پاناماپیپرز کیس: پوری قوم سے متعلق ہے،سپریم کورٹ،سماعت کل تک ملتوی کردی

پاناماپیپرز کیس: پوری قوم سے متعلق ہے،سپریم کورٹ،سماعت کل تک ملتوی کردی

ڈیسک: پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اس کیس  کا تعلق پوری قوم سے ہے کیونکہ فریق وزیر اعظم ہیں اور ہمیں 20 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کو بھی دیکھنا ہوگا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی جانب سے  پاناما کیس سے متعلق درخواستوں پر سماعت۔

سماعت کے دوران جسٹس آصف کھوسہ نے سوال کیا کہ کیا زمین والد نے بیٹی کے نام پر خریدی تھی جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ والد نے بیٹی کے نام پر  زمین خریدی، مریم نواز نے بعدازاں زمین کی قیمت ادا کی تو زمین کا انتقال ہوا۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر والد زیر کفالت بچوں کو جائیداد خرید کر دیتے ہیں، تاہم زیر کفالت ہونے کی تعریف انکم ٹیکس قوانین میں ہے نہ ہی عوامی نمائندگی ایکٹ میں، جبکہ کیس کو مدنظر رکھ کر ہی زیر کفالت کی تعریف کوسمجھنا ہوگا۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو تحفے میں رقم دی گئی جو انہوں نے والد کو بعد میں واپس کی، تحفے میں دی گئی رقم کی واپسی کے بعد جائیداد مریم نواز کو مل گئی، اس سے لگتا ہے مریم نواز والد کی زیر کفالت ہیں۔

اس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ مریم نواز 2010 میں بھی والد کے زیر کفالت نہیں تھیں،

جسٹس کھوسہ کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ آرٹیکل 225 کے تحت الیکشن میں کامیابی کو چیلنج کرنے کی معیاد مختصر ہے، جبکہ معیاد ختم ہونے کے بعد آرٹیکل 184/3 اور 199 کے تحت آئینی عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

مخدوم علی خان کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ محمود اختر نقوی کیس میں ارکان اسمبلی کو نااہل کیا گیا تھا وزیر اعظم کو نہیں، جبکہ نواز شریف کی نااہلی بطور رکن اسمبلی ہو سکتی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے سامنے معاملہ نواز شریف کی بطور وزیر اعظم اہلیت کا ہے، وزیر اعظم کے وزیر اعظم ہاؤس ہولڈ کرنے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

مخدوم علی خان کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نیویارک ہوٹلز،روز ویلٹ ہوٹل وغیرہ ٹیکس سے بچاؤ کے لیے آف شور ہیں، آف شور کمپنیوں کے زریعے ٹیکس چھپایا نہیں بچایا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ میں پاناما کیس سے متعلق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان کی جانب سے دلائل مکمل کرلیئے گئے، جبکہ کل جماعت اسلامی کے وکیل دلائل دیں گے۔

متعلقہ خبریں