بھارت کا دائمی خوف

بھارت کا دائمی خوف

بھارت دنیا کی اُبھرتی اور مستحکم ہوتی ہوئی معیشت ہے ۔بھارت کی قیادت خود کو چین کے ہم پلہ بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے ۔وہ جنوبی ایشیاء کے دوسرے ملکوں کو چھوٹا اور حقیر سمجھ کر ان سے بالادستی کے انداز میں معاملات طے کرنا چاہتی ہے۔بھارت اسرائیل کے بعدامریکہ کا دوسرا لاڈلا ہے۔جس طرح اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں نمایاں ،مضبوط اور مستحکم ملک بنانے کے لئے اس کے ہمسایوں کے بخئے ادھیڑنا ضروری تھا اسی طرح بھارت کو ایشیاء کا سپرمین بنانے کے لئے اس کے ہمسایوں کو چھوٹا اور غیر مستحکم رکھنا ناگزیر قر ار پایا ۔

جس پر جلیل عالی کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ
اپنے دیے کو چاند بنانے کے واسطے
بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا مجھے
اپنی عالمی اور علاقائی سیاسی اور معاشی ضرورتوں کی خاطر امریکہ بھی بھارت کو چین کا مدمقابل بنانے کے لئے دل وجان سے کام کررہا ہے ۔اس کے لئے پاکستان کو بری طرح غیر مستحکم اور بدنام بھی کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان بھارت کی راہوں میں مزاحم ہونے کا متحمل نہ ہو سکے۔بھارت اپنا دفاعی بجٹ ہر سال بڑھا کر اسلحے کی دوڑ میں بہت آگے جا رہا ہے ۔چین اور پاکستان کے سوا اس وقت کوئی قابل ذکر ملک ایسا نہیں جو بھارت کے علاقائی اوربین الاقوامی ایجنڈے کی راہ میں روڑے اٹکا سکے ۔امریکہ اس پر مرمٹا ہے ،روس سے اس کے دیرینہ مراسم ہیں ،یورپ کو اس نے دہشت گردی کے نام پر اپنے پلو سے باندھ رکھا ہے ،جاپان اور آسٹریلیا میں اسی کا بیانیہ فروخت ہو رہاہے۔بھارت کی زمین پراربوں ڈالرکی برسات جاری ہے۔ امریکہ کے زیر اثر عالمی اقتصادی ادارے ہوں یا اقوام متحدہ کی صورت عالمی فورم یا معاشی اعتبار سے طاقتور ممالک سب بھارت کے آگے دل ہار بیٹھے ہیں ۔سیکولر مسلمان ممالک کی تو بات ہی کیا یہاں تجارت و سرمائے کی بے رحم دنیا میں سعودی عرب اور ایران جیسے سکہ بند مسلمان ملک بھی بھارت کی زلف گرہ گیر کے اسیر بن بیٹھے ہیں۔افغانستان جیسے ممالک کا حال تو غریب کی جورو جیسا ہے جو ہر طاقتور کی بھابی ہے اور اس وقت عالمی مہربانوں کی نوازشات سے طاقتور کا ٹائٹل بھارت کے حصے میں آیا ۔اس سب کے باوجود بھارت اندر کے خوف کا شکار ہے ۔بھارت کا ایجنڈا اور عزائم جس قدر وسعت اختیار کر رہے ہیں کچھ اسی انداز سے اس کا خوف بھی بڑھتا جا رہا ہے ۔ماضی میں بھارت نے اس خوف کو دور کرنے کے لئے کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پر باڑھ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ۔پاکستان نے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی قرار دے کر فوجی انداز سے مزاحمت کی کوششیں جا ری رکھیں ۔اس دوران امریکہ بیچ میں کود پڑا اور دونوں ملکوں کے درمیان ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے ایک مصنوعی پیس پروسیس شروع کیا گیا ۔جس کی آڑ میں بھارت نے باڑھ مکمل کرلی ۔اب ایک اور خبر نے بھارت کے اس اندرونی خوف کو مزید عیاں کیا ہے جس کے مطابق بھارت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کی سرحد پر بھی باڑھ بندی کا فیصلہ کر لیا ہے۔بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس کے ڈائر یکٹر جنرل جنرل کے کے شرما کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق کئی تہوں پر مشتمل سمارٹ باڑھ لگائی جائے گی جس کے لئے بیس عالمی کمپنیاں تکنیکی جائزہ لے رہی ہیں ۔ان دو مشکل سرحدوں پر معمول کے گشت کے نظام کی جگہ فوری حرکت میں آنے والی ٹیم کوتعینات کیا جائے گا راڈار کے ذریعے کسی بھی دراندازی کے بارے میں معلوم ہونے پر فوراََ حملہ کرے گی ۔ یہ باڑھ آئندہ سال کے آخری حصے میں نصب کی جائے گی ۔یہ نظام فنکشنل ہونے کے بعد لیزر باڑھ کی نگرانی کرنے والے راڈار سیٹلائٹ سے تصاویر اور تھرمل گیجٹس کی مدد حاصل ہوگی ۔پاکستان کے ساتھ بھارت کے تنازعات کا معاملہ قابل فہم ہے مگر بنگلہ دیش بنانے میں تو بھارت کا کردار دنیا پر واضح ہے اور خود ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر نریندر مودی اس کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔بنگلہ بندھو شیخ مجیب کی بیٹی اس وقت حکمران ہیں اور وہ بھارت کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں ۔اس لئے بنگلہ دیش سے بھارت کو کیا خطرہ ہے؟ بھارت کا یہ خوف اسرائیل کی طرح ہے ۔اسرائیل اپنے وجود میں ہونے والے اس فائول پلے سے آگاہ ہے کہ کس طرح فلسطینیوں کی سرزمین پر برطانوی ،روسی ، جارجیائی، ہسپانوی ،رومی باشندوں کو آباد کر کے ملک بنا دیا گیا اور اس زمین کے اصل باشندوں کو اپنے گھروں اور کھیتوں سے نکال کر دربدر کر دیا گیا ۔بالکل اسی طرح بھارت نے کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ کشمیریوں کے مطالبہ آزادی اور حق خود ارادیت کو مسلسل ٹھکراتا چلا آرہا ہے ۔وہ پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کرچکا ہے اوربھارت کی قیادت اب بھی فخریہ اس کا اظہار کررہی ہے ۔یہ فطرت کا اصول ہے کہ ظالم جس قدر قوی ہو مگر اسے اپنے اعمال کی بنا پر مکافات عمل کا خوف ضرور ہوتا ہے ۔بھارت کی باڑھ بندیاں اسی خوف کی آئینہ دار ہیں۔کس قدر عجیب منطق اور خوف ہے کہ مغرب سے مشرق تک دور دراز ملکوں کے لئے اپنی سرحدیں کھولنے والا ملک خود اپنے ہمسایوں سے فاصلے پیدا کررہا ہے ۔اپنے ہمسایوں سے منہ چھپانے اور نظربچانے کے لئے جدید فصیلوں کے پیچھے سمٹ رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں