مشرقیات

مشرقیات

خلیفہ عمر بن عبدالعزیز حمص کے بازار میں گھوم رہے تھے۔ اتنے میں ایک آدمی ان کے پاس آیا جو دھاری دار چادر زیب تن کئے ہوئے تھا اس نے عرض کیا: اے امیر المومنین! آپ کا حکم ہے جو کوئی مظلوم ہو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو؟عمر بن عبدالعزیز نے کہا: ہاں۔وہ شخص بولا: پھر آپ کی خدمت میں دور دراز علاقے سے چل کر ایک مظلوم حاضر ہوا ہے۔
عمر بن عبدالعزیز نے پوچھا۔
تیرا خاندان کہاں ہے؟
وہ بولا: ابین (یمن کا ایک صوبہ) سے بھی دور۔
عمر بن عبدالعزیز: اللہ کی قسم! تیرا خاندان عمر کے خاندان سے بہت دور ہے۔ یہ کہہ کر اپنی سواری سے فوراً اتر گئے اور پوچھا: تیرے اوپر کیسا ظلم ڈھایا گیا ہے؟ پردیسی: میری غلہ اگانے والی زمین پر ایک آدمی نے ناجائز قبضہ جمالیا ہے اور مجھے اس سے یکسر بے دخل کردیا ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کا قضیہ سن کر عروہ بن محمد کو لکھا کہ وہ اس مظلوم کی داستان اور شہادت سنے اور جب اس کا حق ثابت ہو جائے تو اسے واپس دلادے۔ یہ خط لکھ کر اپنی مہر لگادی۔
جب پردیسی نے واپسی کے لئے اٹھنا چاہا تو عمر بن عبدالعزیز نے اس سے کہا:
ٹھہرو' تم دور دراز علاقے سے حاضر ہوئے ہو۔ راستے میں تمہارا کتنا زیادہ سفر خرچ ہوا ہے' یا سواری پر تمہاری کتنی لاگت آئی ہے اور کتنے کپڑے بدلنے پڑے ہیں؟ان سب کا حساب لگایا گیا تو لاگت پندرہ دینار تک پہنچی' چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اسے یہ رقم دے کر روانہ کیا۔حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ عبدالملک بن مروان کے بھتیجے اور داماد تھے۔ ان کی ماں ام عاصم حضرت عمر فاروق کی پوتی تھیں۔ ان کے والد عبدالعزیز 21 سال تک مصر کے گورنر رہے۔ ولید نے عمر بن عبدالعزیز کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا۔ 99 ھ میں خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی وفات پر اس کی وصیت کے مطابق عمر نے منصب خلافت سنبھالا۔ انہوں نے اموی خاندان کے ہاتھوں غصب شدہ جاگیریں اصل حقدار کو لوٹا دیں۔ نیز مصارف بیت المال کی اصلاح کی۔101 ھ میں اموی اکابر کی سازش سے زہر خورانی کے نتیجے میں آپ انتقال کرگئے۔
(تاریخ اسلام)
ایسے بھی ہمارے حکمران گزرے ہیں جن کے مثالی قصے اب صرف پڑھنے کو ہی ملتے ہیں۔ حکمران کا طرز عمل اسی طرح ہونا چاہئے کہ عوام کو اولاد سمجھیں نہ کہ غلام ان کے مسائل کے حل کو اپنے عیش وآرام پر ترجیح دیں۔ مگر آج کے دور میں اس کے برعکس صورتحال ہم دیکھ رہے ہیں۔ عوام کے حقوق کی حفاظت تو کجا ان کو انصاف فراہم کرنے میں بھی لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدامنی کا ہمارے معاشرے میں راج ہے۔ ہمارے حکمران اگر انصاف پسندی کے اصول پر عمل پیرا ہو جائیں توکوئی وجہ نہیں کہ ہمارا معاشرہ ایک بار پھر اس سنہرے دور کی یاد تازہ کردے۔

متعلقہ خبریں