وزیر داخلہ کا سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ کو چیلنج کرنے کا اعلان

وزیر داخلہ کا سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ کو چیلنج کرنے کا اعلان

کوئٹہ سانحہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں مرتب ہونے والی رپورٹ کو جس میں دہشت گردی کے انسداد کے حوالے سے وزارت داخلہ اور بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی کارکردگی یا بے عملی پر بہت سے سوال اٹھائے گئے ہیں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے جو ان کا حق ہے۔ اس رپورٹ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی قومی اسمبلی میں تحاریک التواء دائر کی ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ ، پارلیمنٹ اور ہر فورم پر اپنا دفاع کریں گے۔ آغاز انہوں نے میڈیا پر ایک پریس کانفرنس کے ذریعے کیا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہو چکی ہے اور اسے میڈیا پر عام بھی کیا جا چکا ہے۔ تاہم تاحال اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تاآنکہ سپریم کورٹ اسے اپنے فیصلے کا حصہ بنا دے ۔ قاضی فائز عیسیٰ رپورٹ میں سیکورٹی انتظام کی کمزوریوں اور ناکامیوں پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور وفاقی وزارت داخلہ اور بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی کارکردگی کے اسقام کا ذکر کیا گیا ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہونے کو بھی اس سانحہ کی وجوہ میں شمار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں وزارت داخلہ اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے بارے میں بھی سوال اٹھائے گئے ہیں ۔ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے اپنا دفاع کرنے کی خاطر اپنے عہدے سے الگ ہونے کے لیے وزیر اعظم کو استعفیٰ پیش کیا تھا جو انہیں نے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ انکوائری کمیشن کا مینڈیٹ کوئٹہ میں ہونے والے دو دہشت گرد حملوں تک محدود تھا لیکن کمیشن نے اس مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔ چوہدری صاحب نے کہا ہے کہ کمیشن نے انہیں پانچ سوالوں پر مشتمل خط لکھا جن میں کالعدم اہل سنت والجماعت کے وفد سے ملاقات' اور اسی تنظیم کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دینے کے بارے میں سوالا ت شامل تھے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وفد دفاع پاکستان کونسل کا تھا جس میں اہل سنت والجماعت کے رکن بھی شامل تھے۔ اور اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دینا اگرچہ وزارت داخلہ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی ہے تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ اس جلسہ کی اجازت کی درخواست شہداء فاؤنڈیشن نے دی تھی جو گزشتہ چھ سال سے ایسے جلسے کر رہی ہے۔ اسی طرح انہوں نے دیگر سوالوں کے جوابات کی بھی وضاحت کی ہے۔ تاہم وزیر داخلہ اگر احتیاط کرتے اور دفاع پاکستان کونسل اور شہداء فاؤنڈیشن کے منتظمین کو کہہ دیتے کہ وہ کالعدم تنظیم کو شرکت کی اجازت نہ دیں اور جو وفد ان سے ملنے آیا تھا اس کے منتظمین سے کہہ دیتے کہ ان کے عہدے کی ذمہ داریاں کالعدم تنظیم کے ارکان سے ملاقات کی راہ میں مانع ہیں تو شاید بات یہاں تک نہ پہنچتی۔ تاہم وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کا مینڈیٹ 8اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے دو دہشت گرد حملوں تک محدود ہے اور کمیشن نے سارے ملک میں دہشت گردی کی فضا کا جائزہ لے کر اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔ اگر ان کے استدلال کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو کیا کمیشن کی رپورٹ کوئٹہ کی کچہری اور سول ہسپتال میں سیکورٹی کے انتظامات کے جائزے تک محدود کرنی چاہیے تھی؟ اس صورت میں اس کے لیے سپریم کورٹ کے جج کو انکوائری پر مامور کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ صوبائی پولیس یا ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر کو انکوائری پر مامور کیا جا سکتا تھا۔ قاضی فائز عیسی انکوائری کمیشن نے دہشت گردی اور اس کے انسداد کی سرکاری کوششوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس میں نہ صرف ان پانچ سوالوں کا ذکر ہے جو وزیر داخلہ سے کیے گئے بلکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ادھورے پن کا بھی ذکر ہے۔ قومی انسداد دہشت گردی کے ادارے (نیکٹا) کی فعالیت کا بھی ذکر ہے کہ اس کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں ہوا؟ (جس کے بارے میں وزیر داخلہ کا جواب تھا کہ آخری اجلاس 31دسمبر 2014ء کو ہوا تھا)۔ انکوائری کمیشن نے یہ بھی سوال اٹھایا تھا کہ نیکٹا کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس کیوں نہیں ہوا؟ (جس پر وزیر داخلہ کا جواب تھا کہ یہ ذمہ داری وزیر اعظم کے دفتر کی تھی) انکوائری کمیشن نے بلوچستان کی صوبائی حکومت ' وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کے طرز عمل کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اس طرح یہ رپورٹ قومی سطح پر دہشت گردی کے حوالے سے انسدادی کوششوں کے بارے میں رپورٹ ہے اور وزیر داخلہ کو اس ذمے دار منصب پر فائز ہونے کے حوالے سے اسے غیر متعلق قرار نہیں دینا چاہیے بلکہ نہ صرف خود انہیں بلکہ کابینہ کو اس کے مندرجات پر غور کرنا چاہیے۔ یہ داخلی قومی سلامتی کا ایشو ہے اس کی اہمیت پر غور کرتے ہوئے جہاں کارکردگی میں کمی ہے اس کا اعتراف کرنا چاہیے اور اس رپورٹ کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر دیکھنا چاہیے جس کی روشنی میں دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں