آصف زرداری کی واپسی

آصف زرداری کی واپسی

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے والد اور پارٹی کے شریک چیئرمین کی وطن واپسی کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب حکمت عملی آصف علی زرداری کی ہو گی۔ آصف زرداری ''مفاہمت کی سیاست'' کے داعی ہیں اور سیاسی اتحاد بنانے میں آج کے دور میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی ہے کہ تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اشتراک عمل کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس فیصلے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وزیر اعظم نواز شریف کے پاس احتساب کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاناما انکشافات کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف پر الزامات کا معاملہ اب سینیٹ میں بھی بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا جہاں پیپلزپارٹی کی اکثریت ہے۔ آصف زرداری کی واپسی کے لیے آئندہ جمعہ کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ خبریں تو ان کے آنے کی ایک عرصے سے آ رہی تھیں یعنی ان کی آمد سے پہلے پیپلز پارٹی ان کی آمد کے لیے عوام کی رائے ہموار کر رہی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری (چار مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں) 27دسمبر کی تاریخ کا اعلان کر رہے تھے۔ ایک خیال یہ تھا کہ آصف علی زرداری ہی 27دسمبر کو پیپلز پارٹی کے ''دمادم مست قلندر'' کی منظوری دیں گے۔ لیکن ان کے 23دسمبر کو وطن واپسی کے اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ ''دمادم مست قلندر'' 27دسمبر کو شروع ہو جائے اس کے بعد بھی ہو سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی قوت کی نمائش کے لیے توانائیاں 23دسمبر کو آصف علی زرداری کے استقبال پر صرف کی جائیں گی ۔کہا جارہا ہے کہ آصف زرداری حکمران مسلم لیگ کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کا گرینڈ الائنس بنائیں گے۔ اس کے لیے یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ جمعیت علمائے اسلام ف اور جماعت اسلامی سے رابطے کریں گے۔ لیکن جمعیت اور پیپلز پارٹی اگرچہ ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ پرسکون اور مطمئن رہی ہیں تاہم جمعیت اب مسلم لیگ کی اہم اتحادی ہے۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ پرسکون سے کچھ زیادہ پرسکون حالت میں ہیں۔جمعیت کے مولانا فضل الرحمان اپنا ووٹ بینک بڑھانے اور نمائندگی میں اضافہ کرنے کے لیے بطور خاص فاٹا پر متوجہ ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام ف کو پنجاب اور سندھ میں نمائندگی کی کچھ فکر دکھائی نہیں دیتی اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جمعیت کی حمایت مسلم لیگ ن کو آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہے۔ اس لیے بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ جمعیت مسلم لیگ ن کی چھتری سے اڑ کر پیپلز پارٹی کی چھتری کی طرف رخ کرے گی۔ جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد سے ملک کے نوجوان حلقوں میں تعارف کا کافی فائدہ اٹھالیا ہے اور اب جماعت سولو فلائٹ کی طرف متوجہ دکھائی دیتی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی سے اتحاد کی صورت میں اسے انتخابات میں سیاسی امداد ملنے کی توقع بہت کم ہو گی۔ دونوں جماعتوں کے نچلی سطح کے ورکروں کا ایک دوسرے کے ساتھ اعلانیہ چلنا بھی کچھ اتنا یقینی نہیں ہے۔ اپوزیشن کا کوئی بھی گرینڈ الائنس تحریک انصاف کی شمولیت کے بغیر کم از کم گرینڈ نہیں ہو گا۔ تحریک انصاف نے نوجوانوں کو سیاست میں متحرک کیا ہے۔ پیپلز پارٹی ٹی او آر میں سبقت حاصل کرنے اور نوجوان بلاول بھٹو زرداری کو میدان میں اتارنے کے باوجود سیاسی طور پر فعال نوجوانوںکو متوجہ نہیں کر سکی ہے۔ عمران خان اور ان کے سیاسی مدبرین لگتا ہے اس حقیقت پر نازاں نہیں تو اس سے آگاہ ضرور ہیں۔ اسی لیے تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی کے ساتھ اشتر اک عمل کا فیصلہ فی الحال وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما انکشافات کے تحت الزامات تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ تحریک انصاف کی وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف یہ مہم کب تک جاری رہتی ہے۔ اس کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔ تاہم قرائن سے لگتا ہے کہ یہ مہم 2018ء کے متوقع انتخابات کے لیے ہے۔ اس مہم جوئی پر تمام تر توانائیاں صرف کرتے ہوئے تحریک انصاف 2018ء کے متوقع انتخابات کے لیے سارے ملک خاص طور پر جنوبی پنجاب ،سندھ اور بلوچستان میں مقبول عام حمایت حاصل کرنے کے لیے اوراس سے بھی زیادہ اہم انتخابی امیدوار تلاش کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہی۔ اور اسی صورت حال میں آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی کے بروئے کار آنے کی توقع کی جانی چاہیے۔ 

تحریک انصاف کی نوجوانوں کی حمایت شہری علاقوں میں نمایاں ہے۔ دیہی علاقوں ، جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں اگرچہ نوجوانوں میں عمران خان کو مقبولیت حاصل ہے۔ تاہم تحریک انصاف کی مقامی قیادت نمایاں نظر نہیں آتی۔ کسی گرینڈ الائنس کی صورت میں یہ حمایت ان انتخابی امیدواروں کے حق میں جائے گی جو پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نامزد کرے گی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کا کارڈ چلتا ہے۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے ساتھ ہی چل سکتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے پاس کام کرنے کے لیے کافی وقت ہے چونکہ مردم شماری کے بغیر عام انتخابات کے اعلان کی توقع نہیں کیا جا سکتی۔ مردم شماری مارچ میں شروع ہوگی۔ کہتے ہیں کہ یہ مرحلہ وار چھ ماہ تک جاری رہے گی۔ پھر الیکشن کمیشن کا اعلان ہے کہ نئی حلقہ بندیوں میں اسے چھ ماہ تک لگ جائیں گے۔ اس کے باوجود اگر کسی وجہ سے قبل از وقت انتخابات کا اعلان ہو جاتا ہے تواس سے فائدہ حکمران مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ہی کو پہنچے گا۔ مسلم لیگ ن کے پاس انتخابی امیدوار ہیں اور آصف علی زرداری کی حکمت عملی خاص طور پر جنوبی پنجاب میں موثر انتخابی امیدوار کھڑے کرسکتی ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ بلاول بھٹو کی جوشیلی تقریروں کے پس منظر میں آصف زرداری تنظیمی کام کرتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں