نیشنل ایکشن پلان کہاں تک کامیاب ہوا

نیشنل ایکشن پلان کہاں تک کامیاب ہوا

جنوبی ایشیاء کے دہشت گردی سے متعلق ادارے کے مطابق پاکستان میں سال 2003ء سے سال 2013ء تک دہشت گر دی اور انتہا پسندی کے واقعات میںتقریباً 61ہزار لوگ لُقمہ اجل بن چکے ہیں۔ 2013ء میںجب مسلم لیگ(ن)بر سر اقتدار آئی تو حکومت نے دہشت گردی پر قابوں پانے کے لئے دوطرح کی پالیسیاں بنائیں۔ قومی سلامتی کا داخلی منصو بہ(NISP) اور نیشنل ایکشن پلان(NAP)۔ نیکٹا(NACTA) جو دہشت گر دی کو روکنے کا وفاقی ادارہ ہے اس ادارے نے سال 2014ء دہشت گر دی اور انتہا پسندی کو روکنے کے لئے قومی سلامتی کا داخلی منصوبہ NISPبنایا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ منصوبہ سال 2014ء سے سال 2018ء تک کے عر صے پر محیط ہوگا۔اس منصوبے کے نکات میں مدرسوں کے نظام میں اصلاحات کرنا،سلامتی کے اداروں کی استعداد کار بڑھانا،دہشت گردی پرقابو پانے سے متعلق وفاقی فو رس کا قیام،دہشت گر دوںکی مالی امداد ختم کرنا اور اسکے علاوہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی وغیرہ شامل ہے۔بد قسمتی سے قومی سلامتی کے داخلی منصوبے (NISP)کو عملی شکل نہیں دی جا سکی کیونکہ عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر نہ تھی۔اور اس پر عملدرآمدکے لئے 32 ارب روپے کی ضرورت تھی جو وفاقی حکومت نہیں دینا چاہتی تھی۔ 14دسمبر2014ء کو جب دہشت گر دوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا تو اس حملے میں کل 145لوگ شہید ہوئے جس میں 132سکول کے بچے بھی تھے۔ دہشت گر دی کے اس واقعے کے بعد وزیر اعظم نے آل پا رٹیز کانفرنس بلائی اور 24 دسمبر 2014ء کو وزیر اعظم نواز شریف نے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں20 نکات پرمشتمل نیشنل ایکشن پلان NAPکا اعلان کیا۔نیشنل ایکشن پلان کے نکات یہ ہیں1 (دہشت گردی میں ملوث لوگوں کو پھانسی کی سزا دینا2 (فوج کی نگرانی میںدوسال کے لئے فوجی عدالتوں کا قیام(3دہشت گرد اور مسلح تنظیموں کو ملک میں کام کرنے کی اجازت نہ دینا(4دہشت گر دی کی روک تھام کے لئے ادارہ نیکٹا کو مضبو ط کرنا(5اُن اخباروں رسالوں اور لٹریچر کے خلاف سخت کار روائی کرنا جو ملک میں نفرت ، فرقہ پرستی اور عدم بر داشت کو فروغ دیتے ہیں(6دہشت گر د اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی امداد کو کسی طریقے سے روکنا(7اس بات کو یقینی بنا ناکہ کا لعدم تنظیمیں دوبارہ فعال نہ ہوں(8دہشت گردی کی روک تھام کے لئے ایک خا ص فورس کا قیام ،مذہبی انتہا پسندی کو روکنے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنا(9مد رسوں کے نظام کو باقاعدہ بنانا اور اسکی اصلاح کرنا(10پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو دہشت گر د اور دہشت گر د تنظیموں کی کوریج سے روکنا(11آئی ڈی پیز کی با عزت طریقے سے واپسی(12 فاٹا میں انتظامی اور ترقیاتی اصلاحات تیز کرنا(13دہشت گر د تنظیموں کے مواصلاتی نظام کو تباہ کرنا(14سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ پردہشت گر د تنظیموں کے پروپیگنڈے اور نفرت آمیز تقا ریر کو روکنے کے لئے اقدامات کرنا(15ملک کے دوسرے حصوں کی طر ح پنجاب میں دہشت گر دوں کو جگہ نہ دینا(16کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانا(17بلوچستان میں وہاں کی حکومت کو کام کرنے کے لئے تمام سٹیک ہو لڈر کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرنا(18وہ عنا صر جو فر قہ وارانہ دہشت گردی کا فروع چاہتے ہیں انکے خلاف قانونی کار ر وائی کرنا(19افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے اقدامات کرنا ور اسکو عملی جامہ پہنانا(20کریمنل جسٹس میں اصلا حات لانا۔ جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کا تعلق ہے اسکے کئی اہداف پورے ہوگئے اور کئی مکمل نہیں ہوئے۔نیشنل ایکشن پلان کے بعد پھانسی کی سزا پر سے پابندی ہٹائی گئی۔جنوری 2015ء کو پا رلیمنٹ میں مشترکہ اجلاس میں ٢١ ویں ترمیم منظور کی گئی اور اس طر ح دہشتگر دوں کے خلاف 2سال کے لئے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔اسکے بعد وزارت دا خلہ نے صوبوں کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے نفرت انگیز مواد تقسیم کرنے کے خلاف کارروائی کی جائے۔ صوبائی حکومتوں نے دہشت گر دی کو قابو کرنے کے لئے ایک خود مختار فورس بنانے کے لئے کام کیا ۔ کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کئے گئے۔ اس میں شک نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کچھ اچھے کام کئے گئے مگر پنجاب میں بعض انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کوئی کارر وائی نہیں کی گئی۔نیشنل ایکشن پلان کا جو دوسرا نکتہ پو را نہیں ہوا وہ نیکٹا کو فعال اور مضبوط نہیں کیا گیا۔چوتھا نکتہ یہ ہے کہ کالعدم تنظیموں کی ملک کے اندر اور باہر سے مالی امداد نہیں روکی گئی اور اب بھی کئی مذہبی گروہوں کو مختلف اسلامی ممالک سے امداد مل رہی ہے ۔کالعدم تنظیموں نے اپنے نام بدلے۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ پنجاب میں کئی گینگ پکڑنے کے بعد وہاں فوجی آپریشن کیوں نہیں کیا گیا۔ فاٹا اصلا حات اس پالیسی کا حصہ تھا مگر بد قسمتی سے فاٹا میں کوئی خا ص اصلاحات نہیں کی گئیں، فا ٹا پاکستان کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔ وہاں کے نو جوانواں کے پاس ڈگریاں ہیں مگر پھر بھی بے روزگار ہیں۔ جب تک ملک میں انصاف کی فراہمی اور غُربت کا خاتمہ نہیں ہوگا اُس وقت تک دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔پاکستان کو اپنے جا سوسی اور مُخبری کے نظام کو مزید فعال کرنا ہوگا۔نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی سیاسی پا رٹیاں ہیں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ ملک میں افرا تفری ختم ہو۔ افراتفری جب ختم ہوگی تو عوام کی نظریں کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کی طرف جائیں گی۔ جب تک پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف کار ر وائی نہیں ہوگی اُس وقت تک چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی پایا جائے گا۔ لہٰذاء پنجاب میں بھی دوسرے صوبوں کی طر ح آپریشن ضروری ہے ۔

متعلقہ خبریں