معاملات کے کھوٹے

معاملات کے کھوٹے

بسا اوقات انسان کو زندگی میں ایسا دھچکہ لگتا ہے کہ انسانیت پر اس کا اعتماد کرچی کرچی ہو کر رہ جاتا ہے۔

میں دوستوں کی محفل میں اکثر کہتا ہوں کہ جس شخص میں صلہ رحمی نہیں، انسانیت کا درد نہیں وہ ہرگز اس قابل نہیں کہ اسے انسان سمجھا جائے۔اور اخلاقیات سے گرا ہوا شخص جوبد زبان بھی ہو،ہرگز اس قابل نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی تعلق استوار کیا جائے۔
غلامی کا دور لد چکا لیکن خوئے غلامی آج بھی ہمارے ارد گرد پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی انسان اپنے ہی جیسے انسان کا بدترین استحصال کر رہا ہے۔اگر آپ چند لوگوں کے اوپر ایڈمنسٹریٹر بنا دیئے جائیں تو آپ کو اس سیٹ پر بٹھانے والے آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ اپنے زیر سایہ کام کرنیو الوں کے ساتھ سخت رویہ رکھیں اوروہ ٹھیک کام کر رہے ہوں تب بھی ان کے ساتھ آپ کا رویہ درشت ہونا چاہئے۔ اگر آپ نرم رویہ رکھیں گے،صلہ رحمی سے کام لیں گے تو جنہوں نے آپ کو بہت سے لوگوں کے اوپر حاکم بنایا،وہ آپ سے ناراض رہیں گے اور آپ کے اوپر ناکامی کا ٹھپہ لگا دیں گے۔(ان کی مائوں نے انہیں آزاد جنا تم نے انہیں کب سے غلام بنا لیا۔ حضرت عمر)
یادش بخیر اپنی صحافتی زندگی میںبڑے بڑے دبنگ لوگوں کے انٹر ویوز کئے۔ نواب اکبر بگٹی، سردار عطا اللہ مینگل جیسے لوگوں کو میں نے بہت اکھڑ پایا کہ یہ لوگ جس بیک گرائونڈ سے تھے وہاںنرمی اور صلہ رحمی کا کوئی گزر نہیں لیکن اس دشت کی سیاحی میں ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑا جوکوئی سردار یا نواب نہیں تھے لیکن اپنے زیر نگیں لوگوں کو بے عزت کرنا اور بات بے بات ان کی ہتک کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے تھے۔
اللہ بخشے نواب زادہ نصر اللہ خان بڑے ہی مرنجان مرنج انسان تھے۔ اپنے ملازموں کے ساتھ ان کا رویہ شفیق باپ جیسا تھا۔پیپلز پارٹی میں مجھے بہت سے اہم لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملا،ان میں حاکمانہ پن نہیں تھا یا بہت ہی کم تھا۔خود زرداری صاحب میں یہ بڑی صفت ہے کہ وہ اپنے ساتھ کی ہوئی اچھائی کو کبھی نہیں بھولتے۔ اے این پی کے زاہد خان اکثر پنڈی کی رہائش گاہ پر ملتے تو یوں کہ جیسے برسوں کے بچھڑے ملے ہوں۔ افضل لالہ اتنی محبت سے ملتے کہ جیسے گہرے دوست ملتے ہیں۔چوہدری شجاعت اور پرویز الہٰی میں بڑی عاجزی پائی،معلوم نہیں آج کے سیاسی قائدین میں اتنی اکڑ کیوں ہے۔نواز شریف ہوں یا شہباز شریف، عمران خان ہوں یا پرویز خٹک ان کے انداز حاکمانہ ہیں۔
کچھ لوگ یو کے سے پاکستان آئے۔مجھے ان کے ساتھ کچھ عرصہ کام کرنے کا موقع ملا۔واضح طور پر مزاج حاکمانہ تھے۔ اپنے ایک دیرینہ دوست سے تذکرہ کیا تو قہقہہ لگا کر بولے، بھولے بادشاہ،وہ پائونڈوں میں سوچتے اور بولتے ہیں اور تم روپے میں۔ظاہر ہے تمہارا حال وہی ہوگا جو پائونڈ کے مقابلے میں روپے کا ہے۔میں نے سنجیدگی سے کہا آپ کا اشارہ یورپ کے مسلمانوں کی طرف ہے یا آپ نے گوروں کو بھی ساتھ لپیٹ دیا ہے؟ کہنے لگے یورپ کے مسلمانوں کی بات کر رہا ہوں رہے گورے تو انہیں پتہ ہی نہیں کہ غرور وتکبر کس چڑیا کا نام ہے؟
کچھ سال پہلے مجھے ایک اٹالین جرنلسٹ کے ساتھ کچھ روز پاکستان میں کام کرنے کا موقع ملا۔ میری خدمات لینے سے پہلے سوال کیا ایک دن بطور ٹرانسلیٹراور گائیڈ کے کتنا معاوضہ لو گے؟ میرے منہ سے نکلتے نکلتے رہ گیا کچھ بھی نہیں،آپ ہمارے مہمان ہیں،برق کے کوندے کی طرح میرے ذہن میں اپنے ایک قریبی دوست کے الفاظ گونجے، یورپی گورے اس بات کو برا سمجھتے ہیں کہ آپ بلا معاوضہ ان کو خدمات دیں۔میں نے اگلے ہی لمحے اٹالین سے کہا دو سو ڈالر۔ اس نے کہا ڈن، آپ کو ایک ہفتہ میرے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ ہفتہ گزر گیا تو اس نے میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں مجھے ڈنر پر مدعو کیا۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے مجھے کہنے لگا، تم نے میرے ساتھ ایک ہفتہ کام کیا ۔دو سو ڈالر فی دن کے حساب سے تمہارا معاوضہ چودہ سو ڈالر بنا۔ پھر سو سو ڈالر کے چودہ نوٹ گن کر مجھے تھمائے اور میرے ساتھ گرمجوشی سے ہاتھ ملا کر کہنے لگا ،میرا تمہارا حساب کتاب صاف، چلو اب کھانا کھاتے ہیں۔( مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو)۔
اگلے روز جب میں کرنسی تبدیل کرانے گیا تو مجھے ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانی روپے ملے تو میں نے سوچا یہ لوگ معاملات میں کتنے کھرے ہیں۔ اس نے میرے کام کی قیمت چھ لاکھ روپے مہینہ لگائی اور ایک ہفتے کامعاوضہ چودہ سو ڈالر ادا کیا۔ وہ کہ جنہیں ہم کافر کہتے ہیں،معاملات میں اتنے کھرے ہیں کہ ہم فرانس کابنا ہوا شہد ،سپین کا بنا ہوا زیتون کا تیل پورے اعتماد سے گھر اٹھا لاتے ہیں کہ خالص ہوگا،لیکن پاکستان کی جس دکان پر یہ حدیث بھی لکھی ہو کہ ''ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں'' اس دکان سے شہد لے بھی لیں تو ہمیں اس کے خالص ہونے کا یقین نہیں ہوتا۔اللہ جانتا ہے کہ مسلمان معاملات میں اتنا کھوٹا ہے کہ اس کی وجہ سے کسی کی جان بھی چلی جائے تو اس کی بلا سے۔ ہمارے بچوں کو خشک دودھ کے نام سے زہر پلایا گیا۔ہمیں سرخ مرچوں میں لکڑی کا برادہ ملا کر کھلایا گیا۔ چائے کی پتی کو جانوروںکے خون سے رنگ کر اس پر رنگ چڑھایا اور ہمارے معدوں میں اتارا گیا۔علامہ اقبال کے اس مصرعے پر بس کرتا ہوں۔ '' یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود''۔

متعلقہ خبریں