مضحکہ خیز مطالبہ

مضحکہ خیز مطالبہ

قوم پرستی کی چادر اوڑھ کر پورے خاندان کو اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بنانے والے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے افغان مہاجرین کو پاکستان کی شہریت دینے کا مطالبہ ارض وطن سے نسبت پر شک و شبہ کا باعث ہونا فطری امر ہوگا البتہ محمود خان اچکزئی کا ارکان پارلیمنٹ اور وزراء سمیت پاکستانیوں کی بڑی تعداد کی دوہری شہریت پر سوال قابل غور ضرور ہے۔دوہری شہریت کے حامل ایسے تمام شہریوں جو براہ راست عوامی نمائندگی اور کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ان کی دوہری شہریت پر اعتراض موزوں نہ ہوگا۔ دوہری شہریت کا حصول کئی ایک وجوہات کی بناء پر حاصل کیا جاتا ہے جس میں تجارت و کاروبار اور اس ملک میں پیدائش سمیت کئی ایسی وجوہات شامل ہوتی ہیں جن پر اعتراض کی گنجائش نہیں۔ غیر سرکاری شعبوں سے متعلق افراد پر اس لئے بھی اعتراض کی گنجائش نہیں کہ خود پاکستان کے اندر بھی بعض قوانین کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا' مثال کے طور پر کوئی بھی پاکستانی شہری کسی بھی وقت کسی عہدے کے لئے انتخاب کر سکتا ہے مگر سرکاری عہدے رکھنے والوں کو ریٹائرمنٹ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ اسمبلی کی ممبر شپ سینٹ کا رکن بننے یا سرکاری عہدے یا سرکار سے متعلق کسی شعبے میں خدمات کی انجام دہی پر مامور ہو ایسا دوہری شہریت ترک کرنے کے بعد ہی ممکن ہونا چاہئے اور اس حوالے سے موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور مزید قانون سازی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس اصول کو نظیر بنا کر افغان مہاجرین کو کسی طور پاکستان کی شہریت نہیں دی جاسکتی۔ افغانستان ایک الگ ملک ہے تاریخی طور پر ایک نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کاکسی جگہ رہنے پر ان کو شہریت نہیں دی جاسکتی۔ بلا شبہ اس خطے کے افراد کی اکثریت نسلاً افغان ہیں جو صرف یہیں آباد نہیں بلکہ درہ خیبر سے گزرنے والوں کا پڑائو اس وقت تک بھارت کے مرکزی علاقے ہی ہوا کرتے تھے۔ اب تو ا فغان اور پشتون ایک نسل بھی نہیں رہے بلکہ افغان افغانستان کے باشندے کہلائے جاتے ہیں اور پشتون گو کہ پشتو بولنے والوں کو کہا جاتا ہے ۔ مگر پاکستان میں بسنے والے قدیم کے افغانوں کی نسل پشتون یا پٹھان کہلاتی ہے ۔ اب ماضی کی طرح افغان لکھنے کا رواج بھی نہیں رہا۔ پاکستان کے پشتون خود کو افغان نہیں کہلاتے افغانستان کے پشتون خود کو پٹھان نہیں افغان گردانتے ہیں۔تاریخی اور بین الاقوامی طور پر افغانستان اور پاکستان الگ الگ ممالک ہیں۔ دونوں ممالک کی باقاعدہ اور واضح سرحدیں ہیں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں سرحدی انتظام کے حوالے سے خاصے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں مستزاد سرحد کے آر پار جانے والوں کے لئے باقاعدہ سفری دستاویزات کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انگریزوں کے دور سے طے شدہ بین الاقوامی سرحد کو عملی طور پر تسلیم اور تصوراتی طور کے ایسے مخالفین موجود ہیں رفتہ رفتہ ایک نسل گزر جائے تو ان کا بھی خاتمہ متوقع ہے۔ افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینے کا مطالبہ نہ صرف احمقانہ ہے بلکہ اس کا مطالبہ حب الوطنی سے بھی متصادم ہے۔ البتہ سرحد سے اٹک اور میانوالی تک نئے صوبے کے قیام کے مطالبے پر جمہوری اور اصولی طور پر بحث و مباحثہ اور بات چیت کی گنجائش ہے۔ مگر اسے بھی منافرت کا ذریعہ بنانا بھی حب الوطنی کے تقاضوں سے متصادم گردانا جائے گا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا پہلا مطالبہ چترالہ تر بولانہ د پختونخوا کا نعرہ تھا۔ لگتاہے اب اس سے مایوسی کے بعد اور بلوچستان میں محدود سے محدود تر ہونے کے بعد اب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو خیبر پختونخوا کا نام اور اس کی جغرافیائی تقسیم کھٹکنے لگا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی کے میپ نے صوبے کا نام خیبر پختونخوا کیوں تسلیم کیا اور ا فغانیہ کے نام پر زور کیوں نہ دیا ۔ اب غیر ملکی شہریوں کو ملکی شہریت دینے اور صوبے کا نام تبدیل کرنے کے مطالبے پر اس کا مینڈیٹ کیا ہے جبکہ پورے صوبے میں سے اس جماعت کا ایک بھی رکن اسمبلی موجود نہیں اور نہ ہی خیبر پختونخوا میں اس جماعت کا کوئی وجود ہے۔ محمود خان اچکزئی ایک جانب بلوچستان میں پشتونوں پر مظالم کا رونا روتے ہیں تو دوسری جانب گورنر ہائوس بلوچستان پر بھائی کو تعینات کردیا ہے۔ اسلام آباد کے ایوانوں کی نمائندگی خود ان کے اپنے پاس ہے اور صوبائی اسمبلی بیوروکریسی اور اہم عہدوں پر ان کے عزیز و اقارب کی اجارہ داری ہے۔ اس کے باوجود اس امر پر بضد ہونا کہ ان کو یہ منظور نہیں کہ آپ کا بھائی ڈاکٹر اور میرا بھائی چوکیدار ہو۔ یہ تو صرف عوام میں کہنے کی باتیں وگرنہ اچکزئی کے بھائی چوکیدار نہیں گورنر ہیں۔ کسی بڑے عہدے پر ہونا کوئی عیب نہیں لیکن قول و فعل کا تضاد نہیں ہونا چاہئے اور عوام کو نسلی تعصب اور قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ کر بے وقوف نہ بنایا جائے۔ افغان امہاجرین مہاجر ہونے کے باوجود پاکستانی شہریوں کے مساوی طور پر رہ رہے ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ افغان مہاجرین واپس جا کر آبائی وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہی ان کے اور پاکستان دونوں کے حق میں بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں