فرسودہ نظام کے ساتھ یہ ممکن ہوگا؟

فرسودہ نظام کے ساتھ یہ ممکن ہوگا؟

پاک چین اقتصادی راہداری کے اگلے منصوبے میں ریل کے سفر کو تیز اور محفوظ بنانے کے لئے کراچی سے پشاور تک انڈر پاس یا اور ہیڈ برج بناکر ریلوے لائن کو گیٹ فری بنانے کے فیصلے پر ریلوے کی موجودہ حالت زار دیکھ کر تو یقین نہیں آتا لیکن یہ فیصلہ خوش آئند ضرور ہے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے ٹریک کے گرد جنگلے لگاکر ریلوے لائنز پر غیرقانونی کراسنگ کو بھی روکا جائیگا تاکہ سفر کو تیز اور محفوظ بنایاجاسکے۔نئے نظام میں اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ حادثات کے امکانات کم سے کم رہ جائیں جس کے بعد ملک کا ریلوے نظام مسابقتی نوعیت کا بن جائے گا۔ اس وقت تک صورتحال یہ ہے کہ ریلوے بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے باعث تباہی کے دہانے آکھڑا ہے۔ ریلوے اراضی پر ملک بھر میں قبضہ ہو چکاہے اور ریلوے مسلسل خسارے کا شکار ہے۔ ریلوے کو اصلاحات کے ذریعے کرپشن سے پاک بھی کردیا جائے تب بھی ریلوے کو منافع بخش بنانے کے لئے مسافروں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہی کافی نہ ہوگا بلکہ گڈز ٹرینوں کی تعداد بڑھا کر سامان کی نقل و حمل کے ذرائع میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ کارگو ٹرینوں کی آمد و رفت تسلسل کے ساتھ ہوگی تب جا کر ریلوے کی آمدن میں اضافہ متوقع ہے۔ ایسا شاید پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ اس کے باوجود ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کہیں بھی پاکستان ریلوے طرز کا نظام نہیں اور ہر پرزے کا خاص طور پر کمپنی سے آرڈر پر بنانے کا عمل بھی اس کے خسارے کی بڑی وجہ ہے۔ اس مسئلے کا حل ریلوے کے پورے نظام ٹریک سے لے کر گاڑیوں تک کو ختم کرکے نئے سرے سے ریلوے کا نظام تشکیل دینے کے بعد ہی ممکن دکھائی دیتاہے۔ اس طرح کے سنجیدہ سوالات کے ہوتے ہوئے ریلوے ٹریک کے ارد گرد موٹر وے طرز کے جنگلے لگانے اور سگنل فری کرنے سے بہتری کے امکانات نظر نہیں آتے۔ سگنل فری اور جنگلے لگانے سے سفر محفوظ' تیز رفتار اورو حادثات کے امکانات معدوم ضرور ہوں گے لیکن اس پورے نظام کے اندر رہتے ہوئے یہ اقدامات کس حد تک سود مند ہوں گے اور اقتصادی راہداری منصوبے کی ضروریات پر پورا اترنے سمیت مسافروں کے لئے کس حد تک سہولت کا باعث ہوں گے ان امور پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ ریلوے کے فرسودہ نظام کی تبدیلی کے لئے کارگر مساعی کے ساتھ محولہ منصوبوں پر توجہ دی جائے تاکہ ناکامی کے خدشات کو کم کرکے کامیابی کی شرح میں اضافہ یقینی ہو۔
سیاسی مدوجزر
اگرچہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے اعلان اور پی ٹی آئی کا حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی سے اتحاد علاوہ پی ٹی آئی کا پیپلز پارٹی کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کے فیصلے سے سیاسی ارتعاش کا تاثر ملتا ہے لیکن صلح جو آصف زرداری کی آمد کے بعد سیاست میں صورتحال میں گرما گرمی کا امکان کم ہی نظر آتاہے۔ ہمارے تئیں ایک خاص حد سے صورتحال آگے نہیں جائے گی۔ اگرچہ سیاسی جماعتوںکے درمیان ہم آہنگی و اتحاد غیر معمولی عمل نہیں بلکہ اس طرح کے اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں مگر اس میں وقت لگتا ہے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا سنگم زیادہ دیر جاری نہ رہنا اچھنبے کی بات نہ ہوگی۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت جبکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف قریب آرہی ہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حز ب اختلاف نے اپنے خطاب میں اپنی قیادت کے تحت پی ٹی آئی کے حوالے سے کچھ ایسے جذبات کا اظہار نہ کیا جس سے اس کی ہمت افزائی ہوئی بلکہ اس کے قائد کو طنزاً عقل کل گردانا گیا۔ اسی طرح ایک جانب شاہ محمود قریشی پی پی پی کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے پر آمادگی کا اظہار کر رہے ہیں تو پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما پی پی پی کے کرپشن و بدعنوانی کے قصے دہرا رہے تھے بیک وقت دو کشتیوں کی سواری سے اگر کسی سیاسی مفاہمت یا اتحاد یا سمجھوتے کا آغاز کیاجائے اور پھر اس میں کمی آنے کی بجائے اس کے بڑھنے کے امکانات تقریباً یقینی نظر آرہے ہوں تو ایسی مفاہمت کے جاری رہنے کا امکان خود بخود معدوم نظر آنا خلاف حقیقت نہیں قطع نظر ان جماعتوں کے ساتھ چلنے کے ہمارے تئیں پیپلز پارٹی کے لئے موجودہ حکومت کو نیچا دکھانے کی بجائے 2018ء کے انتخابات کی تیاری زیادہ اہم ہوگی۔ پارٹی چیئر مین کی پوری توجہ پارٹی کی کامیابی اور امیدواروں کے چنائو اور تیاری پر مرکوز رہے گی اور جواں سال چیئر مین کی حکومت پر تنقید اور چند سینئر رہنمائوں کا در جواب آل غزل ہی کافی سمجھا جائے گا۔ پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) خواہ کتنے بھی گرجیں برسیں مگر بات بند توڑنے تک نہیں جائے گی۔ ساری صورتحال پی ٹی آئی کی قیادت کے لئے کس حدتک قابل برداشت ہوگی اس کا امکان اس کی قیادت کی قوت برداشت تک ہی رہے گا۔ آمدہ دنوں میں سیاسی مد و جزر ضرور رہے گی مگر اس مدوجزر میں کئی سنجیدہ قومی معاملات اور حل طلب معاملات کے بھی پس منظر چلے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں