دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

زندگی میں مصروفیت نہ ہو یہ ممکن نہیں اور مصروفیت کاعالم تویہ رہتا ہے کہ 

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصو ر ِ جاناں کیے ہوئے
مگر کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اپنی مصروفیت سے کچھ وقت نکال ہی لیاجاتا ہے ۔مصروفیت کی روکھی پھیکی کیفیت سے نکل کر سکون کے کچھ لمحے میسر آجانا یقنا ً روحانی بالیدگی کا سبب بنتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں دو بہت ہی عزیز دوستوں نے پی ایچ ڈی مکمل کی ۔ جیسا کہ یونیورسٹیوں کا دستور ہے کہ پی ایچ ڈی سکالر اپنی تحقیق مکمل کرکے اسے عوام کے سامنے پیش کرتا ہے ۔اسے پبلک ڈیفنس کہا جاتا ہے۔یوں تو محقق کا سارا کام اس کے تھیسس کے صفحات میں دستاویز کی صورت میں سامنے آجاتا ہے لیکن اس پبلک ڈیفنس میں سکالر اپنی تحقیق کا تعارف پیش کرتا ہے،اس تحقیق کی اہمیت بیان کرتا ہے ، اس تحقیق کے راستے میں آنے والی مشکلات کا ذکر کرتا ہے ا ور اسے عوام کے سامنے رکھتا ہے اس کے بعد حاضرین ان پر سوال کرتے ہیں ۔ تعلیمی سسٹم میں ایم اے ایم ایس اور بی ایس سطح تک جو تعلیم دی جاتی ہے وہ دراصل معلوم علم کی تدریس ہے جبکہ ایم ایس ، ایم فل ، پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ وغیرہ بنیادی طور پر نئے علم کی تلاش ہے ۔اسی لیے ان تحقیقی حوالوں کو قدر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ پہلا تھیسس ''اردو نظم میں استعماریت کے اثرات '' کے بسیط موضوع پرتھا کہ جس کے محقق پروفیسر سہیل احمد ہیں۔سہیل احمد شعبہ اردو پشاور یونیورسٹی کے محنتی استادوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اس پی ایچ ڈی کاانہیں ایک نقصان یہ ہوا کہ انہوں نے ایک بہت اچھے شاعر کو شعر کہنے سے روکے رکھا ۔ ان کا پبلک ڈیفنس پشاور یونیورسٹی کے ویڈیو کانفرنس ہال میں منعقد ہوا تھا ۔میں جب ہال پہنچا تو کوئی نشست خالی نہ تھی اور سہیل کے شاگرد کھڑے ہوکر سہیل کی پریزنٹیشن سن رہے تھے ۔مجھے انہی کے ایک شاگرد نے پہلی قطارمیںپروفیسر فقیرا خان اور ڈاکٹر اظہار کے ساتھ سہیل احمدکی خالی کی ہوئی سیٹ پر بٹھادیا۔سہیل کا کام ادبی تحقیق کے عام رویوںسے واقعی مختلف کام تھا کیونکہ اس میں ادب سے زیادہ تاریخ کا مطالعہ بنیاد تھا۔دوسری پی ایچ ڈی خیبر پختونخوا کے ابھرتے ہوئے مستند شاعر اسحاق وردگ کی تھی ۔''خاطر غزنوی ،احوال و آثار''کے موضوع پر لکھے گئے تحقیقی مقالے میں اسحاق نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ خاطر غزنوی صاحب سے چونکہ میرا بھی ایک تعلق خاص رہا ہے اور میں بھی انہیں ایک ہمہ جہت فنکار سمجھتا ہوں ۔ اس وقت اسحاق بلاشبہ اپنی اچھی شاعری سے اپنی پہچان بنا رہا ہے ۔شعبہ اردو پشاور یونیورسٹی اور شعبہ اردو اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں اس وقت کوئی بزرگ استاد نہیں ہے ۔ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار اسلامیہ کالج اور ڈاکٹر سلمان علی پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدور ہیں ۔میں نے لنچ کے دوران اپنی استاد ڈاکٹر روبینہ شاہین اور برخوردارڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری سے ازراہ مذاق کہہ دیا کہ بھلے سے کرائے پر ہی سہی لیکن نظر بد سے بچنے کے لیے کسی سفید ریش پروفیسر کی خدمات حاصل کرلیں ۔ ان علمی تقاریب میں ڈاکٹر عباس سے تو ملاقات ہوگئی تھی لیکن پروفیسر عطاء اللہ شاہ بخاری کی صحبت سے مستفید نہ ہوسکا ۔ انہی تقریبات میں ایک اور علمی تقریب کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا اور یہ ذکر حلقہ ارباب ذوق پشاور کے انتخابات کا ہے ۔ حلقہ ارباب ذوق پشاور کے جنرل سیکرٹری منور خان ایڈووکیٹ نے اپنا عبوری دور گزارلینے کے بعد الیکشن کا اعلان کیا اور اس الیکشن سے حلقہ میں پھر سے ایک جمہوری عمل شروع کردیا گیا۔ میری خوش بختی یہ رہی کہ اس تاریخی ایونٹ میں مجھے الیکشن کمشنر کے فرائض سرانجام دینے کا حکم ملا لیکن خیریت یہ ہوئی کہ بائیس سے زیادہ لوگوںنے پروفیسر محمداعجاز کو متفقہ طور پر بلا مقابلہ حلقہ کا نیا سیکریڑی منتخب کرلیا۔اعجاز نئی نسل کا ایک بہت اچھا نظم نگار شاعر ہے ۔ ادب یوں بھی ہرکسی کا کام نہیں ۔خاص لوگ ہوتے ہیں جو کارِ ادب میں مشغول ہوتے ہیں ۔ ادب کی ہمارے سماج میں کسی نے اہمیت کو سمجھا ہی نہیں ۔تبھی تو ہمارا ذوق سلیم تربیت نہ پاسکا، نتیجتاًہماری گلیوں ، بازاروں اور سڑکوں پر گندگی کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں ۔ ادب سے دوری کا نتیجہ ہے کہ ہم میں رواداری ہی ختم ہوچکی ہے ۔ عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ ہم کسی کی کوئی بات سننے کو روادار ہی نہیں اور بس چاہتے ہیں کہ ہر کوئی ہمارے موقف کو تسلیم کرلے ۔ ادب کا خمار قاری کو مطالعے کے نزدیک لاتا ہے اور یہی مطالعہ ادب سے نکل کردوسرے علوم وفنون تک گامزن ہوتا ہے ۔ کتاب کا مطالعہ تو قوم کی تہذیب کا علم مکمل کرتا ہے ۔کتاب تو اب نصاب سے بھی نکل چکی ہے اور ہمارے نوٹس رٹ کر امتحان پاس کرلیتے ہیں ۔ایسی مایوس کن صورتحال میں ادب تخلیق کرنے والے اور ادب پر تحقیق و تنقید کرنے والے کسی ہواجھونکے سے کیا کم ہیں ۔ایک ایسے جھونکے جیسے جو حبس کی ساعتوں میں چند لمحے خوشگوار کردیتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں