فاٹا خیبرپختونخوا انضمام۔۔سیاسی اتفاقِ رائے

فاٹا خیبرپختونخوا انضمام۔۔سیاسی اتفاقِ رائے


قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب شیرپاؤ نے وفاقی حکومت کو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ فاٹا کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کر کے ساتوں ایجنسیوں کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ اسی پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مردم شماری سے وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے گی اور محرومیوں کا ازالہ ہو سکے گا۔ ایک طرف شیرپاؤ نے فاٹا کو انتظامی حکم کے ذریعے خیبرپختونخوا کا حصہ بنانے پر زور دیا ہے دوسری طرف مردم شماری کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے جو سالہا سال سے نہیں ہو رہی ہے اور اب بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ کام اگلے سال مارچ سے مرحلہ وار شروع ہو گا۔ اس میں کئی مہینے لگ جائیں گے۔ اور 2018ء میں عام انتخابات ہونے ہیں۔ مردم شماری کی تکمیل اور عام انتخابات کی تیاری میں جو عرصہ دستیاب ہو گا وہ نئی حلقہ بندیوں کے لیے خدشہ ہے کہ ناکافی ہوگا۔ اول تو فاٹا کی ایجنسیوں میں مردم شماری کے اعداد و شمار موجود نہیں جن کی بنیاد پر انہیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی دینا مقصود ہے۔ دوسرے فاٹا میں اس بات پر اتفاق رائے ہے یا نہیں کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔بعض علاقوں سے اس تجویز کا خیر مقدم کیا جارہا ہے اور بعض میں اس پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ کیونکہ انضمام کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بندوبستی علاقوں کا قانون نافذ ہو گا جب کہ بعض حلقے بندوبستی قانون کے نفاذ کے بارے میں اطمینان کا اظہار نہیں کر رہے۔ اس حوالے سے اتفاق رائے حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور ان منتخب نمائندوں سے فاٹا کے عوام کی خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بارے میں رائے لی جائے۔ کیا فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کروائے جا سکتے ہیں؟ کیا فوری طور پر انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں کی جا سکتی ہیں؟ یہ سوال ابھرتے ہیں جن کا جواب کسی طرف سے نہیں دیا جا رہا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مشران اور قبائلی عمائدین کے کسی گرینڈ جرگہ سے انضمام کے بارے میں رائے لے لی جائے۔ اس کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت اور صوبے کی سیاسی پارٹیوں کا اتفاق رائے ضروری ہوگا۔ اس کے لیے سب سے پہلے صوبہ کی سیاسی پارٹیوں کی قیادت میں اتفاق رائے ہونا چاہیے تاکہ اس کی بنیاد پر فاٹا کے مشران اور عمائدین کو یکجا کر کے ان کے سامنے یہ وضاحت کی جائے کہ انضمام سے قبائلی عوام کو کیا حاصل ہو گا جو اب نہیں ہے۔ سیاسی اتفاق رائے حاصل ہو جائے تو تمام رکاوٹیں آسانی سے دور ہو سکیں گی۔

متعلقہ خبریں