کمال فن ایوارڈ' کثرت رائے سے فیصلہ

کمال فن ایوارڈ' کثرت رائے سے فیصلہ

کم و بیش 86سال کی عمر تک پہنچنے اور 70سال سے جو ہم جیسے عمر رسیدہ لوگوں کی عمر ہے' علم و ادب کے ہر شعبے میں بے مثال خدمات کے باوجود اگر کوئی قلمکار اکادمی ادبیات پاکستان سے کمال فن ایوارڈ حاصل کرنے میں ناکام رہ جائے یا پھر اس ایوارڈ کے لئے مقرر کردہ مصنفین کی جانب سے مسترد کردیا جائے تو سمجھ جائیے کہ وہ پاکستان کی کسی علاقائی زبان کا ادیب ہوگا۔ جی ہاں! علاقائی زبانیں از قسم پشتو ' سندھی' بلوچی' پنجابی جسے ازراہ مہربانی تلطف اور اشک شوئی سرکاری کھاتوں میں پاکستانی زبانوں کا نام دیاگیا ہے۔ ہمارے پشتو کے جو موجودہ وقت میں لیجنڈری قلمکار کمال فن کے ہدف تک رسائی حاصل نہ کرسکے وہ ہمیش خلیل (پ 1930) ہیں۔ ہمیش خلیل کی ادبی کاوشوں پر بات کہنے سے پہلے قارئین کو بتاتے چلیں کہ اکادمی ادبیات پاکستان پاکستانی ادب کے کسی بھی اہل قلم کو اس کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کمال فن ایوارڈ کے نام سے ہر سال ایک اعزاز سے نوازتی ہے۔ شنید ہے کہ اس اعزاز کا اجراء پہلی بار 1997ء میں ہوا تھا۔ ایوارڈ کے لئے وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق اس کا فیصلہ پاکستان کے ممتاز ادیبوں' شاعروں اور دانشوروں کا ایک پینل کرتا ہے۔ اس پینل میں ہر صوبے کی نمائندگی کا تناسب کیاہے اوران کی تعداد کتنی ہوتی ہے ہمیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں البتہ بتایا جاتا ہے کہ اس پینل کے اراکین کا انتخاب اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئر مین کرتے ہیں۔ کمال فن کا پہلا ایوارڈ احمد ندیم قاسمی کو دیاگیا تھا بعد کے برسوں میں انتظار حسین' احمد فراز' منیر نیازی' ادا جعفری' الٰہی بخش بلوچ' بانو قدسیہ' مشتاق احمد یوسفی اور اجمل خٹک جیسے جید ' ممتاز اور نامور قلمکاروں کو یہ ایوارڈ ملا۔ متذکرہ تمام قلمکاروں کی بے پناہ ادبی خدمات پاکستانی ا دب کی تاریخ میں روشن باب کا درجہ رکھتی ہیں۔ کمال فن کے لئے کسی بھی قلمکار کا انتخاب بجائے خود ایک بہت بڑا اعزاز ہے لیکن اس کے ساتھ پانچ لاکھ روپے کی رقم بھی دی جاتی ہے جو اب 10لاکھ کردی گئی ہے۔ ایوارڈ کے اعلان کے ساتھ اس نقدی کا خطیر رقم کے طور پر بھی ضرور ذکر ہوتا ہے جسے آج کے دور میں کسی طور بھی خطیر رقم کانام نہیں دیا جاسکتا۔ آج کل کسی کی دولت کا اندازہ اس کے ارب پتی ہونے سے لگایا جاتا ہے۔ لکھ پتی اور کروڑ پتی ہونا گئے زمانے کی باتیں ہیں۔ چنانچہ پانچ یا دس لاکھ کو خطیر رقم کا نام دینا مناسب نہیں' اسے بقدر اشک بلبل ہی کہہ سکتے ہیں ۔ چونکہ یہ اعزاز بالعموم ادبی میدان میں ایک طویل جدوجہد' بالعموم کسی قلمکار کو اس کی پیرانہ سالی میں ہی نصیب ہوتا ہے اس لئے یہ ان کے لئے وقتی طور پر مالی آسودگی کا ایک سبب ضرور بن جاتا ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق اب تک مشتاق احمد یوسفی اور ا جمل خٹک نے کمال فن ایوارڈ کے ساتھ رقم لینے سے یہ کہتے ہوئے بصد شکریہ انکار کردیا تھا کہ یہ رقم مالی لحاظ سے کمزور اہل قلم کے کسی بہبود فنڈ میں داخل کردیا جائے۔ مشتاق احمد یوسفی کی مالی کیفیت کا تو ہمیں علم نہیں لیکن اجمل خٹک کے بارے میں پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے کمال فن کی رقم صرف پشتون غیرت کی وجہ سے قبول نہیں کی۔ کیونکہ انہوں نے زندگی میں اپنی ادبی کاوشوں پر بھی کوئی مالی فوائد حاصل نہیں کئے تھے۔ پوری شان کے ساتھ تہی دستی کے باوجود ایک قلندرانہ زندگی بسرکرنے کے بعد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ حالانکہ قمر راہی جیسے دوستوں نے انہیں اس وقت سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ کسی مخصوص ادارے کی جانب سے نہیں ریاستی اور قومی اعزاز ہے لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ ہم مانتے ہیں کہ کسی بھی علاقائی زبان کے ادیب کے مقابلے میں اردو کے قلمکار کی ادبی کاوشوں کے کینوس کا پھیلائو زیادہ ہوتا ہے اور پھر اردو جسے قومی زبان کا نام دیاگیا ہے اس کے ادیب زیادہ قاریوں تک رسائی حاصل کرنے کی وجہ سے مقبول ہو جاتے ہیں۔ اس لئے قومی اعزازات کے فیصلے کے وقت اردو کے لکھاریوں کو ترجیح حاصل ہو جاتی ہے۔ اس بار اردو کی جس ادیبہ کو کمال فن ایوارڈ سے نوازاگیا ہے بالیقین ایک مقبول لکھاری ہیں لیکن ہمیش خلیل کی طویل ادبی جدوجہد سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مقبولیت کی جگہ اگر کمال فن ایوارڈ کے لئے محنت کو معیار بنایا جاتا تو بالیقین ہمیش خلیل اس ایوارڈ سے محروم نہیں ہوتے۔ کیونکہ انہوں نے کم و بیش ادب کے ہر شعبے میں اپنی محنت سے نام پیدا کیا ہے۔ تحقیق و تنقید' افسانہ' شاعری اور صحافت کے شعبوں میں ان کی مطبوعات کی ایک طویل فہرست سامنے آتی ہے جس کا ذکر حنیف خلیل نے 1997ء میں اپنی ایک کتاب ہمیش خلیل ژوند اور فن میں ہمیش خلیل کی ادبی کاوشوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ 70 سال کی ادبی جدوجہد کے دوران ان کے تین شعری مجموعے' افسانوں کا مجموعہ' 12کلاسیکی شعراء کے دوائین کی ترتیب و تدوین' ادبی مجلوں کی ادارت جس میں باگرام کے نام سے ایک روزنامہ بھی شامل ہے اور خوشحالیات کے موضوع پر ان کی ایک درجن سے زیادہ تحقیقی کتابیں پشتو زبان و ادب کا وہ لا زوال سرمایہ ہے جو ان کے نام کو ہمیشہ زندہ و پائندہ رکھے گا۔ گزارش صرف یہ ہے کہ علاقائی زبانوں کے قلمکاروں کو اگر کمال فن جیسے قومی ایوارڈز دیتے وقت انہیں اردو کے اہل قلم سے علیحدہ رکھا جائے اور صوبے کے لئے ایک علیحدہ کمال فن ایوارڈ کا اعلان کیا جائے تو ہمیش خلیل جیسے قلمکار کی 70سالہ ادبی محنت کو نظر انداز کرنا آئندہ کے لئے ممکن نہ ہوگا ورنہ کثرت رائے سے اس قسم کے نتائج سامنے آئیں گے۔ کیا میں نے جھوٹ بولا۔

متعلقہ خبریں