جعلی صحافی

جعلی صحافی

ما ئیکرو سافٹ کمپنی کے مالک اور مشہور زمانہ بزنس مین بِل گیٹس کہتے ہیں کہ کامیابی ، محنت ، مستقل مزاجی ، سیکھنے، پڑھنے، قُربانی اور سب سے بڑھ کر جو کام تم کر رہے ہو اس سے پیار کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم موجودہ دور کاتجزیہ کریں تو ہر انسان راتوں رات کروڑ پتی اور ارب پتی بننا چاہتا ہے۔ وہ سو چتا ہے کہ وہ محنت بھی نہ کرے اسے تکلیف بھی نہ ہو اور زیادہ سے زیادہ دولت کمائے ۔فی زمانہ صحت ، تعلیم ایسے شعبے ہیں جن میں زیادہ تر سرمایہ دار، سرمایہ کاری کرکے زیادہ سے زیادہ مال بنارہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے پرائیویٹ میڈیکل سنٹر ، کالجز اور سکولز قائم کئے ہوئے ہیں اور ان میں اکثر سکول سرکاری قواعد و ضوابط پر بھی پو را نہیں اُترتے مگر جسکی لاٹھی اُسکی بھینس والا معاملہ ہے ۔ کوئی پو چھنے والا نہیں۔ اسطرح آج کل ایک شعبہ صحافت ہے اور جو عدلیہ ، مقننہ، ، انتظامیہ کے بعد کسی بھی ریاست کاچو تھا سکون کہلایا جاتا ہے۔ پرائیویٹ نر سنگ ہومز، پرائیویٹ سکولز اور کالجز کمائی کے اچھے ذرائع ہیں ۔ جس کے بعد پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیاایسے شعبے ہیں جو کمائی کے ذرائع بن رہے ہیں اور لوگ جائز اور ناجائز اس سے کمائی کر رہے ہیں۔ اکثر و بیشتر لوگوں نے ویب پیج بنائے ہوئے ہیں ، ہاتھ میں فو ٹو گرافی یا ویڈیو کیمرہ یا مائیک پکڑ کے دکانوں، سکولوں ، کالجوں ، یونیور سٹیوں، شاعروں ادیبوں اور زندگی کے مختلف شعبوں کے لوگوں کے پاس ان کے کام کی تشہیر اور پبلسٹی کے لئے جاتے ہیں۔ مختلف سرکاری، نیم سرکاری، مذہبی، سماجی فنکشن میں شرکت کرتے ہیں اور مختلف شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے انٹر ویو کرتے ہیں۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ نہ تو بزنس مین، نہ کالج سکول کے پرنسپل اور مالک ان سے کبھی پو چھتے ہیں کہ تم میرا جو انٹر ویو لے رہے ہو اسکو کس اخبار، ویب سائٹس، میگزین یا الیکٹرانک چینل پر براڈ کا سٹ پبلش یا ٹیلی کا سٹ کرو گے۔ان جعلی صحافیوں ،جن کا مطمح نظر لوگوں کو لو ٹنا ہوتا ہے انکا کسی اخبار، ویب سائٹس، ریڈیو ٹی وی سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا۔ اور نہ وہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کوشک ہے تو ان صحافی حضرات کا ٹسٹ لیں ۔ اُن سے انگریزی اور اُردو میں چند فقرے لکھوائیں آپکو خود بخود پتہ چل جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔جو صحافی اُر دو یا انگریزی نہیں لکھ سکتا اُس سے آپ کیسے تو قع کر سکتے ہیں کہ وہ صحافی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں ایسے صحافی تھے جنکی تعلیم اتنی زیادہ نہیں ہوتی مگر وہ اخباروں ، ریڈیو ، ٹی وی اور ابلا غ عامہ کے دوسرے ذرائع میں کام کرکے کُندن بن جاتے تھے۔ اخبار، ریڈیو اور ٹی وی صحا فیوں کے لئے نر سری کا کام کرتے تھے۔ اُن میں جو سینئر حضرات ہوتے تھے اُس سے جونیئر استفادہ کرتے تھے مگر بد قسمتی سے وہاں پر بھی ایسے لوگوں کا اب فُقدان ہے۔نہ تو اس قسم کے ادارے تمام شہروں اور قصبوں میں ہیں اور نہ کوئی سیکھنے کی کو شش کرتا ہے۔لہذاء کمپیوٹرز، خوبصورت ویڈیو اور سٹل فو ٹو گرافی کے کیمرے ، موبائل فون،لیپ ٹاپ اس میں کچھ نہیں کر سکتا۔جب کسی انسان کی تعلیم اور تربیت نہیں ہوتی تو ان آلات سے کیا کرے گا۔لہٰذا افسوس کی بات ہے کہ ان جیسے ڈمی صحافیوں کی وجہ سے اُن صحافیوں کی بھی بے عزتی ہوتی ہے جنہوں نے با قاعدہ اس شعبے میں تعلیم اور تربیت حا صل کی ہوتی ہے۔صحا فت میں کشش کی وجہ سے ہر جوان لڑکا لڑکی اس شعبے کو اپنانے کی کو شش کرتا ہے۔ مگر بد قسمتی سے نہ صحافت کی تعلیم حا صل کرتے ہیں اور نہ تربیت۔ لہٰذا اس قسم کے ان پڑھ صحافیوں کی وجہ سے پڑھے لکھے صحافیوں کی بھی بے عزتی ہو تی ہے۔

ما ہر سماجیات مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ کے بعد صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیتے ہیں۔ اور صحافت کو مہذب اور ترقی یا فتہ ممالک واچ ڈاگ کہتے ہیں یعنی انکی ذمہ داری ریاستی معاملات پر نگرانی کرنا اور ریاست کے غلط اُمور کی نشاندہی کرنا اور حق اور سچ کا سا تھ دینا اور معاشرے میں منفی رجحانات کو ختم کرنا ہوتی ہے۔مگر مُجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں صحافت کا مقصد بلیک میلنگ کرنا اور حالات کو مزید بگا ڑنا رہ گیا ہے اور اصلاح کے بجائے منفی رجحانات کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ ہاتھ کی ساری انگلیاں ایک جیسی نہیں مگر زیادہ تر صحافی اس قسم کے منفی کاموں میں ملوث ہوتے ہیں۔ چا روں صوبوں کے وزارت اطلاعات اور نشریات کے اعلیٰ کارپردازوں کو چاہیئے کہ وہ وطن عزیز میں اس منفی رُجحان اور صحافت کو بد نام کرنے والے جعلی صحافیوں کے خلاف کریک ڈائون کریں صحافی تعلیمی استعداد اور لیڈنگ اخبار، ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کم ازکم تین سال تربیت کو لازمی بنائیں اور اسکے علاوہ ضلع کی سطح پر اکیڈمی قائم کریں تاکہ ایف اے ایف ایس سی یا بی اے مکمل کرنے کے بعد دوسال کا کو رس مکمل کریں۔ اور جو صحافی حضرات جو کسی مستند ادارے سے تعلیم یافتہ اورتربیت یافتہ نہ ہوں ان پر پابندی لگائی جائے۔مُجھے اس بات کا اچھی طرح ادراک ہے کہ مہذب معاشرے میں اساتذہ کرام اور صحافی حضرات کو انتہائی عزت و حترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے مگر بد قسمتی سے وطن عزیز میںدو نمبر صحافیوں کی وجہ سے یہ مقدس اور معزز شعبہ بُری طرح بدنام ہو گیا ہے۔میں اس کالم کے تو سط سے استد عا کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے لئے کوئی قانون بنائیں اور سائبر کرائم قانون پر سختی سے عمل کریں۔

متعلقہ خبریں