وزیر اعظم نواز شریف کا مستحسن اقدام

وزیر اعظم نواز شریف کا مستحسن اقدام


پی آئی اے کے سانحہ حویلیاں میں سبھی جاں بحق ہونے والوں کی میتیں ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں جو ان کے غم میں سوگوار ہیں لیکن ایک سوگوار 14سالہ حسینہ بھی ہے جو ساتویں جماعت کی طالبہ ہے جس کے گھر کے سارے افراد اس سانحہ میں جاں بحق ہو گئے۔ اب حسینہ اپنے والد کے خاندان کی آخری نشانی ہے۔ یہ سانحہ اتنا اندوہناک ہے کہ وہ ٹراما میں ہے۔ ذہنی توازن کی خرابی کے باعث تسلسل کے ساتھ بات کرنے کے لائق بھی نہیں ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ایک مستحسن اقدام یہ کیا ہے کہ اس کی کفالت کا اعلان کر دیا ہے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کر دی ہے کہ اس کی سیکورٹی کا انتظام کیا جائے۔ پی آئی اے کی کسٹمر سروس نے فوری اقدام یہ کیا ہے کہ حسینہ گل کو اس کے جاں بحق اہل خانہ کی وفات کے زر اشک شوئی کے تین کروڑ روپے سے زیادہ کا چیک دے دیا ہے۔ لیکن حسینہ تو اس وقت زیرِ علاج ہے۔ وہ تو پوری طرح بات کرنے کے بھی لائق نہیں ۔ اس کا کہیں کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں۔ اس چیک کی وصولی کے بعد اب اس کے بہت سے رشتہ دار سامنے آ رہے ہیں اور اس کی حوالگی کا حق جتا رہے ہیں۔ اس کے والد کی ایک بہن کے سوا اس کا کوئی حقیقی رشتہ دار نہیں۔لیکن اس کے دور پار کے رشتہ دار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اسے ان کے حوالے کر دیا جائے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کچھ لوگوں نے اس سے شادی کی پیش کش بھی کی ہے۔ لیکن وہ تو چودہ سال کی ساتویں جماعت کی طالبہ ہے وہ کیا فیصلہ کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کا اس کی کفالت کی ذمہ داری کا اعلان لائق تحسین ہے۔ اس کے مضمرات کیا ہیں یہ ابھی معلوم نہیں۔ بہتر ہو گا کہ اسے گرم چشمہ میں اس کے گھر میں تین کروڑ روپے کے چیک کے ساتھ تنہا چھوڑنے کی بجائے اسے اس کی پھوپھی کے ہمراہ اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس منتقل کر دیا جائے۔ اور کسی اچھے سکول میں اسے داخل کروا دیا جائے۔ جو رقم اسے زر اشک شوائی کے طور پر ملی ہے وہ کسی بینک میں ایسے انتظام کے ساتھ جمع کرا دی جائے جس سے مستقبل میں اسے ا س سے ماہانہ آمدنی ملتی رہی۔ وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں اس کے ساتھ اس کی پھوپھی یا علاقے کی کسی اور خاتون کا رہنا ضروری ہو گا تاکہ وہ اجنبی ماحول میں احساس تنہائی کا شکار نہ ہو۔

متعلقہ خبریں