حضرت انسان کی کہانی

حضرت انسان کی کہانی

صبح سویرے جب اخبار پر نظر پڑھتی ہے تو حضرت انسان کی خود غرضیوں اور کمینگیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان سے پالا پڑتا ہے یہ انفرادی اور اجتماعی دونوں حوالوں سے لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے طاقتور کمزور کا حق مار رہا ہے ترقی یافتہ اقوام کمزور اقوام کی شہ رگ پر دانت گاڑے ان کا خون چوسنے میں مصروف ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر طرف رائج ہے لیکن حوالے تہذیب کے دیے جاتے ہیں۔ آج کے انسان کو اکیسویں صدی کا انسان کہتے ہوئے بڑا ترقی یافتہ اور سلیم النفس خیال کیا جاتا ہے! آئیے انسان کے تہذیبی سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیںہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ انسان آج بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہا ہے! جب انسان کی زندگی کا آغاز ہوا تو وہ جنگلوں اور غاروں میں رہتا تھا اس کی سب سے بڑی ضرورت اپنی بھوک کو مٹانا تھا۔ اس کے علاوہ دوسری جسمانی ضروریات تھیں۔ پھر اسے شدید موسموں سے مقابلہ بھی کرنا تھا شدید سردی میں اپنے جسم کو ٹھنڈک سے محفوظ رکھنا تھا۔جنگلی جانوروں سے اپنی حفاظت کرنی تھی۔ دن بھر جنگلوں میں پھرتا شکار کرتا اور رات کو کسی غار میں جا کر سو جاتا۔ پھر بہت دیربعد اس نے آگ کو دریافت کیا۔ اس وقت انسان کی آپس کی جنگیں کسی چشمے کے کنارے قیام کرنے پر ہوتیں یا کسی اچھی چراگاہ پر قبضہ کرنے کے لیے۔ زن اور زمین کے جھگڑے تو بہت پہلے شروع ہو گئے تھے البتہ زر کا جھگڑا بہت بعد میں شروع ہوا۔انسان بہت سے نشیب و فراز دیکھنے کے بعد جدید دور میں داخل ہوا ۔ پہیہ ایجاد ہوا تو فاصلے سمٹنے لگے اور پھر جہاز کی ایجاد کے ساتھ ہی زمین اس کے سامنے سکڑ گئی اور وہ چاند اور مریخ پر کمندیں ڈالنے لگا۔ آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں وہ جدید دور کہلاتا ہے نت نئی ایجادات اور دریافتوں کا سفر بڑی تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے۔ انسان کی اب یہ کیفیت ہے کہ اسے خود سمجھ نہیں آرہی کہ دن کب شروع ہوتا ہے اور رات کب پڑتی ہے۔ عمر کا سرکش گھوڑا سر پٹ بھاگ رہا ہے اور اب تو اسے سر کھجانے کی فرصت بھی نہیں ہے۔ چاروں طرف بکھرے جدید دنیا کے حیران کن نظارے اسے اپنے گریبان میں جھانکنے کا موقع بھی نہیں دیتے ۔ اپنے ساتھ مکالمہ کرنا یا اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی کو پانا تو بڑے دور کی بات ہے۔اپنے ہاتھوں بنائی چیزوں کے ہاتھ میں آج کا جدید انسان کھیل رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان نے وحشیانہ زندگی سے تہذیبی زندگی کی طرف ایک طویل سفر کیا ہے ۔ اس کی طرز زندگی میں بہت بڑا فرق بھی آیا ہے ۔ اسے رہنے سہنے کی بہترین سہولتیں بھی آج میسر ہیں۔ ان ساری ترقیوں کے باوجود آج بھی یوں لگتا ہے جیسے حضرت انسان کولہو کے اس بیل جیسا ہے جو آنکھوں پر پٹی باندھے ایک ہی دائرے میں صدیوں سے سفر کررہا ہے۔ انسان کے آغاز اور آج کے جدید دور کا موازنہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان آج بھی اسی غار کے کنارے کھڑا ہے جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا۔ اس وقت بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس پر اس کا ایمان تھا اور آج بھی ہے۔ پہلے ضروریات محدود تھیں تو قتل و غارتگری کا سلسلہ بھی محدود تھا۔ آج ضروریات زیادہ ہیں تو لوگوں کو موت کے گھاٹ بھی وسیع پیمانے پر اتار ا جارہا ہے۔انسان کی بنیادی جبلت آج بھی وہی ہے۔ جو خود غرضیاں اور کمینگیاں پتھر کے زمانے میں تھیں وہ آج بھی ہیں۔پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں لاکھوں لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم ہماری تہذیب کی پیشانی پر لگا وہ داغ ہیں جو دھلائے نہیں مٹتے اور بھلائے نہیں بھولتے۔کیا آج دنیا کا طاقتور ترین ملک اپنے کیک اور پیسٹریاں چھوڑ کر غریب کی روکھی سوکھی روٹی پر نہیں جھپٹتا؟۔ کیا آج افریقہ کے قحط زدہ نحیف ونزار مرتے ہوئے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کسی سے ہو سکا؟آج جسے سائنس و ٹیکنالوجی میں سب پر برتری حا صل ہے کیا اس نے انصاف کے تقاضے پورے کیے۔ اس نے اقوام عالم کے لیے مختلف پیمانے نہیں بنا رکھے۔ کیا وہ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا۔دنیا کے بہت سے چھوٹے چھوٹے ممالک میں وہ اپنی مرضی کے حکمرانوں کو مسند اقتدار پر فائز نہیں کر رہا؟ ا نسان کی ترقی اور کامیابی کی داستانیں حیرت انگیز ہیں اس نے کیا کچھ فتح نہیں کیا۔ اس نے اپنی ہمت کے مظاہرے کہا ں کہاں نہیں کیے۔اس نے دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا۔ اس نے آسمان پر چمکتے ہوئے چاند کو دیکھا تو اسے بھی تسخیر کر ڈالا۔ اس نے لاکھوں کروڑوں کہکہشائیں دریافت کرڈالیں افسوس صد افسوس کہ کائنات کی ہر چیز کو مسخر کرلینے والا انسان اپنے آپ کو فتح نہیں کرسکایہ اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ نہیں پاسکا! 

متعلقہ خبریں