پختونوں کی بدقسمتی اور خوش قسمتی

پختونوں کی بدقسمتی اور خوش قسمتی

ویسے تو خیبر پختونخوا میں بحیثیت مجموعی تاریخ کے اوراق میں خوشحالی اور خوش قسمتی کا ذکر بہت کم ملتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن چند ایک کا ذکر سطور ذیل میں ایک خاص تقریب اور ایک تعلیمی ادارے کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔ پختونخوا کی پہلی بد قسمتی اس کی سٹریٹجک حیثیت اور جغرافیائی خدوخال ہے۔ پختونوں کا یہ علاقہ ایک ایسے مقام پر واقع ہے جو ایک طرف ایشیائے کوچک کے لئے گیٹ وے ہے تو دوسری طرف سنٹرل ا یشیاء کے فاتحین اور حملہ آوروں کے لئے واحد راستہ رہا ہے۔اسی سبب سکندر اعظم سے لے کر سوویت یونین اور امریکہ تک جتنے حملہ آور یہاں (افغانستان) آتے رہے ہیں ان کے اثرات افغانستان کے ساتھ ساتھ موجودہ پختونخوا پر بھی مرتب ہوتے رہے ہیں۔ کسی زمانے میں تو پختونوں کا یہ علاقہ چونکہ ایک تھا لہٰذا سب ایک ہی جگہ اور ایک ہی طرح رلتے رہے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد پختونخوا کا علاقہ افغانستان کے پختونوں کی نسبت ذرا آسودہ حال ہوتا گیا اور الحمدللہ! کہ پاکستان میں آج تعلیمی اور تہذیبی لحاظ سے پنجاب کے بعد پختونخوا کا حصہ ہے۔ لیکن افغانستان کی سرحد پر ہونے اور د ونوں طرف کے پختونوں کے درمیان اٹوٹ رشتوں کے سبب جب کبھی افغانستان پر کوئی افتاد پڑی ہے تو پاکستان میں پختون سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔پختونوں کی بد قسمتی کا دوسرا سبب ان کے وہ رسوم و رواج ہیں جو اسلامی تعلیمات کی جگہ ان کے قبائلی اور تاریخی تعصبات' نفسیات اور بعض اوقات جاہلیات پر مشتمل ہیں۔ پختون ولی' بے جا وبلا ضرورت غیرت اور پختون انا پرستی اور ضد نے ہماری قوم کو ترقی کے اس مقام سے دور رکھا جو اس قوم کا خداداد صلاحیتوں کے سبب فطری حق تھا۔ تیسری بدقسمتی پختون قوم کی یہ رہی کہ ان کو کبھی ایسا رہنما و لیڈر میسر نہ آسکا جو ان کو ایک جھنڈے تلے جمع کرکے ایک مضبوط قوم کی طرح یک جان کردیتا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خوشحال خان خٹک جیسا قلم و تلوار کا دھنی بھی اپنی قوم کو بے اتفاقی و انتشار کا زخم سینے پر لئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوا۔ پختونوں کی اس بدقسمتی کا رونا اس لئے رویا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے پختونخوا میں ایسی حکومتیں بر سر اقتدار آتی رہی ہیں کہ کسی کو ان کے مخصوص نظریات کے سبب وفاق پسند نہیں کرتا اس لئے فنڈز میں کٹوتی اور کمی کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں میں تعاون و مدد بھی فراہم نہیں کرتا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی صوبوں بالخصوص خیبر پختونخوا کو وہ حقوق پختونوں کے درمیان انتشار و افتراق کے سبب میسر نہیں آئے جو ہونے چاہئے تھے ۔ لیکن خوشی اور خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ نصف صدی کے مشکل حالات کے باوجود ہماری صوبائی حکومتوں نے تعلیمی اداروں کے قیام اور ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔ سکولوں اور کالجوں کو اپ گریڈ کیاگیا۔ نئی جامعات کا جال بچھایاگیا ۔ لیکن نئے تعلیمی اداروں کے قیام اور پہلے سے موجود اداروں کی ترقی' دیکھ بھال اور ضروریات کی فراہمی کے سلسلے میں عدل و انصاف کو مد نظر نہیں رکھا گیا بلکہ جس علاقے اور ضلع کا وزیر اعلیٰ یا کوئی تگڑا وزیر بر سر اقتدار آیا اس نے سب سے پہلے اپنے ہی علاقے پر ''نظر کرم'' کو یوں مرکوز اور جمائے رکھا کہ دیگر علاقے افسوس' رشک اور بعض اوقات حسد کرتے رہ گئے۔ بد قسمتی سے جنوبی اضلاع بحیثیت مجموعی ہماری صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوسکیں۔ وجوہات نا معلوم۔ لیکن اتنی بات سب کو معلوم ہے کہ ان اضلاع سے ایسی شخصیات سامنے آئی ہیں جو صوبائی حکومتوں سے اپنے علاقوں کے لئے کوئی قابل ذکر پراجیکٹ جو وہاں کے عوام کی زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ممد و معاون ہو نہ بناسکیں۔ جنوبی اضلاع میں سب سے پسماندہ ضلع کرک رہا ہے۔ اس ضلع میں زندگی گزارنا کتنا مشکل ہے یہ تب پتہ چلے گا جب وہاں کے دیہات میں پشاور' مردان' چارسدہ اور صوابی کا باشندہ چند ایام گزارنے کے تجربہ سے گزرے گا۔ لیکن ان ساری مشکلات کے باوجود اس علاقے کے باشندوں کے صبر و عزیمت کے طفیل اللہ تعالیٰ نے تیل و گیس کی پیداوار کی صورت میں جو مہربانیاں کیں اس کا تقاضا ہے کہ حکومت وقت اس ضلع کی بھی خیر خبر لیا کرے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور بالخصوص علمی کاوشوں کے لئے مصروف متحرک شخصیت مشتاق غنی سے استدعا ہے کہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کرک کا ایک معائنہ کرکے تعلیم و تعلم کے لئے شہرت اور شوق و ذوق رکھنے والے خٹک نامے کے طلبہ و طالبات کی جائز اور اشد ضروریات کی تکمیل و فراہمی کے لئے فوری اقدامات کے احکامات صادر فرمائیں۔ضلع کرک کا یہ کالج 1972ء میں انٹر میڈیٹ کالج کی حیثیت سے پہلا اور واحد کالج تھا جو اس وقت پوسٹ گریجویٹ کالج ہونے کی بنا پر ایک اہم کردار ادا کر رہاہے اور یہ شاید اس کالج کا تخصص ہے کہ اس میں نو (9) بی ایس پروگرام چل ر ہے ہیں جس میں فزکس' کیمسٹری' بیالوجی اور کمپیوٹر سائنس شامل ہیں۔ لیکن اس کی ایک خاص کامیابی یہ بھی ہے کہ یہاں پہلی دفعہ بی ایس اسلامیات پچاس طلبہ و طالبات کے ساتھ شروع کیاگیا ہے۔ اتنے ہمہ گیر تعلیمی پروگرامز کے لئے یہاں کلاس رومز' معیاری لیبارٹریز اور طالبات کے لئے کامن روم تک نہیں ہے۔ طلباء و طالبات کی کثیر تعداد کے لئے ایمرجنسی کی صورت میں کوئی گاڑی کالج میں دستیاب نہیں۔ لہٰذا صوبائی حکومت سے پر زور اپیل ہے کہ میرے اس مادر علمی کے لئے فوری طور پر مطلوبہ ضروریات کی فراہمی ممکن بنائی جائے اور مادی سہولیات کے لحاظ سے اس پسماندہ علاقے کو علمی پسماندگی سے بچایا جائے ۔ اگرچہ اس میں غیروں سے زیادہ اپنوں کی بے اتفاقی کا ہاتھ ہے۔

متعلقہ خبریں