راکھشس احتساب مانگتے ہیں

راکھشس احتساب مانگتے ہیں

بچہ لوگ تالی بجائو ، یہ مخصوص مکالمہ ہم اپنے بچپن سے ہی سنتے آئے تھے ، شہر کے کسی بھی علاقے میں جہاں چھوٹا سا میدان یا قطعہ زمین کھلا ملتا تھا ، مداری وہاں اپنی پٹاری کھول کر اپنا تما شہ دکھانے کے لئے ایک چھوٹے سے ترپال کے ٹکڑے پر سامان بچھا دیتا اور ڈگڈگی بچا کر لوگوں کو اکٹھا کرتا ، قریبی گھروں سے چھوٹے بڑے بچے ڈگڈگی کی آواز سن کر دوڑکر آتے اور مداری کے گرد دائرے کی صورت میں بیٹھ جاتے ، مداری اپنے کمالات دکھاتا اور بچہ لوگ تالیاں بجا بجا کر خوش ہوتے ، مگر اتنی مدت میں پلوں کے نیچھے سے نہ جانے کتنا پانی گزر چکا ہے جس نے کل کے بچوں کے مقابلے میں آج کے بچوں کو بہت زیادہ سمجھدارکر دیا ہے اور اب وہ ہر بات کو ہر کھیل کو ہر تماشے کو حیرت سے دیکھنے کی بجائے اس کی پشت پر کار فرما اس ٹرک (Trick)کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہاتھ کی یہ ساری صفائی جنم لیتی ہے ، پروین شاکر نے اسی لیے تو کہا تھا ۔
جگنوکو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
یہی وجہ ہے کہ اب بچے ورغلائے نہیں جا سکتے ، چاہے آپ لاکھ کہیں کہ سیاسی طور پر کوئی ابھی تک بچہ ہے کہ نا بالغ ہے اس لیے آپ اس کی جانب سے اٹھا ئے گئے سوالوں پر اس کو صرف تالیاں بجانے کا جواب اگر وہ مانگتا ہے تو جواب تو دینا پڑے گا ۔ یہ الگ بات ہے کہ سیاسی مداری اب بھی ہاتھ کی صفائی کے تماشے کا میابی سے دکھانے کی کار کر دگی سے باز نہیں آتے ۔ ہیلری نے بھی اسی لیے کہا تھا کہ میری شکست میں روس کا ہاتھ ہے ، حالانکہ جب یہی بات اوباما نے کی تو پیوٹن نے اسے شٹ اپ کال دیتے ہوئے کہا کہ یا تو ثبوت لائو یا پھر چپ کر جائو ۔ گو یا پیوٹن کو اپنے تماشے کے فنی پہلوئوں کی کمال چابکدستی کا اتنا یقین ہے کہ امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں سے اسے اس کھیل کی حقیقت سے پردہ اُٹھانے میں کامیابی کا کوئی یقین نہیں ہے ۔مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ بلاول بچہ ضرور ہے مگر وہ جھوٹا اور منافق نہیں ہے ، چلئے مان لیتے ہیں ، ایسا ہی ہوگا مگر جس میدان میں آکر بلاول تماشے دکھا رہا ہے اس کی بنیاد ہی میں جھوٹ اور منافقت گھلی ہوتی ہے ۔ سیاست نام ہی منافقت اور دھوکہ بازی کا ہے ، اس لئے چانڈیوکو چاہیے کہ سیاسی بچے کو اس کھیل میں ہاتھ اور منہ کو ئلوں کی دلالی کی طرح آلودہ کرنے سے بچائیں مگر مسئلہ یہی ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے ، یعنی سیاست کی خاردار وادی میں سفر کے دوران منافقت ، جھوٹ اور مکروفریب سے بچ کر گزر نا بہت ہی مشکل ہوتا ہے ، اس لئے آج جو اس آلودگی سے بچنے کے دعوے کرتا ہے کل گردن تک اس دلدل میں غرق ہونے سے انکار کر ہی نہیں سکتا ، اور ایسا کون ہے جو ان '' خصوصیات'' سے متصف ہونے سے انکار کی جرات کر سکتا ہے ۔ بقول شاعر
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق وشرر سے ملے ہوئے
مداری کا کھیل ہر طرف اب بھی دکھائی دے رہا ہے ، سی پیک کی بسا ط پر ایک عرصے سے منافقت کے مہرے دوڑائے جارہے ہیں ، ایک طرف دیکھیں تو یوں لگ رہا ہے کہ چھوٹے صوبے جس قسم کے سوال اٹھا رہے ہیں ، کھیل کا مرکزی مداری ان صوبوں کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ہاتھ کی صفائی سے ایسا سماں باندھنے میں مصروف ہے گویا ان صوبوں میں دودھ اور شہد کی نہریں بس بہنے کو ہیں جن میں عوام گردن گردن تک غرق ہونے کو ہیں اور ان پر ہن برس برس کر ان کو نہال کردے گا ۔ مگر مداری کا کمال یہ ہے کہ وہ ''بچہ لوگوں '' کوغچہ دینے میں کمال ہوشیاری سے ہمیشہ ہی کچھ اس طرح کامیاب ہو جاتا ہے کہ بقول عامر مرحوم چھوٹے صوبے پکارتے ہی رہ جاتے ہیں کہ
پھر وہی ہم ہیں وہی تیشئہ رسوائی ہے
دودھ کی نہر تو پرویز کے کام آئی ہے
ایسا ہی کھیل دھرنا دھرنا کھیلنے والا مداری بھی کھیل رہا ہے ، بقول شخصے صرف شیر وانی پہننے کی خواہش سے مغلوب یہ مداری پاکستان کی سیاست کو ایسے راستے پر لگا چکا ہے کہ سیاسی روایات تبدیلی کے جن مراحل سے گزر چکی ہیں اور آئندہ جب بھی الیکشن کا دور آئے گا تو جلسوں میں دشنام طرازی کاکھیل سرچڑھ کر بولے گایہاں بچہ لوگ تالیاں بجاتے ہوئے سوال کرنے کی جرات ہی نہیں کرتے کہ حضورہمارا مینڈیٹ کہاں گیا ۔ آپ نے تو ہمارے حالات بدلنے کے دعوئوں اور وعدوں پر ہمارے ووٹ حاصل کئے تھے مگر گزشتہ تین سال سے اس مینڈیٹ کااستحصال جس طرح کیا جارہا ہے ، اسمبلی کا اب تک بائیکاٹ کر کے آپ نے ہمارے مسائل کے حل میں کونسی کامیابی حاصل کی ؟ الٹا خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ وفاق کے نامناسب رویئے کی وجہ سے صوبے کے جائز حقوق حاصل کرنے میں تو آپ مکمل ناکام رہے البتہ اپنی تنخواہیں او ر دیگر مراعات یوں وصول کیں جیسے کہ مداری کھیل تماشے کے آخر میں لوگوں کو اپنی جیبیں ہلکی کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور یہ کہہ کر اپنا سامان سمیٹ لیتا ہے کہ تماشا ختم پیسہ ہضم ، ویسے یہ جو ہرطرف احتساب احتساب کے تماشے ہو رہے ہیں ، اور ہر شخص دوسرے کے احتساب کی بات کرتے ہوئے اپنے گریبان میں جھانکتا ہی نہیں تو اس پر یار طرحدار خالد خواجہ (مقیم امریکہ )
کا یہ شعر کتنا خوبصورت تبصرہ ہے ۔
دیو تائوں کا دیس ہے جس میں
راکھشس احتساب مانگتے ہیں

متعلقہ خبریں