وفاقی وزیر داخلہ بمقابلہ جوڈیشل کمیشن

وفاقی وزیر داخلہ بمقابلہ جوڈیشل کمیشن

خبط عظمت میں مبتلا لوگوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے ہر مشورہ حقارت کے ساتھ مسترد کردیتے ہیں۔ تنقید کو توہین ذات و صفات سمجھتے ہیں۔ کسی حد تک نہیں بلکہ بہت حد تک اذیت پسند ہوتے ہیں اور اس بنا پر تنہا رہ جاتے ہیں۔ ذات کے خول میں بند رہنے کو نجابت سمجھنے والے یہ لوگ اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے لئے مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ہم اگر بغور دیکھیں تو قدم قدم پر ''پدرم سلطان بود'' ٹائپ پر مخلوق وافر مقدار میں دکھائی دیتی ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اس کا علاج کوئی نہیں' دعائیں کی جاسکتی ہیں لیکن جب اس مرض کے مریض کو ہی شفا کی خواہش نہ ہو تو دعا اور دوا کیا کرسکتی ہیں۔ ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے اللہ ان کی مغفرت فرمائے' بے وزن شاعری میں ان کا پورے جہان میں طوطی بولتا تھا مگر انہیں یہ زعم تھا کہ غالب و میر کی شاعری ان کی بے تکی شاعری کے سامنے ہیچ ہے۔ اردو کے اولین صاحب دیوان شاعر ولی دکنی مرحوم کو تو وہ کسی کھاتے میں شمار کرنے کو تیار نہیں تھے اس پر ستم یہ کہ ایک بار دعویٰ فرما دیا کہ فارسی کے عہد ساز شاعر حافظ شیرازی کے دیوان کا منظوم اردو ترجمہ کریں گے اور شرح و تفسیر میں ان فنی خامیوں کا ناقدانہ جائزہ بھی لیں گے جو ان کے بقول استاد الاشعراء حافظ شیرازی کے کلام میں موجود تھیں۔ ہم جیسے چند علم و ادب کے طالب علموں نے ان کی خدمت میں درخواست کی کہ ''آپ کے فن کلام پر کلام کرنے والوں کی اپنی علمی حیثیت مشکوک ہے مگر یہ خالصتاً دو ادیبوں کے باہمی تعلقات اور اردو کی مادری زبانوں میں سے ایک فارسی کی آبرو کا سوال ہے اس لئے اگر ممکن ہو تو حافظ شیرازی کے ناکردہ قصور بھی معاف کردیجئے۔ یقین کیجئے بہت مشکل سے مانے مگر شرط یہ رکھ دی کہ اب وہ علامہ اقبال کے علمی محاسن کا تنقیدی جائزہ کرنے کے لئے قلم دوات اور کاغذ سنبھال رہے ہیں۔ خبردار جو کسی ''ناہنجار'' دوست نے مداخلت کی۔ لاکھ سمجھایا کہ علامہ اقبال بلند مرتبہ شاعر ہیں جانے دیجئے کوئی اور کام کیجئے لیکن مان کے نہ دئیے۔ کوئی دو تین سو صفحات پر مشتمل ایک مسودہ لکھ مارا۔ اپنے دولت کدہ پر دوستوں کو طلب کیا اور دھواں دھار انداز میں تقریباً تین گھنٹے تک اپنے نظریات' مطالعے' تجربات و مشاہدات' اصول پرستی کا ڈھول پیٹا اور پھر ان دوستوں کا جی بھر کے مذاق اڑایا جن کا خیال تھا کہ وہ علم سے پیدل' شاعری کے رموز سے ہزار کوس پر کھڑے ڈھنگ سے تک بندی بھی نہیں کرسکتے۔ یہ 1970ء کی دہائی کا بھولا بسرا قصہ یوں یاد آگیا کہ دو تین دن ادھر جب سپریم کورٹ کے سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ پر قائم کئے جانے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی تو بے اختیار ہمیں اپنے مرحوم دوست عاقب علی عمرانی یاد آگئے۔ یہ یاد آوری اس وقت مزید گہری اور طویل ہوگئی جب وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اس پر اپنے ردعمل کے اظہار کے لئے دھواں دھار پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ وزیر داخلہ کے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ بارے خیالات تقریباً ویسے ہی ہیں جیسے مرحوم عاقب علی عمرانی کے حافظ شیرازی کی بلند پایہ شاعری بارے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے وزارت داخلہ' نیکٹا اور دوسرے متعلقہ اداروں کی کارکردگی بارے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کا جواب کون دے گا۔اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیشن کی سماعتی کارروائی کے دوران وفافی وزارت داخلہ اور خود عالی جناب وزیر داخلہ نے تمام تر طلب کردہ معلومات فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ مگر جونہی کمیشن کی رپورٹ جاری ہوئی چودھری صاحب تلملاتے ہوئے میدان میں اترے اور جوڈیشل کمیشن کو ایک سیاسی جماعت سمجھ کر حملہ آور ہوگئے۔ کیا ایک وزیر داخلہ کے شایان شان ہے یہ انداز تکلم؟ اس سادہ سے سوال کا جواب یہ ہے کہ چودھری صاحب عظمت کے اس بلند مینار پر جلوہ افروز ہیں جو ان کا اپنا تعمیر کردہ ہے۔ مگر یہاں مسئلہ ان کی عظمت' ذاتی نجابت' سیاسی زندگی اور ان سے بندھے ہوئے معاملات کا نہیں' بنیادی سوال یہی ہے کہ دہشت گردی کو کم سے کم کرنے کے لئے وفاقی وزارت داخلہ نے جو اقدامات کرنے تھے وہ کیوں نہ ہو پائے۔ اس ضمن میں جو ایک اہم بات ہے وہ یہ کہ کیا وفاقی وزیر داخلہ کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن بارے ویسے ہی خیالات کا اظہار فرمائیں جس طرح کے خیالات وہ سیاسی مخالفین بارے رکھتے کہتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ(ن) اپنے قیام سے اب تک خبط عظمت کے ''گھوڑے'' پر سوار ہے۔ کسی بھی سطح کا لیگی رہنما ہو اس کی سوچ یہی ہوتی ہے کہ ہم درست ہیں باقی سب غلط۔ دو دن ادھر سپریم کورٹ کے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کو انہوں نے یکطرفہ قرار دیا۔ وہ اگر سمجھتے ہیں کہ کمیشن درست طور پر قائم نہیں ہوا تھا تو ان کی وزارت یا پھر وہ انفرادی طور پر ابتدائی مرحلہ میں کمیشن کے رو بر گزارشات پیش کرتے۔ یہ کیا کہ تحقیقاتی سماعتوں کے سارے عمل میں شریک رہنے کے بعد اب جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی اور وزارت داخلہ کی ناقص ترین کارکردگی عوام کے سامنے آگئی ہے تو لنگر لنگوٹ کس کریوں میدان میں اترے جیسے غلام سرور خان کے خلاف انتخابی اکھاڑے میں اترتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے اپنی حکومت کی کوئی خدمت سر انجام دی نہ اپنے لئے ڈنکے بجوالئے بلکہ ہر دو کی سبکی ہوئی' ان کے کلام اور آہ و فغاں سے۔ اب اصولی طور پر یہ وزیر اعظم پر فرض ہے کہ وہ مدبرانہ انداز میں دو قدم آگے بڑھیں اپنے وزیر داخلہ کے خیالات کا نوٹس لیں اور کمیشن کی رپورٹ پر ٹھنڈے دل سے غور کرتے ہوئے اصلاح احوال پر توجہ دیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگروزیر اعظم اپنے وزیر داخلہ کے خیالات سے پیدا شدہ صورتحال کا نوٹس نہیںلیتے تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ وزیر داخلہ کے خیالات درحقیقت پوری حکومت کے خیالات ہیں۔ انہیں یہ نہیں بھولناچاہئے کہ وزیر داخلہ کو پیپلز پارٹی کا غصہ عدلیہ پر نکالتے ہوئے یہ سوچنا چاہئے تھا کہ وہ کن خطرات کو دعوت دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں