے ، بھٹو حکومت پر ضیاء الحق نے شب خون مارا تو اس نے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرا کے تمام سیاسی جماعتوں کو منقار زیر پر رکھا ، جبکہ آئین میں اس وقت کی عدلیہ کی مہربانی سے آرٹیکل 63,62شامل کر کے ، اسی غیر جماعتی اسمبلی کے اندر ہی سے ایک نئی لیگ بر آمد کر کے پہلے خود اپنے ہی دیئے ہوئے آرٹیکل 63,62کی خلاف ورزی کی ، کیونکہ انتخابات غیر جماعتی مگر اسمبلی کی کوکھ سے لیگ نکال کر صدق و امانت کی دھجیاں اڑائیں ۔ اور اب پورے ملک میں اسی بچہ جمورا لیگ کی کئی شاخیں قائم ہیں ۔ اسی سلسلے میں بعد میں جنرل مشرف نے نہ صرف لیگ (ن) کے بطن سے ق لیگ کشید کی ، بلکہ پیپلز پارٹی پر بھی ''حملہ آور ' ' ہو کر پیٹر یاٹ کے نام سے ایک دھڑے کو بر آمد کیا ، اب چوہدری شجاعت جو ق لیگ کے سربراہ ہیں ، ایک بار پھر تمام لیگی دھڑوں ( شاید نون لیگ ان میں شامل نہیں ہوگی ) کو اکٹھا کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ، تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں حقیقی اور اصلی مسلم لیگ کونسی ہے جو خود کو پاکستان کے قیام والی مسلم لیگ قرار دے سکتی ہو؟ بقول منیر نیازی
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ زندگی کا سفر رائیگاں تو ہے

متعلقہ خبریں