پاکستان ، نعمت عظمیٰ ہے

پاکستان ، نعمت عظمیٰ ہے

انسان اللہ تعالیٰ کی شاہکار مخلوق ہے ۔ ان میں سے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں وہ انبیا ء ، صلحا ، شہدا ، اور صدیقین کہلاتے ہیں اور فرشتے اُن پر رشک کرتے ہیں ۔ انسان کی پیدائش او راُسے حواس خمسہ اور عقل و شعور کی نعمت سے نواز کر اللہ تعالیٰ نے اُس پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے ۔ لیکن انسان کے لئے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچان کر معرفت رب حاصل کرلے ۔ لیکن انسان جب جسمانی اور دماغی صلاحیتوں کے عروج پر پہنچ جاتا ہے اور پھر اُسے دولت و اقتدار بھی مل جاتا ہے تو وہ عموماً بغاوت پر اُتر آتا ہے ۔ دھن دولت اور اقتدار کے ساتھ اگر ہدایت ربانی نصیب نہ ہو تو حدود الہٰی سے تجاوز اور گمراہی لازمی چیز ہوتی ہے ۔ اور پھر انسان اپنے رب کی نعمتوں کی نا شکری کرنے لگتا ہے اور رب کریم اُسے اپنے کلام پاک کے ذریعے بار بار یاد دہانی اور تنبیہہ کر رہا ہے کہ ''تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے ''۔انسان کو اپنی تخلیق کے بارے میں یا د دلاتے ہوئے فرمایا '' (اے انسان تجھے اپنے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں رکھا ہے جس نے تجھے پیدا فرمایا اور برابر کیا اور منظم کیا اور جس صورت میں چاہا پیدا فرمایا '')اور پھر ہدایت ربانی کے بار بار ذکر کے باوجود جو لوگ صراط مستقیم اختیار نہیںکرتے اُن کے بارے میں فرمایا ''بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے '' ۔ دنیا میں ناشکرے انسانوں کی اکثریت ہے ۔ کیونکہ آج اکثریتی انسانی آبادی خاتم النبیین ۖ کے لائے ہوئے مقدس ، مکمل اور خیر و فلاح پر مبنی پیغام کو قبول نہیں کرسکی ہے ۔ اُن کا معاملہ تو خیر الگ ہے اور اس سلسلے میں سو باتیں ہو سکتی ہیں ۔ لیکن دنیا کے سب سے بڑے ناشکرے آج اُمت مسلمہ ہے ۔ وہ اس طرح کہ اس کے افراد نے ایمان لانے کا اقرار کیا ہے اورجناب خاتم النبیین ۖ کو اپنا آخری و کامل رہنما و پیشو ا مانتے ہیں لیکن اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اللہ اور اُ کے رسول ۖ کی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں ۔ نعمتوں کی ناشکری اور جھٹلا نے میں تو پوری امت مسلمہ برابر کی شریک ہے لیکن ان سب میں پاکستانی سرفہرست ہیں۔قیام پاکستان کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بڑی مملکت اور ہر قسم کی نعمتوں سے نواز کر احسان عظیم فرمایا یقینا ہم پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے ۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ ہم سر ا پا تشکر بن کر یہاں اسلامی فلاحی جمہوری مملکت قائم کر کے بنی نوع انسان کو خاتم النبیین ۖ کی تعلیمات کی اکملیت اور ابدی افادیت بتادیتے ۔ لیکن ہم نے ستر برسوں میںکیا کیا ، وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں ایک آیت کریمہ میں جو فرمایا ہے وہ ہم پر کتنی صادق آتی ہے '' شاید تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں نیا بت (خلافت و اقتدار ) دے دے تاکہ تمہیں دیکھ لے کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو ''۔ ہمارے پاس اب بھی وقت ہے کہ ہم قیا م پاکستان کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے وعدے کی تکمیل کے لئے بحیثیت قوم یکسو ہو جائیں ۔ کیونکہ انگریز سامراج ، ہند وئوں اور تنگ نظر قوم پرستوں اور سرمایہ داروں و جاگیر داروں کی مخالفت کے باوجود پاکستان کا قائم ہونا اور ستر برس پورے کرنا بہت بڑی نعمت ہے ۔ لیکن ہم نے اگر اس نعمت کی قدر دانی نہیں کی جو ابھی تک نہیں کر سکے ہیں تو نو شتہ دیوار بہت واضح ہے ۔ اور ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی وعیداس حوالے سے بہت سخت ہے ۔ ارشاد ربانی ہے کہ '' اور اگر تم نے پیٹھ موڑ لی تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا '' ۔ یعنی جو مشن قیام پاکستان کا تھا اگر ہم نے پوار نہیں کیا تو اس کی تکمیل کے لئے کسی اور کو لا یا جا سکتا ہے۔ اہل اقتدار و دانشور طبقہ ، صحانی حضرات ، عوام اور بالخصوص پاک افواج کو امریکی تھنک ٹینک رینڈ کار پوریشن کی پیشن گوئی (خاکم بدہن ) کہ'' 2020ء میں پاکستان کے نام سے دنیامیں کوئی ملک نہیں ہوگا ''۔ کو مدنظر رکھنا ہوگا ۔ اس وقت پاکستانی قوم کا سب سے بڑا المیہ اخلاقیات کا ہے ۔ اخلاقیات میں نفاق اور کرپشن (مالی اور اخلاقی دونوں ) میں بہت عروج پر ہیں ۔ لہٰذا ہم سب جناب خاتم النبیین ۖ کی تعلیمات کے مطابق وطن عزیز میں نفاذ شریعت کے لئے سنجیدہ ہو جائیں کہ یہی قیام پاکستان کا مقصد و منشا تھا اور ہے ۔ ہمارے پڑوس افغانستان میں امریکہ ، بھارت اور اسرائیل تینوں سرجوڑ کر خاکم بد ہن پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے بنا کرروبہ عمل لا رہے ہیں، افغانستان میں اس وقت جو جنگ جاری ہے اس میں ہمارے لئے بڑے اسباق ہیں اور ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں یہ تین ممالک پاکستان کے بارے میں پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اُس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ 

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

متعلقہ خبریں